رہیں نہ رہیں ہم مہکا کریں گے
تڑپتا ہے جب کوئی بچہ تو ماں کا دم نکلتا ہے
مگر جب ماں تڑپتی ہے تو پھر زم زم نکلتا ہے
’’ماں‘‘کائنات کا وہ انمول تحفہ اور خوبصورت رشتہ ہے جس کی محبت ، ایثاراور شفقت بے لوث ہوتی ہے۔اس کے لغوی معنی پیارکے ہیں جو کہ ماں اور اولاد کے درمیان ہوتا ہے اور اس کی مامتا سے نہ صرف بچے بلکہ کائنات کا ذرہ ذرہ بھی فیضیاب ہوتا ہے۔
ماں تحفظ اور تربیت کی سب سے پہلی درسگاہ ہے جس کی بے لوث چاہت دنیا کے تمام رشتوں سے بالاتر ہے، ہر مشکل گھڑی میں اولاد کے ساتھ کھڑی رہتی ہے جب سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے، تب بھی وہ اپنے بچوں پر کوئی آنچ نہیں آنے دیتی ان کی پوری زندگی اپنی اولاد کے گرد گھومتی ہے ،وہ اپنی خواہشات اور آرام کو ہمیشہ پس پشت ڈال دیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس رشتے کا کوئی متبادل نہیں۔
ماں کے سائے میں سکون اور اطمینان ہے جس میں اولاد کا ہر دکھ درد پوشیدہ ہوتا ہے جن کی دعائیں بارگاہ الٰہی میں بھی قبولیت کے افضل ترین درجے پر فائزہوتی ہیں۔اولاد کو معاشرے ہی کانھیں اخروی لحاظ سے بھی ایک اچھا انسان بنانے کے لیے ماں اپنے دن رات قربان کردیتی ہے۔
خدا تعالی نے ماں کو صبر و تحمل ،استقلال، ایثار و قربانی کا عملی نمونہ بنایا ہے اور یوں یہ ہستی اپنے تمام تر حسرتیںلیے منوں مٹی تلے چلی جاتی ہے۔ عموما ان کے جانے کے بعد ہی ان کی قدر و قیمت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ماں تیری شفقت کا کوئی پیمانہ نہیں ملتا،تیری محبت جیسا کوئی خزانہ نہیں ملتا،میں نے ساری دنیا کی رونقیں دیکھ ڈالی مگر تیرے دامن جیسا سکون زمانے میں کہیں نہ ملا۔پڑھ کر دیکھو کتاب ہستی میں’’ماں‘‘ سے پیارا نام کیا ہوگا جس کے قدموں تلے جنت ہو،اس کے سر کا مقام کیا ہوگا۔
پچھلے دنوں راقم کو ایک عظیم صدمے سے دوچار ہونا پڑا،لیکن رب کائنات کی حکمت اور رضا میں کس کا دخل ہے‘میری اچھی امی(اچھی خالہ) کی رحلت ہوگئی، یہ میرا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے جس پر مجھے صبر کرنا ہی ہے۔
میری اچھی امی لاتعداد خوبیوں کا مرقع تھیںجس بات کا اندازہ کچھ اس طرح بھی لگایا جاسکتا ہے کہ چار ساڑھے چار بجے اٹھیں واش روم گئیںاپنی مددگار کے سہارے عصر کے لیے وضو کر کے واپس آئیں اذان کے انتظار میں اپنے کپڑے درست کرکے لیٹ گئیں اور پھر صرف دو ہچکیاں لیں سکینڈوں میں انھوں نے داعی اجل کو لبیک کہااور اپنے سفر آخرت کی جانب روانہ ہوگئیں(بے شک ہر شے کو اسی کی طرف لوٹنا ہے)۔
ان کی زندگی کے جس جس پہلو پر روشنی ڈالوں کوئی نہ کوئی نصاب زندگی سے متعلق راہ نمائی نظر آئے ،ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولنے کے سبب علم کی چاشنی زندگی کی آخری سانسوں تک ان میں رواں دواں رہی۔
بہادر یار جنگ اسکول جس کے بانیوں میں خود ان کے والد تھے وہاں سے ابتدائی، ثانوی میڑک کی تعلیم مکمل کرکے اسلامیہ گرلزڈگری کالج لائنزایریا سے انٹر، گریجویشن کی سند حاصل کی، بعدازاںاسلامک اسٹیڈیزمیں ماسڑز کی ڈگری جامعہ کراچی سے حاصل کرنے کے بعد سٹی کالج میں تدریسی فرائض انجام دینے لگیں۔
بچپن سے دینی گھرانے میں آنکھ کھولنے کے باعث مذہب سے بہت زیادہ لگاؤ تھا۔کم سنی سے روزے نماز کی بہت پابند تھیں گھنٹوںتلاوت ،تہجد، ذکر واذکاراور دیگر نفلی عبادات میں بھی مشغول رہتیںجس کی پابندی آخری عمر تک کی ۔نظر کی کمزوری کے باعث تلاوت میں مشکلات ہوتیں، لیکن پھر بھی انھوں نے اپنے دینی معمولات کسی قیمت پر ترک نہ کیے۔
