آزادی
اردو میں لفظ آزادی کے معنی خود مختاری اور نجات کے ہیں، اس کا مطلب کسی کی غلامی قید یا دباؤ سے باہر نکل کر اپنے فیصلے خود کرنے کی طاقت اور مکمل حق ہوتا ہے۔
آزادی کے اہم نکات۔
1۔ آزاد ہونا، قید، غلامی یا پابندی سے چھٹکارا پانا۔
2۔ خود مختاری سے مراد اپنے معاملات کو خود چلانے کا اختیار۔
3۔ مختارکل اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا حق۔
پاکستان کا یوم آزادی 14 اگست 1947 کو منایا جاتا ہے، یہ دن اس وقت کی یاد دلاتا ہے جب پاکستان نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ یوم آزادی کی مرکزی تقریب اسلام آباد میں ہوتی ہے، جہاں صدارتی اور پارلیمانی عمارتوں پر قومی پرچم لہرایا جاتا ہے، اس کے بعد قومی ترانہ اور سیاسی اکابرین کی براہ راست نشر کی جانے والی تقاریر ہوتی ہیں، دن کی عام تقریبات اور جشن میں پرچم کشائی کی تقریبات پریڈ ثقافتی پروگرام اور ملی و قومی نغمے شامل ہیں۔ اس دن کئی ایوارڈ تقریبات بھی منعقد کی جاتی ہیں۔ پاکستان کو برطانوی سامراج سے آزاد ہوئے 79 سال ہو چکے ہیں۔
آزادی کے برعکس غلامی ایک بہت خطرناک عمل ہے، یہ وہ اذیت ناک سزا ہے جس میں غلام بنانے اور خرید کر غلام بنانے کا مقصد دونوں ایک ہی ہیں۔کسی کو غلام بنا کر اس کی مرضی کے خلاف اس سے کچھ لیا جائے یا اس سے کام لیا جائے، دونوں طریقے قدرت کے قوانین کی نفی کرتے ہیں۔
کسی کو اس کی مرضی سے خرید کر اس سے کام یا اس سے کچھ لیا جائے یہ اذیت ناک غلامی سے کم غلامی کا درجہ ہے اور اگر کسی کو اس کی مرضی سے خرید کر اس کی محنت کا استحصال کیا جائے تو یہ غلامی خطرناک غلامی ہوتی ہے۔ غلاموں اور آقاؤں کے درمیان ہزاروں برس سے کشمکش چلی آرہی ہے۔ عوام جوش وجذبے سے یوم آزادی منا رہے ہیں۔
کیا آج ہم حقیقتا آزاد ہیں؟ کیا ہمیں مکمل معاشی آزادی ملی ہے یا ہم برائے نام ایک آزاد اور زندہ قوم ہیں؟ قدرتی وسائل سے مالا مال ملک میں غریب آدمی دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتا، عوام کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں، اجتماعی طور پر دیکھا جائے تو ہمارے تمام سیاستدان اپنی اپنی رنگ بازیوں میں مست ہیں، انھیں صرف اپنی کرسی اور اقتدارکی فکر ہے۔ درحقیقت دو ملک ہیں پاکستان میں۔ ایک اشرافیہ کا اور دوسرا غریب کا۔
پاکستان کا آئین ہمیں مکمل معاشی آزادی کا حق دیتا ہے لیکن حقیقتا نہ ہمارے پاس اچھی صحت کا نظام ہے، نہ غریب کے بچے کو اچھی تعلیم میسر ہے، نہ غریب عوام کو روزگار حاصل ہے، نہ پینے کا صاف پانی ہے نہ ہمیں بجلی وگیس میسر ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک کسی بھی سیاسی جماعت نے عوام کو کچھ بھی ڈلیور نہیں کیا ہے۔
ہم پر مسلط سیاسی ٹولہ صرف اپنے مفادات کی خاطرکام کرتا ہے۔ قوم مختلف فرقوں، مختلف پارٹیوں زبانوں میں بٹ چکی ہے۔ پاکستان کے قیام کے لیے ہمارے سیاسی اکابرین و رہنماؤں نے انتھک محنت وجدوجہد اور طویل قربانیوں کے بعد یہ ملک حاصل کیا تھا مگر بدقسمتی اور حقیقت یہ ہے کہ ہم پر مسلط کردہ سیاست دانوں نے ملک کا بیڑا غرق اور ستیاناس کردیا ہے، ہمیں ادھوری آزادی ملی ہے۔
ہم مکمل طور پر آزاد نہیں ہیں۔ ہم پر مسلط سیاستدان دن بدن امیر سے امیر تر ہوتے جا رہے ہیں اور عوام دن بدن غریب سے غریب تر ہوتے جا رہے ہیں، یہ کیسا نظام سیاست ہے جس نے ہمیں مفلوج اور فالج زدہ قوم بنا کر رکھ دیا ہے، سڑکوں پر باجے بجانے اور پھر جھنڈے جھنڈیاں لگانے سے ہمیں آزادی نہیں ملے گی۔
