پاکستان میں مزدور تحریک کے بانی مرزا محمد ابراہیم
برصغیر کے معروف ترقی پسند دانشور اور ٹریڈ یونین کے بانی مرزا محمد ابراہیم کی 27 ویں برسی 11 اگست 2026 منائی گئی، وہ 11 اگست 1999 کو اپنے شہر جہلم میں انتقال کر گئے تھے۔ مرزا محمد ابراہیم انسانی برابری، انصاف پر مبنی ایک غیر طبقاتی نظام اور سوشلزم کے حامی تھے اور ساری عمر اس نظام کے لیے جد و جہد کرتے رہے۔
وہ ممتاز مفکر اور دانشور کارل مارکس، لینن، ماؤزے تنگ اور ہو چی منہ کے نظریات کے کٹر حامی تھے اور آخر دم تک اس پر قائم رہے، وہ ساری دنیا کے عوام کی بھی خوشحالی چاہتے تھے مگر ایسا نہ ہو سکا، مرزا ابراہیم 1905 میں پنجاب کے فوجی چھاؤنیوں کے علاقے جہلم کے قریب ایک گاؤں کالا گجراں میں مرزا عبداللہ کے گھر میں پیدا ہوئے، اسی گاؤں میں بھارت کے ایک وزیر اعظم اندر کمال گجرال اور بھارتی فوج کے جنرل اروڑا بھی پیدا ہوئے۔ مرزا ابراہیم کے والد مرزا عبد اللہ ایک بے زمین کسان تھے۔
انھوں نے اپنی ملازمت کا آغاز بطور مالی، بھٹہ مزدور اور پھر ریلوے میں برج ورکشاپ جہلم سے بطور معاون ہیلپر کیا۔ انھوں نے اپنی عملی جدو جہد کا آغاز خلافت موومنٹ سے کیا جو اس وقت برطانوی سامراج کے خلاف تھی اور پورے برصغیر میں تھی اور 21-1920 میں زوروں پر تھی، جس کی قیادت مولا نا محمد علی جو ہر اور مولانا شوکت علی کر رہے تھے۔
وہ 1962 میں برج ورکشاپ جہلم میں ملازم ہو گئے، وہ 1930 میں لاہور آگئے جہاں وہ ساری عمر رہے اور 1999 اپریل میں گاؤں چلے گئے ،اس وقت ریلوے میں ایک یونین تھی، جس میں (نارتھ ویسٹرن ریلوے) NWR یونین میں مرزا ابراہیم نے کام کرنا شروع کر دیا، وہ اس یونین کے مغل پورہ ورکشاپس کے صدر مقرر ہوئے، جس کا مرکزی صدر - J.B Mile ایک انگریز تھا۔
مرزا صاحب نے بڑھ چڑھ کر یونین میں حصہ لیا وہ بہترین مقرر تھے۔ بعد ازاں ان کا رابطہ ایک طالب علم گوپال کے ذریعے کمیونسٹ پارٹی سے ہو گیا۔ مرزا ابراہیم نے ہمیں بتایا کہ مجھے کمیونسٹ پارٹی نے اسٹڈی سرکل میں خوب پڑھایا، سامراج کیا ہے۔ محنت کیا ہے؟ سرمایہ کیا ہے، سرمایہ داری کیا ہے۔ مذہب کیا ہے، سر پلس ویلیو کیا ہے۔ طبقات کیا ہیں اور کس طرح مزدو طبقہ جد و جہد کر کے اقتدار پر قبضہ کر سکتا ہے۔
1917 میں روس میں انقلاب آ چکا تھا کمیونسٹ پارٹی سے رابطے کے بعد وہ لیبر ونگ کے انچارج مقرر ہوئے۔ بعد میں پارٹی نے کانگریس سے مل کر ریلوے مین فیڈریشن (Railway Man Federation) کی بنیاد رکھی، جس کے بانیوں میں وہ شامل تھے اور فیڈریشن کے سینئر نائب صدر مقرر ہوئے، جب کہ صدر وی وی گری (V.V Gire) ہے جو بعد میں ہندوستان کے صدر بھی بنے۔
اس دور میں انگریزوں کے خلاف سخت نفرت اور بغاوت تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد حکمرانوں نے فیصلہ کیا کہ ریلوے میں دوران جنگ جو عارضی ملازمین رکھے گئے تھے ان کو فارغ کر دیا جائے جس کے خلاف ریلوے میں فیڈریشن نے سخت احتجاج کیا۔
1946 ہندوستان میں بغاوتوں کا سال تھا۔ اس دوران دہلی میں پولیس ملازمین نے ہڑتال کر دی، دوسری نیول فوج اور انبالہ میں رائل ایئر فورس نے بھی بغاوت کردی۔ فیڈریشن نے بھی ہڑتال کی کال دے دی۔ یکم مئی 1946 یوم مئی کے موقع پر زبردست احتجاج جلسے کیے اور پھر صبح 7 بجے تا 11 بجے چار گھنٹے کے لیے ریل کا پہیہ جام کر دیا اور پھر 27 جون 1946 کو رات 12 بجے سے عمل ہڑتال کرنے کا نوٹس دے دیا۔
اس طرح پورے ہندوستان میں ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اسٹرائیک کمیٹی بنائی گئی اور ملازمین سے ہڑتال کے حق میں فارم بھروائے گئے جس کا سربراہ مرزا ابراہیم کو بنایا گیا۔
