فرانس: 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون کالعدم قرار
فوٹو: فائل
فرانس کی اعلیٰ عدالت نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے سے متعلق حکومتی بل کو روک دیا ہے۔
عدالت کے مطابق مجوزہ قانون اظہارِ رائے کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔ فیصلے کو فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے لیے دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جنہوں نے حکومت کو قانون میں موجود خامیوں کو دور کرکے اسے دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔
مجوزہ قانون کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی ممنوع قرار دی گئی تھی، جبکہ بالغ صارفین کو بھی اپنی عمر کی تصدیق کرنا پڑتی۔
عدالت نے قرار دیا کہ حکومت یہ واضح کرنے میں ناکام رہی کہ صارفین اپنی عمر 15 سال سے زیادہ ہونے کا ثبوت کس طریقے سے فراہم کریں گے۔
فرانسیسی قانون سازوں نے گزشتہ دسمبر میں نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ پابندی متعارف کرائی تھی۔ اس سے قبل آسٹریلیا 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے فیس بک، ٹک ٹاک اور یوٹیوب سمیت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کرنے والا پہلا ملک بن چکا ہے۔
صدر میکرون نے حکومت کو قانون کی خامیاں دور کرنے اور آئینی کونسل کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے نیا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی تھی، جبکہ ان کی خواہش تھی کہ یہ معاملہ 2027 کے موسمِ بہار سے پہلے مکمل کرلیا جائے۔