میر رضا کا بزنس پارٹنر گرفتاری سے بچنے کیلیے عدالت پہنچ گیا، پولیس پر ہراساں کرنے کا بھی الزام
کراچی کے تاجر میر رضا کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں متوفی کے کاروباری شراکت دار (بزنس پارٹنر) نے گرفتاری سے بچنے کیلیے عدالت سے رجوع کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں تاجر میر رضا علی بزنس پارٹنر محمد احمد نے ضمانت قبل از گرفتاری کےلئے عدالت سے رجوع کرلیا۔
بزنس پارٹنر محمد احمد نے عبوری ضمانت کیلیے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں درخواست دائر کی جس پر عدالت نے ایک لاکھ روپے عوض ضمانت منظور کرتے ہوئے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔
عدالت نے ضمانت منظور کرتے ہوئے سماعت 15 اگست تک ملتوی کردی جبکہ تفتیشی افسر اور درخواست گزار کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔
درخواست گزار کے وکیل ایڈوکیٹ خالد ممتاز نے کہا کہ میرے مؤکل کے مقتول سے تجارتی معاملات تھے، پولیس کی جانب سے اغوا اور قتل کے مقدے میں اسے بھی شامل تفتیش کیا جارہا ہے اور تعاون کے باوجود پولیس ہراساں کررہی ہے جبکہ خدشہ ہے کہ اسے گرفتار کرلیا جائے گا۔
وکیل نے کہا کہ میرا موکل محمد احمد مقتول کا بزنس پارٹر تھا، ایک دکان پر احمد چلاتا تھا اور دوسری میر رضا، پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جارہا ہے۔