90 ہزار ملازمین نے ہڑتال کے حق میں فارم بھرے اور اسٹرائیک شروع کردی۔ اس موقع پر حکمرانوں نے مرزا ابراہیم کو پیش کش کی کہ وہ ہڑتال سے لا تعلق ہو جائیں اسپتال میں داخل ہو جائیں، اس کے عوض بھاری معاوضہ دیا جائے گا۔
ملک تقسیم ہو رہا ہے، آپ کو حیدر آباد ورکشاپ میں اسسٹنٹ منیجر بنا دیا جائے گا۔ آپ کے ساتھیوں کو بھی نوازا جائے گا، آپ پاکستان چلے جائیں مگر انھوں نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا، بعد میں حکومت نے مرزا ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بنا کر انھیں گرفتار کرنے کی کوشش کی، مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔
مرزا ابراہیم زیر زمین چلے گئے، چونکہ پورے ہندستان میں بغاوت تھی ،اس لیے حکمرانوں کو فیڈریشن کے رہنماؤں سے مذاکرات کرنے پڑے اور اس طرح ڈیڑھ لاکھ مزدور بے روزگار ہونے سے بچ گئے اور حکومت کو 9 تا 10 کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں مزدوروں کو دینے پڑے، اس کی پاداش میں مرزا ابراہیم کو تقسیم سے 5 ماہ قبل مارچ 1947 میں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔
اس وقت ان کی ملازمت کو 23 سال ہو چکے تھے۔ حکومت اور ریلوے انتظامیہ نے ان کو کوئی معاوضہ نہ دیا یہ ایک مزدور رہنما کی بڑی قربانی تھی۔
تقسیم کے بعد دانیال لطیفی کے گھر میں وزیر اعظم لیاقت علی خان سے ملاقات ہوئی، اس موقع پر لیاقت علی خان نے ان سے کہا کہ اب پاکستان بن گیا ہے آپ کمیونسٹ پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ میں شامل ہو جائیں، آپ کو وزارت محنت کا قلم دان دیا جائے گا۔
انھوں نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا اور یوں ان کا ٹکراؤ پہلی مرتبہ حکومت سے ہو گیا۔ پھر انھیں دسمبر 1947 میں گرفتار کر لیا گیا اور یوں وہ پاکستان کے پہلے سیاسی قیدی بن گئے۔ رہائی کے بعد سیاسی سرگرمیاں تیز کر دیں۔
انھیں 1949 میں گرفتار کر لیا گیا۔ پھر 1951 میں گرفتار کر لیے گئے، جہاں سے انھوں نے پنجاب اسمبلی کا الیکشن لڑا وہ پاکستان کمیونسٹ پارٹی اور پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کی جانب سے امیدوار تھے جن کے مقابلے پر پاکستان مسلم لیگ کے احمد سعید کرمانی تھے۔ اس الیکشن میں مرزا ابراہیم کے حامیوں نے انھیں ووٹ کے ساتھ ساتھ نوٹ بھی دیئے، جو الیکشن کے موقع پر ان کے ڈبوں سے برآمد ہوئے، محنت کش عوام میں بڑا جوش و خروش تھا۔ مرزا صاحب جیل میں تھے ان کی کامیابی کا اعلان بھی کیا گیا۔
بعد میں مرکزی حکومت کی مداخلت پر سرکاری اہلکاروں نے راتوں رات ہارنے والے امیدوار احمد سعید کرمانی کو کامیاب قرار دے دیا۔ مرزا ابراہیم کے ڈھائی ہزار ووٹوں کو رد کر دیا گیا۔ 1954 میں کمیونسٹ پارٹی، انجمن ترقی پسند مصنفین اور پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن پر پابندی لگا کر ایک مرتبہ پھر انھیں گرفتار کر لیا گیا۔
مختصر یہ کہ مرزا ابراہیم 17 مرتبہ جیل گئے اور 6 مرتبہ لال قلعے میں نظر بند کیا گیا ،ہر مرتبہ سی کلاس کے قیدی رہے۔ انھوں نے 1967 میں ملک گیر ریلوے ہڑتال کروائی 13 دن ریل گاڑیاں بند رہیں، 1970 میں حکومت نے ایکشن کرائے۔
مرزا ابراہیم کو بھٹو صاحب نے پیشکش کی کہ وہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں مگر انھوں نے انکار کر دیا۔ غرض یہ کہ مرزا صاحب ایک عظیم الشان اور سیاسی مزدور رہنما تھے۔ مزدور کا یہ قلندر 11 اگست 1999 میں عوام کو سوگوار کر گیا۔