لاوارث شہر کراچی
عموماً کہا جاتا ہے کہ پوری دنیا میں جو شہر بندرگاہ کے کنارے آباد ہو تے ہیں، وہ اس ملک کی ترقی میں انتہائی اہم اور نمایاں کردار ادا کرتے ہیں،کیونکہ بندرگارہیں بیرونی دنیا سے آسان رسائی اور قریبی رابطے کا اہم ذریعہ ہوا کرتی ہیں ۔
ملک کی درآمدات و برآمدات میں گرانقدر اضافہ ملک کی صنعت، زراعت، تجارت اور سیاحت کی پیداواری عوامل پر ہی منحصر ہو تی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے ساحلی شہر جدید اربنائزیشن کا بہترین نمونہ پیش کرتے ہوئے ملک کی ترقی میں ایک انجن کا کردار ادا کرتے ہیں۔
یہاں کی تعمیر و ترقی میں حکومتیں اپنے سالانہ مالیاتی بجٹ میں ترجیحی بنیادوں پرکثیر رقم مختص کرتی ہیں اور یہاں شہری سہولتوں کی فراہمی میں کسی بھی قیمت پر پہلو تہی نہیں کی جاتی۔
ماضی گواہ ہے کہ دور برطانیہ کا غیر منقسم برصغیر کایہ اہم شہر فرنگیوں کی پسندیدگی کا نگاہ مرکز رہا ہے۔ ہزاروں برس پر محیط اس شہر کی تاریخ اور پس منظر کے حوالے سے یہ کبھی ایک چھوٹی ماہی گیروں کی بستی ’’کولاچی ‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ چھوٹی سی بستی ترقی کرتے کرتے ایک بڑے بندرگاہی میگا میٹروپولیٹن میں تبدیل ہوگئی۔ برطانوی دور میں کراچی کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی اور پاکستان کے قیام کے وقت کراچی نئے ملک کا پہلا دارالحکومت بنا۔
اربنا یزیشن کے تحت شہر قائد نفوس اور وسیع و عریض رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا میٹروپو لیٹن میگا شہر ہے جو پورے ملک کا معاشی مرکز یا ہب ہے۔ اس میگا سٹی کا حدود اربع کا تجزیہ کریں تو اس کا کل رقبہ تقریبا 3780 مربع کلومیٹر اور آبادی ایک شماریاتی اندازے کے مطابق ڈھائی کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔
انتظامی لحاظ سے یہ شہر وسیع و عریض سات اضلاع پر مشتمل ہے۔ شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے یہاں بلدیاتی نظام رائج ہے، جس کا سربراہ میئرکہلاتا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے ذریعے مختلف ٹاون کمییٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں جو اپنے حلقہ انتخاب میں شہرکی تعمیراتی کاموں کی نگرانی کرتی ہیں۔ اس شہر کا بیشتر حصہ کنٹونمنٹ پر مشتمل ہے جو مرکزی حکومت کے زیر انتظام ’’ ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹ ‘‘ کے زیر نگرانی کنٹونمنٹ بورڈز قائم ہیں۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے جو اپنی متنوع ثقافت، معاشی سرگرمیوں اور ساحلی خوبصورتی کے باعث ملک کا دل تصورکیا جاتا ہے۔شہر قائد کا کچھ حصہ کچی آبادی، شہرکے مضافاتی علاقوں میں قائم غیر قانونی گوٹھوں اورکچھ زمینی اورکچھ آسمانی آبادی پر مشتمل ہے۔
فلک بوس رہائشی عمارتی سلسلہ آبادی میں اضافہ کا سبب بھی بنا ہے۔ جا بجا رہائشی فلیٹوں پر مشتمل مختلف آسمان سے باتیں کرتے ہوئے بلند و بالا پروجیکٹس کچھ تو مکمل ہوچکے ہیں اورکچھ زیر تعمیر ہیں۔
یعنی یوں سمجھ لیجیے کہ آبادی میں تیزی سے پھیلائو کے علاوہ آبادی کا تناسب اوپرکی طرف پھیل رہا ہے، جب کہ ان پروجیکٹس میں پارکنگ کے لیے کچھ منزلیں مختص کرنے کو ضروری نہیں سمجھا گیا ۔
سقوط ڈھاکہ کے پرنم موقع پر وہاں کی بیشتر آبادی اسی شہر میں سکونت پذیر ہوئی جو بہاری کہلائے ۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع سے سرا ئیکی اور پختونوں کی کثیر تعداد رہائش پذیر ہے۔
تیسرے افغانیوں کی آبادگاری بھی بہت بڑا مسئلہ رہی ہے۔ آبادی میں روز بروز تیزی سے اضافہ اور ناقص منصوبہ بندی کے فقدان نے ان مسائل کو جنم دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے، حالانکہ شہر میں بڑے بڑے سگنل فری کوریڈور، انڈرپاس اور لیاری ایکسپریس وے جیسے منصوبے مکمل ہو جانے کے باوجود قابل استعمال ہونے کے باوجود شہر کی سڑکوں پر ٹریفک خاطر خواہ کمی نہیں دیکھنے میں نہیں آسکی۔
شہر قائد کی ٹریفک کی بے قاعدگی کی سب بڑی وجہ یہاں غیر مقامی افراد جن کا تعلق قبائلی علاقوں سے ہوتا وہ پبلک ٹرانسپورٹ چلا رہے ہیں جب کہ ان کے پاس مناسب ڈرائیونگ لائنسس اورگاڑی کی مناسب دستاویز تک نہیں ہوتیں۔آج کل پورے شہر میں رکشوں کا رش ہی ملے گا۔
شہرکی تعمیر و ترقی کا اندازہ جہاں دوسرے دیگر دستیاب عوامل سے ہوتا ہے، وہاں سڑکوں کا جال کس معیارکا ہے جو شہرکی ترقی میں نمایاں اثر ڈالتی ہے۔ اس شہر قائد کی سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ اور بدحالی دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ لوگوں کا اپنی منزل مقصود تک پہنچنا کس قدر دشوار ترین اور اذیت ناک مرحلہ یہاں کی سڑکوں پر ہے۔
ترقیاتی کام کے بہانے اچھی خاصی سڑکیں کھود دی جاتی ہیں جو عرصہ دراز تک بے توجہی کا شکار رہتی ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ان مخدوش سڑکو ں کی تعمیرکا کام خفیہ طریقہ سے ٹھیکے داروں کے رحم وکرم پر دے دیا جاتا ہے، جب کہ ترقی یافتہ ممالک میں ایسی سڑکوں کی تعمیرات راتو ں رات مکمل کر لی جاتی ہیں، تاکہ لوگوں کو کسی بھی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مصروف ترین شاہراہوں کے دونوں اطراف پتھارے داروں کا قبضہ اور ناجائز تجاوزات کا پہلو اپنی جگہ مگر سڑکوں کی جا بجا کھدائی حتی کہ پختہ تیار شدہ سڑکوں کی کھدائی اور اس کھدائی کے نتیجے میں زمین سے نکلنے والے نوک دار پہاڑی پتھر آنے جانے والوں کے لیے کسی موت کے کنویں کا منظر پیش کر رہے ہوتے ہیں ۔
ہر ذی شعور شہری سوچنے پر مجبور ہے کہ کراچی کی ان مصروف ترین سڑکوں پر ایسی کونسی قدرتی معدنی ذخائر موجود ہیں جن کی تلاش مسلسل جاری و ساری ہے۔ سڑکوں کے وسط میں خندقیں کھود کر لاوارث چھوڑ دینا ہمیں کس طرف اشارہ کر تا ہے۔