ریٹائرمنٹ سے ایک روز قبل پروفیسر مقررکیے جانے پر قائم علی شاہ کی صاحبزادی کا ردعمل
سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی صاحبزادی اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ کو ریٹائر ہونے سے محض ایک روز قبل صوبائی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں 3 برس کے لیے پروفیسر مقرر کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
تفصیلات کے مطابق صوبائی کابینہ کی تجویز اور ہدایت کی روشنی میں سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی بیٹی کو ریٹائرمنٹ سے ایک روز قبل پروفیسر تعینات کیا گیا۔
صوبائی کابینہ کے فیصلے کے مطابق ڈاکٹر نگہت شاہ کو تین سال کیلیے بطور پروفیسر تعینات کیا گیا جس کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
قائم علی شاہ کی صاحبزادی کی مدت ملازمت میں توسیع پر جے ایس ایم یو کے سینئیر ایسوسی ایٹ پروفیسرز نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دیگر کو خط لکھ دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خط میں پروفیسرز نے لکھا ہے کہ دوبارہ تقرری پی ایم ڈی سی کے 19 مئی کے نوٹیفکیشن کے تحت کی گئی ہے، پی ایم ڈی سی کے 19 مئی کے نوٹیفکیشن کے دوسرے پیرا کو نظر انداز کردیا گیا، ترقیوں کے منتظر6 ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی ترقیاں متاثر ہورہی ہیں، اہل ایسوسی ایٹ پروفیسرز کو نظر انداز کرنے سے ادارے کا غلط تاثر جارہاہے۔
پروفیسرز نے کہا کہ ریٹائرڈ فیکلٹی کی دوبارہ تقرری سے دوسروں کی ترقی متاثر نہ ہونے کی پی ایم ڈی سی کی واضح ہدایت موجود ہے، پی ایم ڈی سی کی واضح ہدایت کے برخلاف ڈاکٹر نگہت کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی۔
اس معاملے پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جانے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ کی تقرری مکمل طور پر کنٹریکٹ اور مقررہ پالیسی فریم ورک کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نگہت شاہ کی تقرری طبی تدریسی اداروں میں تجربہ کار پروفیسرز کی تعیناتی سے متعلق جے پی ایم سی کی گائیڈ لائنز کے مطابق ہے۔
اب اس معاملے پر ڈاکٹر نگہت شاہ کا رد عمل سامنے آگیا ہے اور ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری قابلیت اور محنت کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ڈاکٹر نگہت شاہ نے کہا کہ میں آپ کی شکر گزار ہوں کہ آپ نے صرف خبر چلانے کے بجائے تحقیق کرنا مناسب سمجھا۔ میں ایک FCPS اور FRCOG (رائل کالج) پروفیسر ہوں اور جناح ہسپتال میں اس وقت کوئی دوسرا FRCOG نہیں ہے۔ میں میڈیکل ایجوکیشنسٹ (MHP) ہوں، ماسٹرز کر چکی ہوں اور پی ایچ ڈی اسکالر بھی ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کینیڈا کے ساتھ مل کر دو بین الاقوامی تحقیقی منصوبے شروع کیے ہیں جن کی مالیت 20,000 ڈالر ہے، جو زچگی کے دوران ماؤں کی اموات اور دل کے امراض میں مبتلا ماؤں پر تحقیق کر رہے ہیں۔
2022 تک یہاں کے حالات بہت خراب تھے، ہر کال پر تقریباً پانچ بچے مر جاتے تھے۔ میں نے ڈاکٹر جمال رضا کی مدد سے یہاں 'نیکیو' (NICU) شروع کروایا جس کے بعد چھ سے آٹھ ماہ میں بچوں کی اموات کی شرح تقریباً ختم ہو گئی۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں وہ خواتین آتی ہیں جن کی حالت انتہائی تشویشناک ہوتی ہے۔ ہم نے ان کے لیے کریٹیکل کیئر یونٹ شروع کیا اور اپنی ٹیم کو سرجیکل اور میڈیکل آئی سی یو (ICU) میں خصوصی تربیت دلوائی تاکہ وہ سیپٹک شاک اور کارڈ یوجینک شاک جیسے مسائل سے نمٹ سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کارڈیو ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ اشتراک کیا ہے تاکہ دل کے امراض میں مبتلا ماؤں کا علاج ہو سکے۔ اس کے علاوہ یہاں بانجھ پن (Infertility)، کینسر اور تھیلیسیمیا کے حوالے سے بھی جدید اور مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔
سیاسی وابستگی اور اس حوالے سے تنقید کے سوال پر انہوں نے کہا کہ مجھ پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ میں نے کسی کا حق مارا ہے، حالانکہ میں جہاں پریکٹس کرتی ہوں (آغا خان وغیرہ) وہاں کسی کو نہیں پتہ کہ میرے والد کون ہیں۔ میرے والد نے ہمیں حلال کی کمائی اور عزت سے جینا سکھایا ہے، اور خدمت کا یہ جذبہ ہمیں انہی سے ملا ہے۔ میں اپنے جونیئر ڈاکٹرز کو سکھاتی ہوں کہ مریض کی عزت سب سے مقدم ہے۔
ڈاکٹر نگہت شاہ نے کہا کہ میری ریٹائرمنٹ 12 اگست کو تھی اور مجھے جو توسیع ملی ہے وہ مکمل طور پر PMDC کے قوانین کے مطابق ہے۔ یہ معاملہ ایڈووکیٹ جنرل اور لا ڈیپارٹمنٹ سے ہو کر آیا ہے اور یہ سمری چھ ماہ سے چل رہی تھی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سیاسی پس منظر کی وجہ سے مجھے آگے بڑھنے کے بجائے اکثر پیچھے کھینچا جاتا ہے۔ جناح ہسپتال میں اس وقت پروفیسر کی کمی ہے، میں کسی کی سیٹ پر نہیں بیٹھنا چاہتی، بلکہ میں چاہتی ہوں کہ مزید لوگ پروفیسر بنیں اور نئے یونٹ کھلیں۔