مکہ معاہدہ دشمنوں کے نشانے پر
یہودیوں کی جانب سے 21 اگست 1969 کو مسجد اقصیٰ میں آگ لگانے کے سانحے کے بعد مسلم ممالک نے اگلے ہی ماہ 29 ستمبر 1969کو آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز کے نام سے اپنا پہلا مشترکہ ادارہ قائم کیا تھا جس کا مقصد باہمی اتحاد کو فروغ دینا اور معاشی اشتراک کو بڑھانے کے ساتھ سب سے اہم مقصد فلسطینیوں کو اسرائیل کی غلامی سے آزاد کرا کے آزاد فلسطینی ریاست کا قیام تھا۔
یہ تنظیم تو اب بھی قائم ہے مگر غیر فعال سی ہو کر رہ گئی ہے۔ اس وقت مسلم ممالک کو اسرائیل، بھارت سمیت دیگر چیلنجز کا سامنا ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلم ممالک کے درمیان مضبوط دفاعی تعاون کی ازحد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
اس سلسلے میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے پہل کرتے ہوئے باہمی دفاعی معاہدہ کیا ہے، اسے مکہ معاہدے کا نام دیا گیا ہے کیونکہ یہ مکہ جیسے بابرکت شہر میں عمل میں آیا ہے۔
اس معاہدے کے طے پانے کی خوشی میں تینوں ممالک کے دارالخلافوں میں جشن کا سماں ہے۔ یہ کوئی معمولی معاہدہ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اس وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سہ فریقی معاہدے سے قبل پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود تھا مگر اس معاہدے میں کسی دوسرے ملک کے شامل ہونے کی گنجائش موجود تھی، چنانچہ اب ترکیہ بھی اس کا حصہ بن گیا ہے اور آگے مصر اور قطر کا بھی اس کا حصہ بننے کا قوی امکان ہے۔
ویسے کئی سال پہلے ہی ایسا باہمی دفاعی معاہدہ طے پا جانا چاہیے تھا کیونکہ اسلامی ممالک کو دشمنوں سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے ایسے معاہدے کی پہلے سے ہی ازحد ضرورت تھی اسلامی ممالک کی امن پسند پالیسی اور کمزور دفاع کی وجہ سے دشمن ممالک آئے دن ان پر حاوی ہوتے جا رہے ہیں اور اگر اب بھی باہمی دفاع کے لیے اقدام نہ اٹھایا گیا ہوتا تو پھر آگے دشمنوں سے نمٹنا اور اپنے ممالک کو محفوظ بنانا بہت مشکل ہو جاتا۔
یہ اتحاد اگرچہ ابھی صرف تین ممالک کے درمیان طے پایا ہے مگر آگے اس میں اور بھی ممالک شامل ہوں گے اور پھر یہ نیٹو کی طرح ایک ٹھوس حقیقت بن کر ابھرے گا۔ گوکہ یہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے مگر دشمنوں کی نظر میں بری طرح کھٹک رہا ہے۔
یہ دراصل وہی ملک ہیں جو مسلم ممالک کی کمزوری سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ہمیں نہیں لگتا کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف ہے۔
ہمیں نہ اس معاہدے پر تشویش ہے اور نہ ہم اس کا ہدف ہیں۔ دراصل تینوں ممالک یعنی پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب سے ایران کے خصوصی تعلقات ہیں۔ چنانچہ کسی بھی ملک کو مکہ معاہدے سے خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے ،کیونکہ یہ کسی ملک پر جارحیت کرنے کا معاہدہ نہیں ہے ،اس کا مقصد صرف اپنا دفاع کرنا ہے۔
اس وقت مشرق وسطیٰ میں جاری اسرائیلی اور امریکی جارحیت نے تمام ہی خلیجی ریاستوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان ریاستوں کا صرف یہ قصور ہے کہ وہ اپنی مضبوط معیشت سے غریب مسلم ممالک کے بے روزگار افراد کی کفالت کرکے ان ممالک کی کمزور معیشت کا سہارا بنی ہوئی ہیں۔
