جشنِ آزادی یا تجدیدِ عہد کا دن

کیا ہم آج بھی اُن مقاصد کی طرف بڑھ رہے ہیں جن کے لیے یہ وطن حاصل کیا گیا تھا؟

14 اگست 2026 کو قوم نے اپنا اناسی واں یومِ آزادی منایا۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی وطنِ عزیز سبز و سفید رنگوں میں رنگا ہوا ہے۔ گلیاں، بازار، عمارتیں اور گاڑیاں قومی پرچم سے سجی ہوئی ہیں، ملی نغمے فضا میں گونج رہے ہیں اور ہر طرف جشن کا سماں ہے۔ یہ سب اپنی جگہ خوبصورت اور خوش آئند ہے، لیکن ایک سوال ہم سب کے ضمیر کو ضرور جھنجھوڑنا چاہیے۔

کیا جشنِ آزادی صرف جھنڈے کے رنگوں کے لباس پہن لینے، کپڑوں پر قومی پرچم کے اسٹیکر آویزاں کرنے، گاڑیوں کو سبز و سفید رنگوں سے سجا دینے یا آتش بازی کرنے کا نام ہے؟ کیا اتنا کر لینے سے، بحیثیتِ قوم، ہماری ذمے داری پوری ہو جاتی ہے؟ یقیناً نہیں۔

جشن اپنی جگہ ایک فطری اور جائز جذبہ ہے، کیونکہ آزادی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ لیکن اگر یہ دن صرف ظاہری تقریبات اور وقتی جوش و خروش تک محدود ہو جائے تو ہم اس کی اصل روح سے بہت دور چلے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یومِ آزادی دراصل تجدیدِ عہد کا دن ہے؛ ایسا دن جب قومیں اپنے ماضی سے سبق سیکھتی ہیں، حال کا جائزہ لیتی ہیں اور مستقبل کا رخ متعین کرتی ہیں۔

قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا: ’’کام، کام اور صرف کام۔‘‘ یہ مختصر مگر جامع پیغام اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ قومیں نعروں سے نہیں بلکہ مسلسل محنت، دیانت اور نظم و ضبط سے ترقی کرتی ہیں۔ اسی طرح علامہ محمد اقبالؒ نے فرمایا: 

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومی تبدیلی کا آغاز ہمیشہ فرد سے ہوتا ہے۔ جب ہر شہری اپنی ذمے داری پوری کرتا ہے تو پوری قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہے۔

یومِ آزادی ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ کیا ہم آج بھی اُن مقاصد کی طرف بڑھ رہے ہیں جن کے لیے یہ وطن حاصل کیا گیا تھا؟ کیا ہم انصاف، قانون کی بالادستی، دیانت، قومی اتحاد، برداشت، تعلیم، معاشی خودمختاری اور عوامی فلاح جیسے بنیادی اصولوں کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنا سکے ہیں؟ یا ہم کہیں راستے میں اپنی منزل اور اپنی ترجیحات دونوں سے دور ہو گئے ہیں؟

قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک اور موقعے پر فرمایا تھا کہ ’’مملکت کے کسی اہم مفاد پر ذاتی مفاد کو غالب آنے دینا خودکشی کے مترادف ہے‘‘۔ کہیں ہم یہ اجتماعی خودکشی روزانہ کی بنیاد پر تو نہیں کررہے ہیں۔ 

یہ سوال حکومت اور قوم کے ہر فرد سے ضرور کیا جانا چاہیے، لیکن اس سے پہلے ہر فرد کو خود سے بھی یہی سوال کرنا ہوگا۔ کیونکہ قوموں کی تعمیر صرف ایوانوں میں نہیں ہوتی، بلکہ گھروں، تعلیمی اداروں، دفاتر، عدالتوں، بازاروں اور فیکٹریوں میں بھی ہوتی ہے۔ اگر ایک استاد اپنی ذمے داری دیانت سے ادا کرے، ایک تاجر ایمانداری اختیار کرے، ایک سرکاری ملازم عوام کی خدمت کو عبادت سمجھے، ایک طالب علم علم کو اپنا مقصد بنائے اور ہر شہری قانون کی پاسداری کرے تو یہی چھوٹے چھوٹے اعمال مل کر ایک عظیم قوم کی بنیاد رکھتے ہیں۔

آزادی صرف ایک حق نہیں بلکہ ایک بڑی ذمے داری بھی ہے۔ آزادی ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ اب اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کا ذمے دار بھی ہم خود ہیں۔ اگر ہم اپنی ذمے داریوں سے غفلت برتیں گے تو آزادی کا حسن ماند پڑ جائے گا، لیکن اگر ہم اپنے کردار، محنت اور اجتماعی شعور کو مضبوط بنائیں گے تو یہی آزادی آنے والی نسلوں کے لیے ترقی، وقار اور خوشحالی کی ضمانت بن سکتی ہے۔

آئیے، اس یومِ آزادی پر ہم صرف جشن نہ منائیں بلکہ اپنے عہد کی تجدید بھی کریں۔ عہد اس بات کا کہ ہم اپنے وطن کو صرف تنقید سے نہیں بلکہ کردار سے بہتر بنانے کی کوشش کریں گے؛ اختلاف ضرور کریں گے مگر نفرت نہیں پھیلائیں گے؛ اپنے حقوق کا مطالبہ بھی کریں گے اور اپنی ذمے داریوں کو بھی پوری دیانت داری سے نبھائیں گے۔

اگر 14 اگست ہمیں صرف خوشی دے کر گزر جائے تو شاید ہم نے اس دن کا ایک حصہ منایا ہے، لیکن اگر یہ دن ہمارے اندر اپنے وطن کے لیے کچھ بہتر کرنے کا جذبہ پیدا کر دے تو یقیناً ہم نے یومِ آزادی کی حقیقی روح کو پا لیا۔

آئیے، اس بار جشنِ آزادی کو صرف ایک تقریب نہیں بلکہ ایک اجتماعی تجدیدِ عہد بنائیں، کیونکہ مضبوط پاکستان نعروں سے نہیں، مضبوط کردار، درست ترجیحات اور مسلسل عمل سے تعمیر ہوگا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story