ملکی معیشت میں بہتری، پرائمری سرپلس 26 سال کی بلند ترین سطح پر
فوٹو: فائل
ملکی پرائمری سرپلس 26 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا مالی خسارہ گزشتہ 22 سالوں کے دوران اپنی کم ترین سطح پر آچکا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سال 26-2025 کے دوران مالی خسارہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 2.6 فیصد تک محدود رہا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسی عرصے کے دوران پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 2.9 فیصد تک پہنچ گیا، جو 26 سالوں میں بلند ترین ریکارڈ ہے۔ حکام کے مطابق مسلسل 3 سال سے پرائمری سرپلس کا تسلسل برقرار ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق مالی سال کے دوران ملکی محصولات 19 ہزار 800 ارب روپے رہے، جن میں 14 ہزار 800 ارب روپے ٹیکس کی مد میں حاصل ہوئے۔ سود کی مد میں ادائیگیوں کا بوجھ نمایاں طور پر کم ہو کر 6 ہزار 950 ارب روپے رہ گیا، جو گزشتہ سال 8 ہزار 900 ارب روپے تھا۔
وزارت خزانہ کے مطابق گزشتہ سال دفاعی اخراجات 18 فیصد اضافے کے ساتھ 2588 ارب روپے رہے۔ سبسڈیز کی مد میں 22 فیصد کمی دیکھی گئی اور اخراجات 1300 ارب سے کم ہو کر ایک ہزار ایک ارب روپے رہے۔
اسی طرح ترقیاتی اخراجات 786 ارب روپے سے کم ہو کر 727 ارب روپے کی سطح پر ریکارڈ کیے گئے۔