امریکی طیارہ بردار بحری جہاز پر خودکشی کے واقعات، سینیٹرز نے تحقیقات کا مطالبہ کردیا

طویل عرصے تک جاری رہنے والی اس تعیناتی کے باعث جہاز پر موجود فوجیوں کو مسلسل آپریشنل دباؤ کا سامنا ہے

واشنگٹن: امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹ سینیٹرز نے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن پر موجود عملے کے حالات کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ جہاز پر خوراک کی قلت، پانی کی آلودگی، خراب پلمبنگ اور عملے میں بڑھتے ذہنی دباؤ سے متعلق رپورٹس سامنے آنے کے بعد کیا گیا۔

امریکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو خط لکھ کر بحری جہاز پر موجود تقریباً 5 ہزار امریکی فوجیوں اور اہلکاروں کے حالات کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سینیٹر بلومینتھل نے کہا کہ یو ایس ایس ابراہام لنکن مسلسل 250 سے زائد دنوں سے تعینات ہے جبکہ اسے 200 سے زیادہ دنوں سے کسی بندرگاہ پر واپس آنے کا موقع نہیں ملا۔ ان کے مطابق یہ مسلسل سمندر میں رہنے کا ایک نیا ریکارڈ ہے، جس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

رپورٹس کے مطابق طویل تعیناتی کے دوران جہاز پر بنیادی ضروری اشیا کی قلت، پینے کے پانی سے متعلق خدشات، پلمبنگ کے مسائل، ڈیک کی سکیورٹی اور عملے کی ذہنی صحت خراب ہونے جیسے مسائل سامنے آئے ہیں۔

سینیٹر بلومینتھل نے خاص طور پر عملے کی ذہنی صحت کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے تک گھر اور خاندان سے دور رہنے والے فوجیوں پر اس صورتحال کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یو ایس ایس ابراہام لنکن پر تعینات اہلکاروں کے اہل خانہ نے بھی حالیہ دنوں میں امریکی بحریہ کی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں کیں، جہاں انہوں نے جہاز پر موجود مشکلات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

اہل خانہ نے خوراک کی قلت سمیت دیگر مسائل کی شکایات کرتے ہوئے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ان کے عزیز کب واپس گھر آئیں گے۔

رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض اہلکار شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے اور جہاز پر خودکشی کی کوششوں کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ تاہم ان واقعات کی مکمل تفصیلات سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

یو ایس ایس ابراہام لنکن نے 21 نومبر 2025 کو امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو سے اپنے مشن کا آغاز کیا تھا۔ ابتدائی طور پر اسے بحیرہ جنوبی چین میں تعینات کیا گیا، تاہم بعد میں اسے مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا گیا۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف 28 فروری کو شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں سے قبل ہی جہاز کو خطے میں منتقل کیا جا چکا تھا۔

طویل عرصے تک جاری رہنے والی اس تعیناتی کے باعث جہاز پر موجود فوجیوں کو مسلسل آپریشنل دباؤ کا سامنا ہے۔

امریکی سینیٹرز کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے لیے فوجی تعیناتیاں ضروری ہو سکتی ہیں، تاہم اس کے ساتھ فوجیوں کی بنیادی ضروریات، صحت اور فلاح و بہبود کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی بحریہ کے کسی بڑے طیارہ بردار بحری جہاز پر خوراک، پانی، رہائش اور ذہنی صحت سے متعلق اتنی شکایات سامنے آنا غیر معمولی معاملہ ہے۔

اگر تحقیقات میں ان شکایات کی تصدیق ہوتی ہے تو امریکی بحریہ کو طویل تعیناتیوں کے طریقہ کار، فوجیوں کی ذہنی صحت اور جہاز پر بنیادی سہولیات سے متعلق اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لینا پڑ سکتا ہے۔

Load Next Story