وفاقی حکومت پیٹرولیم ڈیلرز کے دباؤ میں آگئی، منافع بڑھانے کی منظوری

وفاقی وزیر خزانہ کی زیرصدارت اجلاس میں تبادلہ خیال کیا گیا اور پیٹرولیم ڈیلرز کا منافع بڑھا دیا گیا ہے، ذرائع

فوٹو: اے آئی

وفاقی حکومت منافع بڑھانے کے لیے پیٹرولیم ڈیلرز کے دباؤ میں آگئی اور کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی)نے پیٹرولیم مصنوعات پر نظرثانی کی منظوری دیتے ہوئے پٹرولیم ڈیلرز کا مارجن بڑھا کر 9.98 روپے فی لیٹر تک کردیا ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس فنانس ڈویژن میں ہوا، جس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی سیکریٹریز اور متعلقہ وزارتوں و ڈویڑنز کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے حوالے سے بتایا گیا کہ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ سمری پر غور کیا گیا اور موٹر اسپرٹ (ایم ایس) اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر ڈیلرز کے مارجن میں نظرثانی کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پیٹرولیم ڈیلرز منافع بڑھانے کے لیے حکومت کو دباؤ میں لانے میں کامیاب ہوگئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پیٹرولیم ڈیلرز کے ایک گروپ کی ہڑتال کی دھمکی پر حکومت نے ای سی سی اجلاس طلب کرکے پیٹرولیم مصنوعات پر مارجن پر نظرثانی کی منظوری دے دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم ڈیلرز کا مارجن بڑھا کر 9.98 روپے فی لیٹر تک کردیا گیا ہے جبکہ پہلے پیٹرولیم مصنوعات پر 8.64 روپے فی لیٹر ڈیلرز مارجن وصول کیا جا رہا تھا۔

Load Next Story