پانی کی ایک ایک بوند ریڈ لائن ہے، بھارت راہ راست پر نہ آیا تو براہ راست جواب دیا جائے گا، وزیر اعظم

ہم عزت اور وقار کے ساتھ امن کے لیے کھڑے ہیں اور اس خطے میں استحکام کی ضمانت بن چکے ہیں، شہباز شریف

فوٹو: اسکرین گریب

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے پانی کی ایک،ایک بوند ہماری ریڈ لائن ہے اگر بھارت راہ راست پر نہ آیا تو براہ راست جواب دیا جائے گا، ہم جنگ نہیں امن چاہتے ہیں لیکن امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں یاد گار افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یادگار فتح ہماری عظیم قوم کے عزم و ہمت مسلح افواج کے زور بازو، ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور دشمن کے مقابلے میں ان کی برتری کی علامت ہے، ہماری بہادر مسلح افواج اور اس کی دلیر قیادت کے ہمراہ اس عظیم الشان یادگار فتح کا افتتاح کرتے ہوئے ہمارے دلوں میں جذبات کا طوفان امڈ رہا ہے اور آرزوں کا سمندر ٹھاٹیں مار رہا ہے، جذبات پاکستان کی عظیم الشان فتح اور اس کی خوشی کے اور آرزوئیں اپنے وطن کو مزید خوب صورت، مستحکم اور خوش حال بنانے کے لیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس موقع پر پوری قوم کو معرکہ حق میں عظیم الشان کامیابی پر صمیم قلب سے مبارک باد اور فیلڈ مارشل کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، اس فیصلہ کن مرحلے پر ان کی دلیرانہ قیادت ہماری مسلح افواج نے دشمن کو عبرت ناک شکست دی وہ تاریخ کا ناقابل فراموش واقعہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یادگار فتح کے بامقصد ڈیزائن اور نفیس طرز تعمیر انتہائی کم وقت میں ہوئی ہے، اس حوالے سے پوری ٹیم کو مبارک باد دیتا ہوں جنہوں نے اس کے لیے کام کیا، یادگار فتح صرف ایک عمارت نہیں بلکہ ان عظیم شہدا کو خراج عقیدت ہے جنہوں نے دفاع وطن کے لیے شہادت کے جذبے سے سرشار ہو کر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان غازیوں کو خراج تحسین ہے جنہوں نے دشمن کے مقابلے میں بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا اور یہ یادگار اس عظیم قوم کے اتحاد کی علامت ہے جو مشکل ترین وقت میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔

خطے میں استحکام کی ضمانت بن چکے ہیں، وزیراعظم

وزیراعظم نے کہا کہ یہ فتح پاکستانی عوام، افواج کی فتح ہے اور یہ فتح ہم سب کی ماتھے کا جھومر ہے، ہم جنگ نہیں امن چاہتے ہیں لیکن امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم عزت اور وقار کے ساتھ امن کے لیے کھڑے ہیں اور اس خطےمیں استحکام کی ضمانت بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مئی 2025 کے معرکے کا یہ پیغام پوری دنیا تک پہنچ چکا ہے اور دنیا جانتی ہے کہ اس معرکے نے پاکستان کے وقار میں ایسا غیرمعمولی اضافہ کیا ہے، جس کی عصر حاضر میں مثال نہیں ملتی، یہ حقیقت اب بھی کسی کی سمجھ میں نہیں آئی تو اس کے لیے ہمارا پیغام واضح ہے کہ وہ پانی عبرت ناک شکست کو یاد رکھے اور اگر آئندہ کسی نے بھول سے بھی پاکستان کی خود مختاری اور سلامتی کو چیلنج کیا تو اس سے مئی 2025 سے بھی زیادہ قوت کے ساتھ منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ برس جنگ میں شکست کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ اور غیرقانونی طور پر معطل کرکے خود کو امن کا دشمن ثابت کیا ہے، میں واشگاف الفاظ میں اعلان کرتا ہوں کہ پاکستان کے پانی کی ایک ایک بوند ریڈ لائن ہے، بھارت راہ راست پر نہ آیا تو اس سے براہ راست جواب دیا جائے گا۔

