ایران جنگ: امریکا کی ناکامی
مغربی ایشیاء میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف امریکی انتظامیہ کے تضادات پر مبنی اقدامات نے نہ صرف خطے کو عدم استحکام سے دوچار کیا ہے، بلکہ خود امریکا کے اندر اور مغرب کے دفاعی و سیاسی ماہرین میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔امریکی اور مغربی ذرائع ابلاغ پر گفتگو کرنے والے سیاسی ماہرین کاکہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر جنگ مسلط کر کے ایک ایسی غلطی کی ہے جو ماضی میں کسی امریکی صدر نے کرنے کی ہمت نہیں کی تھی۔
تبصروں میں یہ بات بھی زیر بحث آ رہی ہے کہ امریکا کے ماضی کے صدور اگر چہ طاقتور تھے لیکن وہ جانتے تھے کہ ایران کوئی تر نوالہ نہیں ہے کہ جہاں آسانی سے فوجی برتری حاصل کر لی جائے گی۔ امریکی مبصرین کے درمیان یہ موضوع بھی زیر بحث ہے کہ ایران نے گزشتہ چالیس برس میں تمام تر معاشی اور عسکری پابندیوں کے باوجود اپنی عسکری اور فوجی صلاحیتوں میں بے پناہ اضافہ کیا ہے جوناقابل یقین حد تک پہنچ چکا ہے۔ حال ہی میں امریکی بحریہ کے سابق افسر میٹ بریکن (Matt Bracken) کا ایک اہم بیان سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے امریکی حکمت عملی کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ خلیج کے جال میں پھنس چکے ہیں۔
امریکا کے اس سابق بحری آفیسرنے ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی ٹرمپ کو جنگ سے نکلنے کے لیے باوقار راستہ بھی نہیں دے رہے اور نہ ہی ان کے لیے فتح کا اعلان کر کے گھر واپس جانا آسان بنا رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے یہ انتہائی مشکل دن ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ ان کا اگلا قدم کیا ہوگا، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں ان کا کوئی بھی منصوبہ درست سمت میں جاتا نظر نہیں آ رہا۔امریکی سابق نیول آفیسر کا یہ بیان اس وسیع تر تجزیاتی سوچ کا عکاس ہے جو اس وقت مغرب کے معتبر دفاعی اور جیو پولیٹیکل حلقوں میں جنم لے چکی ہے۔
عالمی اور مغربی ماہرین ِ دفاع بشمول معروف امریکی دفاعی ماہر جان میرشائمر،ڈیفنس پرائیورٹیز کے سینئر فیلو ڈینیئل ڈی ڈیوس سمیت متعدد عسکری ماہرین کا متفقہ جائزہ ہے کہ امریکی انتظامیہ بغیر کسی واضح خروج کی حکمت عملی کے ایران کے ساتھ تصادم میں الجھ چکی ہے۔ جنگ کے ابتدائی مقاصد، مثلاً ایران کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا یا اسے دفاعی طور پر مفلوج کرنا، عملی طور پر ناکام ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔یہاں تک کہ اب جنگ کے تمام تر اہداف ایران خود ترتیب دے رہاہے اور امریکا ایک محتاج کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ امریکی و مغربی دفاعی مبصرین کایہ بھی کہنا ہے کہ امریکا کی فوجی طاقت جس کے بل بوتے پر امریکا دنیا کی حکومتوں کو ڈراتا اور دھمکاتا تھا۔ ایران کے سامنے بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور خطے میں امریکی فوج کی موجودگی اب امریکا کی طاقت نہیں بلکہ امریکا کے لیے کمزوری کا باعث بن رہی ہے۔
مغربی ملٹری تھنک ٹینکس کے مطابق، روایتی فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنا ایک الگ بات ہے، لیکن غیر روایتی (Asymmetric War) جنگ میں فتح کا ایسا اعلان کرنا جس پر دنیا یقین کر سکے، امریکی صدر کے لیے تقریباً ناممکن ہو چکا ہے،یعنی امریکا میں اس بات کو سمجھ لیا گیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے امریکا کو ذلیل و رسوا کر کے رکھ دیا ہے اور جنگ میں ایران جانی ومالی نقصان کے باوجود بھی پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر ابھرا ہے۔