لگتا ہے جب تک اسرائیل کا وجود قائم ہے، خلیجی ریاستیں بے سکونی کی کیفیت میں ہی رہیں گی۔ یہ مسلم ریاستیں اسرائیل کے قیام سے ہی اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی زد میں ہیں، وہ انھیں تباہ کرکے اپنے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو عملی شکل دینا چاہتا ہے۔
وہ امریکا کو اپنے ساتھ ملا کر نہ صرف ایران بلکہ تمام خلیجی ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔ اس وقت اس نے غزہ کو تباہ کرنا اور لبنان کے علاقوں پر قبضہ کرنا اپنا مشن بنا لیا ہے، حالانکہ لبنان اور غزہ میں کئی دفعہ سیز فائر ہو چکا ہے مگر وہ اپنی جارحیت سے باز نہیں آ رہا۔
اگر برطانیہ اور امریکا اپنے مالی مفادات کی وجہ سے فلسطینیوں کی زمین پر یہودیوں کو زبردستی آباد نہ کراتے تو یہ آج بھی بے وطن مارے مارے پھر رہے ہوتے۔ اس وقت وہ اسرائیل کو ایک بڑے رقبے والا ملک بنانے کے لیے عربوں کی زمینوں پر قبضہ کرنے کے لیے جارحیت کے نت نئے حربے استعمال کر رہا ہے۔
امریکا کو ایران سے لڑانا بھی اس کی چانکیائی حکمت عملی کا نتیجہ ہے ورنہ امریکا کی ایران سے دشمنی کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ امریکا نے اسرائیل کی فرمائش پر ایران پر متعدد خطرناک حملے کیے ہیں جن سے ایران کا کافی نقصان ہوا ہے مگر ایران بھی خاموش ظلم برداشت کرنے والا ملک نہیں ہے ۔
اس نے امریکی حملوں کا بھرپور جواب دیا ہے ۔ جس سے امریکا کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ادھر خلیجی ممالک ایک قابل اعتماد فوجی قوت کے حامل اسلامی اتحاد سے اپنے فوجی تعلقات قائم کرنے کے خواہش مند نظر آتے ہیں۔
ایسے میں مکہ معاہدہ ان کے لیے ایک قابل اعتماد دفاعی ڈھال بن سکتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ معاہدہ کا آغاز ان کے لیے مژدہ جان فزا سے کم نہیں ہے، اس معاہدے نے اسرائیل اور بھارت جیسے مسلمانوں کے دشمنوں کے حوصلے پست کر دیے ہیں اور اسی لیے وہ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔
بدقسمتی سے اسرائیل اور بھارت مسلم دشمنی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ دونوں ہی ممالک شروع سے ہی اپنی جارحیت کے لیے بدنام ہیں اور مسلم ممالک پر قبضہ کرنے کا اپنا پرانا ایجنڈا رکھتے ہیں۔
اسرائیل تو مسلسل اپنے جارحانہ اور غاصبانہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہے ۔ادھر بھارت بھی اکھنڈ بھارت کے اپنے خواب کو حقیقت کی شکل دینے کے لیے بے چین و بے قرار ہے، وہ اسی سلسلے میں آدھے کشمیر پر پہلے ہی قبضہ کر چکا ہے اور جو پاکستان کی حفاظت میں باقی بچا ہے، اس پر بھی قبضہ کرنے کے لیے پر تول رہا ہے۔
جس طرح اسرائیل نہیں چاہتا کہ خلیج کے مسلمان ممالک خوش حال اور فوجی طور پر طاقتور بن سکیں ،اسی طرح بھارت بھی نہیں چاہتا کہ پاکستان ایک مضبوط اور خوشحال ملک بن سکے چنانچہ پاکستان کی ترقی کو روکنے کے لیے اس نے پاکستان میں دہشت گردی کا وسیع جال پھیلا رکھا ہے مگر اس کے سندور آپریشن کو جس طرح پاکستان نے ناکام بنایا ہے اور اسے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اس سے لگتا ہے کہ اب وہ ہوش کے ناخن لے گا اور اپنی جارحیت سے باز آ جائے گا۔
مکہ معاہدہ کے بعد اب اسرائیل کے بھی جارحانہ عزائم خاک میں ملتے نظر آ رہے ہیں، اب اسے بھی راہ راست پر آجانا چاہیے۔