گڈز ٹرانسپورٹرز کے حکومتوں کے ساتھ مذاکرات ناکام، ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان

ہڑتال کے باعث ملکی معیشت کو اب تک تقریباً 50 ارب روپے کا نقصان پہنچنے کا اندازہ ہے، عہدیدار

گڈز ٹرانسپورٹرز اور وفاقی و صوبائی نمائندوں کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر ناکام ہوگئے جس کے بعد ایسوسی ایشن نے ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال جمعرات کو چھٹے روز بھی جاری رہی، اس سے قبل وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ محمد جنید انور، کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم کے چئیرمینز، ڈی آئی جی ٹریفک پی رمحمد شاہ سمیت دیگرکے ہمراہ کے پی ٹی پہنچے۔

میں صبح کےوقت ہونےوالے مذاکرات بےنتیجہ نکلے۔

صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد ملک شہزاد اعوان کے مطابق  وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شیپنگ اور سندھ  حکومت کے نمائندوں سے ہونے والے مذاکرات ناکام  ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور سندھ حکومت ہمارے مسائل کے حل کیلیے سنجیدہ نہیں، جب تک مطالبات تسلیم اور نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوتا ملک گیر ہڑتال جاری رہے گی۔

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر پہیہ جام ہڑتال آج بھی جاری ہے اور مطالبات تسلیم ہونے تک ہڑتال جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہڑتال کے باعث ملکی معیشت کو اب تک تقریباً 50 ارب روپے کا نقصان پہنچنے کا اندازہ ہے، جبکہ ہڑتال جاری رہنے کی صورت میں معاشی نقصان میں مزید اضافہ ہوگا۔

Load Next Story