ایران نے اس کشیدگی میں روایتی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے ایک طویل مدتی اور اعصاب شکن حکمت عملی اپنائی ہے،اگر ایران کی جگہ کوئی اور ملک ہوتا تو شاید وہ اس طرح امریکا کے سامنے زیادہ دیر تک کھڑا نہ رہ پاتا اور ایسے حالات میں کہ جب نفسیاتی دباؤ کے طور پر امریکا نے ایران پر جنگ مسلط کرنے سے کچھ روز قبل ہی وینزویلا کے صدر کو اغوا کیا تھا اور اپنی فتح کا اعلان کیا تھا۔
امریکی حکومت اب ایک ایسی دلدل میں پھنس چکی ہے کہ جہاں سے نکلنا امریکا کے بس میں نہیں رہاہے۔ امریکا کے پاس ایران کے مطالبات ماننے کے علاوہ کوئی اور راستہ شاید اب باقی نہیں ہے۔ ایران کی جانب سے امریکا کو کوئی ایسا موقع نہیں دیا جا رہا جس کی بنیاد پر واشنگٹن خود کو فاتح قرار دے سکے۔اگر چہ امریکی صدر مسلسل آئے روز ایسے بیانات دیتے ہیں جن میں آبنائے ہرمز کو امریکی کنٹرول میں بتایا جاتا ہے لیکن حقیقت امریکی صدر کے بیانات سے کوسوں دور ہے اور اب امریکی صدر کے بیانات کو دنیا میں زیادہ سنجیدگی سے نہیں دیکھا جا رہا۔
آبنائے ہرمز اور دیگر اہم بحری راہداریوں میں تناؤ برقرار رکھ کر ایران نے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کو شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
امریکا کی تمام تر پابندیوں اور دھمکیوں کے باوجود ایران اپنے علاقائی اتحاد (Axis of Resistance) کے ذریعے امریکی مفادات اور ان کے اتحادیوں پر مسلسل دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔یمن میں حوثیوں نے سعودی عرب کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ امریکا اور یورپ کے ممتاز پالیسی ساز اور فوجی مبصرین ایران سے متعلق پالیسی کی غلطیوں کو کھل کر اجاگر کر رہے ہیں۔ امریکی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایران کی غیر روایتی جنگی صلاحیتوں اور ڈرون و میزائل ٹیکنالوجی کا غلط تخمینہ لگایا۔ امریکی ملٹری تھنک ٹینکس بشمول رینڈ کارپوریشن، کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس، انٹرنیشنل کرائسز گروپ اور دیگر کہتے ہیں کہ جنگ میں روزانہ اربوں ڈالر کا نقصان اور کسی حتمی مقصد کا نہ ہونا ،امریکی فوجی وسائل کی شدید تلفی ہے۔بین الاقوامی سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ کانگریس اور اتحادیوں کی باضابطہ منظوری کے بغیر اٹھائے گئے اقدامات نے واشنگٹن کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے۔
سینٹر فار اسٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS)کے مطابق امریکا کے اندر معاشی صورتحال اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر داخلی سطح پر شدید دباؤ ڈال رکھا ہے۔ جنگ کے بے تحاشا اخراجات، معاشی عدم استحکام اور امریکی فوجیوں کی جانی و مالی قیمت نے امریکی عوام میں اس تنازع کے خلاف شدید ردِعمل پیدا کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار دیکھا جا رہا ہے کہ اکثریت امریکی عوام مشرق وسطیٰ میں کسی نئی طویل جنگ کے حق میں نہیں ہیں۔
سابق امریکی افسر میٹ بریکن اور دیگر مغربی ماہرین کی آراء اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ واشنگٹن اس وقت مشرق وسطیٰ میں ایک ایسی دلدل میں پھنس چکا ہے، جہاں سے نہ تو آگے بڑھ کر کوئی واضح فتح ممکن ہے اور نہ ہی پیچھے ہٹنے کا کوئی باوقار راستہ موجود ہے۔ایران کی مضبوط دفاعی استقامت اور امریکا کی سیاسی و فوجی غلطیوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ صرف روایتی عسکری طاقت کے بل بوتے پر ابلاغی یا سیاسی فتح کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ امریکی انتظامیہ کے لیے اب واحد راستہ یہی بچتا ہے کہ وہ زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے عسکری دباؤ کے بجائے سفارتی راستے تلاش کرے۔