امریکا کی نئی جوہری پالیسی دنیا میں عسکری بالادستی قائم رکھنے کیلیے ہے، شمالی کوریا
بیلسٹک میزائل تجربہ اُس وقت کیا گیا جب جاپانی وزیر خارجہ جنوبی کوریا کے دورے پر ہیں
شمالی کوریا نے امریکا کی زیر غور نئی جوہری حکمتِ عملی کو عالمی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ پالیسی جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ کو ہوا دے گی اور دنیا کو ایٹمی تصادم کے مزید قریب لے جا سکتی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں امریکی جوہری پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امریکا طویل عرصے سے جوہری ہتھیاروں کو عالمی بالادستی اور اپنے سیاسی و عسکری مفادات کے حصول کا ذریعہ بناتا آرہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی جوہری نظریے میں کسی بھی ایسی تبدیلی کے نتیجے میں موجودہ جوہری توازن متاثر ہوسکتا ہے جس سے مختلف ممالک اپنی جوہری صلاحیت بڑھانے کی دوڑ میں شامل ہوجائیں گے۔
شمالی کوریا کے الزامات کے برعکس امریکی نائب وزیر دفاع ایلبرج کولبی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ انہیں زیر غور جوہری حکمتِ عملی میں کسی بڑی یا بنیادی تبدیلی کی توقع نہیں۔
یاد رہے کہ شمالی کوریا کا تازہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب حال ہی میں ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں دوسرا میزائل تجربہ کیا ہے۔
شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل سے سمندر کی جانب ایک بیلسٹک میزائل داغا جبکہ اس سے تقریباً چھ روز قبل بھی مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کیا گیا تھا۔