اس کے لیے عملی جدوجہد کی ضرورت ہے، درحقیقت ہم ایک مردہ قوم بن چکے ہیں جو اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ عوام کو اپنی آنکھیں کھولنی ہوں گی اور اپنے اندر سے اپنے نمائندوں کو منتخب کر کے ایوان اقتدار میں لانا ہوگا۔ مقتدر اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ عوام کے جذبات احساسات کا خیال کریں اور عوام جسے منتخب کریں انھیں ایوان اقتدار میں آنے دیں، ورنہ ایسا نہ ہوکہ یہ جو جوش اور لاوا عوام کے دلوں میں پھٹ رہا ہے، وہ باہر سڑکوں پر نکل آئے اور تمام ایوانوں کو اس میں بہا کر لے جائے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ با اختیار طبقہ اب عوام کے جذبات کو دیکھے۔ اب صبر کے تمام پیمانے لبریز ہو رہے ہیں۔ خدارا، ملک پر اور عوام پر رحم کریں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ اپنی آنکھیں کھولیں، لوٹ کھسوٹ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو کچھ بھی نہیں۔
نچلی سطح میں عوام میں بے چینی کا عنصر نمایاں ظاہر ہو رہا ہے، خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ پاکستان میں بسنے والے کروڑوں عوام معاشی خوشحالی سے محروم ہیں۔ سیاست دانوں نے عوامی خوشحالی کی نفی کی ہے اور عوام کو اپنا معاشی غلام بنا لیا ہے جب تک عوام مفاد پرست سیاست دانوں سے اپنی معاشی آزادی چھین نہیں لیتے۔
اس وقت تک عوام کی خوشحالی ناممکن ہے، اگرکوئی سمجھتا ہے کہ سامراج اور اس کے ایجنٹ حکمران عوام کو معاشی آزادی دیں گے تو یہ ناممکن ہے۔ اس کے لیے صرف اب ایک ہی راستہ ہے کہ عوام اپنے اوپر مسلط کردہ رنگ باز سیاسی ٹولے سے اپنی معاشی آزادی چھین لیں،کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔
عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے درمیان اختلافات کو ختم کرتے ہوئے مشترکہ اور اجتماعی جدوجہد کا آغازکریں اور اپنی معاشی آزادی کے حصول کے لیے باہر نکلیں۔ ہم پر مسلط کردہ اشرافیہ اور سیاسی ٹولہ ہمیں کیڑے مکوڑے سمجھتا ہے۔ اب عوام کو جاگنا ہوگا اور باہر نکلنا ہوگا، اگر اب ہم باہر نہیں نکلے تو ہم ان کی غلامی سے کبھی آزاد نہیں ہو سکیں گے، لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ دوبارہ سے پاکستان کو ری بیلٹ کرنے کے لیے ہم سب مل کر مشترکہ جدوجہد کا آغازکریں اور اپنی معاشی آزادی اشرافیہ سے چھین لیں۔
ہمارے تمام وسائل پر ان کا حق نہیں ہے، یہ وسائل ہمارے لیے ہیں اور ان پر ہمارا حق ہے۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں خوراک کی کمی سے کئی اموات ہوجاتی ہیں ٹیکسوں کی بھرمار نے عوام کا جینا دوبھرکیا ہوا ہے اور حکمران طبقہ عیاشی کر رہا ہے، اگر عوام یہ سمجھتے ہیں کہ وہ زندہ قوم ہیں تو وہ زندہ قوم ہونے کا حق ادا کریں اور مل کر مشترکہ جدوجہد کا آغاز کریں۔
حبیب جالب نے بھی کیا خوب کہا ہے۔
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشین تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پر اتنا ہی یقین تھا
بڑے بڑے بادشاہ دنیا پر راج کر کے چلے گئے، ان کا انجام سب کو معلوم ہے ہمارے سیاست دانوں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہیے اور عوام کوکچھ ڈلیورکرنا چاہیے۔
ایک اور خوبصورت شعر ہے۔
آج کر لو بانھوں میں قید مجھے
احساس دلاؤ کہ آزاد ہوں میں
پاک پروردگار وطن عزیزکی حفاظت فرما اور عوام کو ایسے حکمران عطا فرما جو عوام کی فلاح و بہبود و خوشحالی کے لیے عملی اقدامات کریں۔(آمین)