میری مرحومہ والدہ سے اتنی والہانہ محبت کرتیں کہ راقم نے ’’ایک جان دوقالب‘‘کا خطاب دیا۔میری ماں کی وفات کے بعد وہ جانبر نہ ہوسکیں صرف سانسیں لیتی تھیں ان کی زندگی سے رغبت اسی دن ختم ہوگئی تھی جس دن میری ماں ان کو اکیلا چھوڑ کر ’عدم‘کے راستے چلی گئی تھی، انھوں نے بڑی ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی زندگی کے اہداف کو احسن طریقے سے مکمل کیاجس میں ان کے شریک حیات سید عظیم علی جعفری نے ہر قدم پر ان کا بھرپور ساتھ نبھایا۔
جعفری صاحب آگرہ سے تعلق رکھتے تھے ،ان کے والد پروفیسر سید امید علی جعفری ایک عالم انسان تھے اور ان کی اہلیہ چھوٹا بی انتہائی زیرک اور معاملا فہم خاتون تھیں۔صرف چھ دن کے اندر یہ شادی انجام پائی جس میں گھرانوں کی پسندیدگی، ملناملانااور تقریبات شامل ہیں۔
اس دور کی تربیت میں میکے سسرال کا کوئی تفرقہ روا نہ رکھا جاتا سب مل جل کر رہتے یہی وجہ تھی کہ راشدہ عظیم اپنے سسرال والوں کا دل و جان سے خیال رکھتیں،بچوں کی پیدائش کے بعد ان کی اچھی تربیت کے غرض سے آپ کالج سے مستعفٰی ہوگئیں۔
ان کا ایک انتہائی لائق ستائش کارنامہ یہ بھی تھا کہ انھوں نے زندگی کی آخری سانسوں تک اپنی مرحومہ سب سے چھوٹی بہن کے بچوں کا ماں کی طرح خیال رکھاجب بھی وہ ان کے گھر جاتے وہ ہر طرح کی تواضع ماں کی مامتا کے ساتھ کرتیں اور ان کے شانہ بشانہ ان کے رفیق حیات ۔
ان کے بچے چھوٹی خالہ کے بچوں کو دیکھ کر کہتے ہماری ماں کی ٹانک آگئے کیونکہ میں اور ہمشیرہ جب بھی ان سے ملنے جاتے ان کی خوشی نہ صرف ان کے چہرے بلکہ باتوں میں بھی چھلکتی یہاں تک کہ اپنی آخری ملاقات میں انھوں نے کہا’’میں حنا مسعود کے علاوہ کسی کو نہیں جانتی‘‘یہ اعزاز راقم کے لیے بہت بڑا ہے لیکن ان کو کھونے کا غم اس سے کئی گنا ہے۔
وہ ہماری ہر غم خوشی میں ہمارے ساتھ ہوتیں، حوصلہ دیتیں ۔کچھ سالوں سے وہ ہمہ وقت ضد کرتیں میرے پاس رہ جاؤ، پر وقت کی ستم ظریفی کہ ہم جی جی کرتے ہی رہ گئے جس کے درپردہ سبب کچھ یوں بھی تھا کہ ہماری خواہش ہوتی کہ ہماری ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے ،الحمدللہ خالہ کی بہو سعادت مند ہے ،وہ ایک اسکول کے تدریسی سفر سے وابستہ ہے، گھر داری دیکھتی ہے، بچے کو بھی خود ہی پڑھاتی ہے، ساس کا بھی بہت خیال رکھتی، جب بیٹیاں بیاہ دی جاتی ہیں تو بہو ہی گھر کی بیٹی بن جاتی ہے۔
اس لیے ہم ان کو زیادہ زحمت دینا نہیں چاہتے تھے۔ اس لیے رکنے کے معاملے میں آگے پیچھے ہونے لگے تھے ۔دادا ،دادی، نانا، نانی کو اصل سے سود پیارا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اچھی امی کو بھی نواسوں سے محبت ہوتے ہوئے بھی اپنے اکلوتے پوتے عثمان سے ایک الگ ہی پیار رہاجب تک وہ زندہ رہیں۔
انسان فانی ہے لیکن اس کا اچھا کردار ،اچھا اخلاق ہمیشہ زندہ رہتے ہیںدلوں میں بھی‘الفاظ میں بھی اور دعاؤں میں بھی مرتے مرتے بھی بچوں کو جینے کی دعا دے جاتی ہے ماں۔بچوں کی تفکرات میں ماں اس طرح گھل جاتی ہے کہ یک دم بوڑھی نظر آنے لگتی ہے۔
ماں بچوں کے درد کو ان کے چہرے پر پڑھ لیتی ہے۔اچھی امی آپ کی موجودگی سے مجھے لگتاکوئی مضبوط حصار مجھے اپنے گھیرے میں لیے رکھتاہے۔ ایک نامعلوم توانائی حوصلہ مجھے اپنے اندر محسوس ہوتا۔