اسلام آباد مارچ کی قیادت خود کروں گا اس بار عمران خان کے بغیر واپسی نہیں ہوگی، سہیل آفریدی
وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ کوئی طاقت کوئی دولت تخت و تاج ہمیں بانی چیئرمین عمران خان کے ویژن سے ہٹا نہیں سکتی یہ کرسیاں ہمارا مقصد نہیں، 27 ستمبر کو 20 لاکھ لوگوں کو لے کر اسلام آباد جائیں گے۔
وہ گزشتہ روز سپین خاک ضلع نوشہرہ میں میگا شجر کاری مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے تھے، وزیر اعلیٰ نے پودا لگا کر شجر کاری مہم کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان، معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور غازی اور دیگر ارکان اسمبلی بھی موجود تھے۔
وزیراعلی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے بھر میں ایک دن میں 14 لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، محکمہ جنگلات کی کاوشوں سے 17 لاکھ پودے لگائے گئے، صوبائی حکومت عوام کا پیسہ ایسے منصوبوں پر خرچ کر رہی ہے جن کے ثمرات آنے والی نسلوں تک پہنچیں گے، محکمہ جنگلات کی کارکردگی قابل تحسین ہے، گڑھی چندن کے مقامی لوگوں کو جنگلات سے حاصل آمدن میں سے 7 کروڑ روپے ملے، حالیہ اچانک سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ کے واقعات کے پیش نظر شجرکاری مہم صوبے کے کونے کونے تک پھیلائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی اولین ترجیح عوام کی فلاح و بہبود ہے، سیاسی جدوجہد کے ساتھ آنے والی نسلوں کے لیے منصوبوں پر بھی کام کر رہے ہیں، خیبرپختونخوا حکومت کے موجودہ تمام اقدامات کا وژن اور تصور عمران خان نے پیش کیا تھا، ہم پی ٹی آئی میں قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے لیے شامل ہوئے، مقصد کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سپین خاک کے عوام 27 ستمبر کے عوامی اجتماع میں بھرپور شرکت کریں۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ جنگلات کو تمام جنگلاتی علاقوں میں سیاحتی جھونپڑیاں قائم کرنے کی ہدایت کی، وزیراعلیٰ نے سرسبز خیبرپختونخوا کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے شجر کاری مہم کو صوبے کے کونے کونے تک وسعت دینے کی ہدایےلت کی انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سیاحوں کو راغب کیا جائے، ہر غیر ملکی سیاح سے اپنے نام سے ایک پودا لگوایا جائے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی جدوجہد کے ساتھ بہتر حکمرانی بھی کررہے ہیں، عمران خان کو ناحق قید میں رکھا گیا ہے، ان کی رہائی کے لیے 27 ستمبر لانگ مارچ کو کامیاب بنانا ہے، ہمیں ان کی رہائی کے لیے نکلنا ہے، کوئی طاقت کوئی دولت تخت و تاج ہمیں بانی چیئرمین کی ویژن سے ہٹا نہیں سکتی، یہ کرسیاں ہمارا مقصد نہیں ہے اور نہ رہا ہے، نوجوان موجودہ نظام سے مایوس ہوچکے ہیں، امید ہے 20 لاکھ سے زائد افراد اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے، لانگ مارچ کی قیادت میں خود کروں گا اور اس بار عمران خان کی رہائی بغیر واپسی نہیں ہوگی۔