انصاف کی منتظر بلوچستان کی ایک دختر
بلوچستان میں ایک بار پھر ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس نے نظامِ انصاف پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ رشتہ نہ دینے پر ایک خاندان کے سات افراد کو قتل کیا جا چکا ہے، مگر قاتل آزاد ہے۔ خضدار سے تعلق رکھنے والی اسما جتک کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ ہاتھ میں قرآن مجید اٹھائے ہوئے حکام، قبائلی عمائدین اور وزیراعلیٰ بلوچستان سے انصاف کی اپیل کر رہی تھیں۔
ان کی آواز میں خوف بھی تھا، بے بسی بھی اور ایک واضح انتباہ بھی کہ اگر ان کے والد یا بھائیوں کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمے داری انھی افراد پر ہوگی جن پر ان کے اغوا کا الزام ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے چند ہی گھنٹوں بعد ان کے والد، ماسٹر عنایت اللہ، نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ میں قتل کر دیے گئے۔یہ صرف ایک قتل کا واقعہ نہیں بلکہ ایسے سوالات کی ایک طویل فہرست ہے جن کا جواب ریاست، پولیس اور متعلقہ اداروں کو دینا ہوگا، اگر کسی خاندان نے پہلے ہی اغوا، دھمکیوں اور مسلسل خوف کا سامنا کیا ہو، متعدد بار متعلقہ اداروں کو شکایات درج کروائی ہوں، اور پھر بھی ملزمان آزاد گھومتے رہیں، تو آخر قانون کی عملداری کہاں نظر آتی ہے؟
اسما جتک کا معاملہ فروری 2025 میں منظر عام پر آیا تھا، جب انھیں مبینہ طور پر زبردستی گھر سے اغوا کر لیا گیا۔ متاثرہ خاندان نے الزام عائد کیا کہ اغوا کی وجہ رشتہ دینے سے انکار تھا۔ بلوچستان بھر میں اس واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا، احتجاج ہوئے، شاہراہیں بند کی گئیں اور حکومت پر دباؤ بڑھا، بعد ازاں اسما بازیاب ہو گئیں۔اسما کے بھائی ڈاکٹر عطا اللہ جتک کے مطابق ان کے خاندان کو مسلسل دھمکیاں ملتی رہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے والد کو واٹس ایپ پیغامات اور فون کالز کے ذریعے کہا گیا کہ اگر اسما کا رشتہ نہ دیا گیا تو ان کے بیٹوں کو قتل کر دیا جائے گا، اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ نہایت سنگین معاملہ ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطرات کی پیشگی اطلاع موجود تھی۔
ایسے حالات میں متاثرہ خاندان کو سیکیورٹی فراہم کرنا اور ملزمان کے خلاف فوری کارروائی کرنا ریاستی اداروں کی ذمے داری تھی۔ماسٹر عنایت اللہ کی زندگی بھی ایک عام شہری کی زندگی تھی۔ وہ ایک استاد تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ تعلیم کے شعبے میں گزارا۔ خضدار میں انھوں نے مسجد تعمیر کروائی اور خود موذن کی ذمے داری بھی انجام دیتے رہے۔ ان کی زندگی کسی تنازعے یا تشدد کی علامت نہیں تھی، لیکن وہ اپنی بیٹی کے ساتھ کھڑے رہے، انصاف کا مطالبہ کرتے رہے، اور بالآخر اسی جدوجہد کی قیمت اپنی جان دے کر ادا کر گئے۔
یہ واقعہ بلوچستان اسمبلی میں بھی زیر بحث آیا۔ حزب اختلاف کے اراکین نے شدید احتجاج کیا، جب کہ حکومتی اتحادی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک وزیر بھی احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ اسمبلی میں مختلف الزامات بھی سامنے آئے اور بعض قبائلی شخصیات کا نام لیا گیا، جن کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی۔ اس مرحلے پر ضروری ہے کہ کسی بھی فرد یا گروہ کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے کے بجائے تحقیقات کے نتائج کا انتظار کیا جائے۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ایک خاندان پہلے اغوا، پھر دھمکیوں اور اب قتل جیسے واقعات کا سامنا کر رہا ہے۔
تجزیہ نگار عزیز سنگھور نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ واقعہ صرف ایک خاندان کی داستان نہیں بلکہ بلوچستان میں خواتین کے تحفظ، قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جب کسی خاتون کو مبینہ طور پر رشتہ نہ دینے پر اغوا کیا جائے، پھر اسی خاندان کو مسلسل دھمکیاں دی جائیں اور بالآخر خاندان کے افراد قتل ہونے لگیں، تو یہ صرف ایک فوجداری مقدمہ نہیں رہتا بلکہ ریاستی ذمے داری کا امتحان بن جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس کیس کی شفاف، غیرجانبدار اور تیز رفتار تحقیقات ناگزیر ہیں، اگر ایف آئی آر میں نامزد ملزمان موجود ہیں تو ان کی فوری گرفتاری ہونی چاہیے، اگر کسی سرکاری اہلکار کی غفلت یا کوتاہی سامنے آتی ہے تو اس کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ متاثرہ خاندان کو مناسب تحفظ فراہم کرنا اور مقدمے کی نگرانی اعلیٰ سطح پر کرنا بھی ضروری ہے تاکہ انصاف صرف ہوتا ہوا نظر ہی نہ آئے بلکہ عملی طور پر ہوتا بھی دکھائی دے۔
بلوچستان ایک حساس صوبہ ہے جہاں امن، قانون اور عوام کے اعتماد کی بحالی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اس اعتماد کی بنیاد صرف بیانات سے نہیں بلکہ انصاف کی بروقت فراہمی سے مضبوط ہوتی ہے۔ اسما جتک کی ویڈیو میں کی گئی فریاد اور اس کے چند گھنٹوں بعد ان کے والد کا قتل اس بات کی تلخ یاد دہانی ہے کہ جب انصاف میں تاخیر ہوتی ہے تو اس کی قیمت بعض اوقات انسانی جانوں کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بلوچستان کی حکومت نے اسمبلی میں شدید احتجاج کے باوجود اس معاملے پر توجہ نہیں دی ہے۔
اس صورتحال میں عدلیہ کو اس واقعے کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کرنی چاہیے ۔ الزام لگایا جاتا ہے کہ قاتلوں کا تعلق بلوچستان کے ایک بااثر قبیلہ سے ہے مگر پاکستان کے قانون کے تحت کسی سردار یا اس کے ملازم کو کسی شخص کو قتل اور اغواء کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ اب یہ ذمے داری ریاست پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس مقدمے کو ایک اور فائل بننے نہ دے بلکہ اسے قانون کی بالادستی کی مثال بنائے، اگر اس کیس میں شفاف تحقیقات، ملزمان کی گرفتاری اور منصفانہ ٹرائل یقینی بنایا جاتا ہے تو نہ صرف ایک خاندان کو انصاف ملے گا بلکہ بلوچستان کے عوام کا قانون پر اعتماد بھی بحال ہوگا۔ بصورت دیگر اسما جتک کے ہاتھ میں اٹھایا گیا قرآن اور ان کی انصاف کی اپیل اس معاشرے کے اجتماعی ضمیر پر ایک ایسا سوال بن کر رہ جائے گی جس کا جواب آنے والی نسلیں بھی مانگتی رہیں گی۔