یاد گار فتح قومی سفر کا سنگ میل ہے، وزیراعظم

انہوں نے کہا کہ یادگار فتح ہمارے اس قومی سفر کا ایک سنگ میل ہے جس کی منزل ایک خوش حال، مستحکم اور فلاحی پاکستان ہے، ایسا پاکستان جو ترقی یافتہ اقوام کی صف اول میں نمایاں دکھائی دے، یہ سفر دفاع وطن کا بھی ہے اور تعمیر وطن کا بھی، ہم نے معاشی ترقی کے عمل کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا اور نئی نسل کے لیے ترقی کے دروازے کھولنے ہیں، انسانی وسائل کو مزید ترقی دینے ہیں تاکہ ارض پاک میں ترقی و خوش حالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو جہاں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بسنے والے پاکستانی مل کر ترقی کی منازل طے کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی اور اے آئی نے تبدیلی پیدا کی ہے، یہ ایک نئی دنیا ہے، جس میں جینے کے طور طریقے بھی نئے ہیں جو آئی ٹی اور اے آئی کے ساتھ جینے کا ہنر جانتی ہو، ان تبدیلیوں مطابق خود ڈھالنے ہے، نئی چیزیں ایجاد کریں اور نئی دنیا آباد کریں اور وعدہ ہے حکومت حتی المقدر تمام وسائل فراہم کرے گی۔

تنازعات انصاف، اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق حل کرنے کی خواہش ہے، وزیراعظم

انہوں نے کہا کہ ہم خطے کو تنازعات سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں، ہم تنازعات کو انصاف اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق حل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ہماری کوشش ہے کہ دنیا نئے تنازعات سےمحفوظ رہے، یہی وہ جذبہ تھا جس کے تحت پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان ذمہ دار ثالث کا کردار ادا کیا، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے تاریخی کردار ادا کیاْ

شہباز شریف نے کہا کہ پچھلے سال برادر اسلامی ملک سعودی عرب سے ایک دفاعی معاہدہ طے پایا اور اب ترکیہ بھی مکہ میں طے پائے جانے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے کا حصہ بن چکا ہے، یہ مشرق وسطیٰ کے لیے امن کی بشارت اور عالم اسلام کے لیے امن کی نوید اور ساری دنیا کے لیے امن کا پیغام ہے، اس معاہدے کو حقیقت کا روپ دینے میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کاوشیں کی ہیں، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے لگن سے کام کیا ہے۔

فلسطین، کشمیر کے حق خودارادیت کی مدد جاری رکھیں گے، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم مظلوم فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت، مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل اور پائیدار امن کے لیے اپنی اصولی حمایت جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں ہمارا مؤقف دو ٹوک ہے، ہم کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھیں گے، ان کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور بھارتی جبر کے پنجے آزادی کے لیے ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھیں گے، جب تک کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو ان کا بنیادی حق نہیں ملتا۔

افغانستان میں امن و استحکام چاہتے ہیں، وزیراعظم

وزیراعظم نے کہا کہ ہم افغانستان میں بھی امن اور استحکام چاہتے ہیں لیکن افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے خلاف استعمال ناقابل برداشت ہے، ہم ایک دوسرے کے ہمسایے ہیں، ہمیں ہمیشہ اسی طرح رہنا، میرا افغان قیادت کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ بننے سے فی الفور روک دیں۔

انہوں نے کہا کہ تاریخی موقع پر اپنے عظیم دوست چین اور اس کے صدر شی جن پنگ کی لازوال دوستی اور مخلصانہ تعاون کا ذکر انتہائی ضروری سمجھتا ہوں، چین اور پاکستان کی دوستی ہمالیہ سے بلند ہے، عظیم دوست ملک آزمائش کی ہر گھڑی میں پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا ہے۔


وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہمارے انتہائی دوست اور برادر ملک سعودی عرب، ترکیہ، قطر ، کویت، آذربائیجان اور ایران اور دیگر برادر اسلامی اور دوست ممالک کی ہمارے دل میں بےپناہ قدر ہے، ان شااللہ یہ تعلقات مزید پھلتے پھولتے رہیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے گزشتہ برس پاکستان اور بھارت کے درمیان بروقت جنگ بندی کروا کر لاکھوں معصوم جانوں کو ہلاکت خیزی سے بچانے کے لیے مؤثر اور تاریخی کردار ادا کیا، امریکا کے ساتھ تعلقات فروغ پا رہے ہیں۔

عہد کریں اپنے فرائض ایمان داری سے انجام دیں گے، وزیراعظم

وزیرعظم نے کہا کہ جنگ کے دنوں میں پاکستان نے ثابت کیا کہ جب قوم متحدہ ہو تو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی، اب ہمیں امن اور ترقی کے دنوں میں بھی یہی اتحاد برقرار رکھنا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم آپس میں اختلافات بھلا کر نفرتوں کو دفن کریں اور محبتوں کو زندہ کریں، پاکستان سب کا ہے، ہم سب اس کے وارث ہیں، اختلاف رائے بنیادی حق ہے لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کی جائے تو قومی طاقت کمزوری میں بدل جاتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ گزارش کروں گا ہم عہد کریں کہ ہم سب پاکستانی اپنے فرائض محنت، خلوص، لگن اور ایمان داری سے انجام دیں گے۔

قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے یادگار فتح کا افتتاح کردیا۔

 

Load Next Story