آزادی پریڈ میں دو سرکاری افسران کی بگھی میں آمد پر تنقید: محسن نقوی کی وضاحت
اسلام آباد میں یوم آزادی کی پریڈ کے موقع پر بگھی پر بیٹھے 2سرکاری اہلکاروں کی آمد کے منظر پر کئی لوگوں نے تنقید کی اور اسے برطانوی راج کے دور سے تعبیر کیا جب کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے وضاحتی بیان جاری کردیا۔
رواں سال 14 اگست کو یوم آزادی کی پریڈ کا انعقاد اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع ڈی چوک پر کیا گیا تھا اور یہ تقریب پانچ بجے شروع ہونا تھی۔
تقریب کی شروعات چھ بجے کے بعد ہوئی اور اس دوران اس پروگرام کے میزبان کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے چیئرمین ریٹائرڈ لیفٹیننٹ سہیل اشرف کو اسلام آباد پولیس کے سربراہ سید علی ناصر رضوی کے ساتھ شاہی بگھی میں سوار دیکھا گیا۔
اس منظر نے پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بحث چھیڑ دی تھی کہ آیا مہمان خصوصی کی بجائے دو سرکاری اہلکاروں کی جانب سے بگھی استعمال کرنا مناسب تھا اور کیا یہ انگزیز دور حکمرانی کی یاد نہیں ہے۔
لیکن بگھی میں بیٹھ کر جانا پھر بھی نہیں بنتا تھا https://t.co/Qne70eN1ld
— Aamir Ilyas Rana (@RanaAamirilyas) August 15, 2026
اس پر وضاحت دیتے ہوئے پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ شاہی بگھی کو ’ناگزیر حالات کے باعث بدقسمتی سے اِن افسران نے استعمال کیا‘ مگر یہ اُن کی غلطی نہیں ہے۔
ماشااللہ،ھم ابھی ایک مقروض ملک ھیں۔ pic.twitter.com/TeiJbkAbi4
— صحرانورد (@Aadiiroy2) August 15, 2026
سی ڈی اے کے زیرِ اہتمام رواں سال اسلام آباد سٹی پریڈ کا مقام اولڈ پریڈ گراؤنڈ ڈی چوک تھا اور اس تقریب کی شروعات کا وقت پانچ بجے بتایا گیا تھا۔ مگر یہ پریڈ تاخیر سے شروع ہوئی۔
پریڈ شروع ہونے سے قبل اسلام آباد کے چیف کمشنر (چیئرمین سی ڈی اے) اور آئی جی کا استقبال کیا گیا جو تقریب کے مقام میں شاہی بگھی پر داخل ہوئے۔
اس موقع پر اینکر کی جانب سے مائیک پر اعلان کیا گیا کہ ’خواتین و حضرات! آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس وقت پریڈ گراؤنڈ میں اسلام آباد پولیس کے سپہ سالار آئی جی اسلام آباد اور چیئرمین سی ڈی اے داخل ہو رہے ہیں۔‘
’آپ تمام کے میزبان اور اس پروگرام کو انتظام کرنے والے ایک دفعہ بھرپور خراج تحسین، چیئرمین سی ڈی اے اور آئی جی اسلام آباد۔ بھرپور تالیوں میں استقبال کیجیے۔‘
جب بگھی رُکی تو آئی جی اسلام آباد نے کراؤڈ کی طرف دیکھتے ہوئے اپنا سلام پیش کیا۔ دونوں سرکاری اہلکاروں کا استقبال انھی کے ماتحتوں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن، ڈی آئی جی ہارون جوئیہ اور دیگر افسران نے کیا۔
اس کے بعد اینکر نے اعلان کیا تھا کہ ’تمام لوگوں سے تلقین ہے کہ آپ انتظار کریں، ابھی تھوڑی دیر میں چیف گیسٹ آئیں گے، منتظمین ان کو ریسیو کریں گے اور پریڈ کا باقاعدہ آفیشل آغاز ہونے والا ہے۔‘ اس کے بعد پریڈ میں وزیر داخلہ محسن نقوی کی انٹری ہوئی۔
مگر ایاز صادق کی انٹری بگھی کی بجائے اپنی گاڑی میں ہوئی۔ جبکہ پریڈ کا باقاعدہ آغاز مغرب کے وقت اسلام آباد پولیس کے دستے کی آمد سے ہوا تھا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے وضاحت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتا ہوں کہ جو کچھ ہوا وہ مناسب نہیں تھا۔ لیکن میں یہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ یہ نہ تو آئی جی کی غلطی تھی اور نہ ہی چیف کمشنر اسلام آباد کی۔‘
’صدر کی وزیرِ اعظم سے ملاقات کے باعث مہمانِ خصوصی اور مجھے تاخیر ہو گئی تھی۔ کراؤڈ شام پانچ بجے سے انتظار کر رہا تھا اور تقریباً شام چھ بجے جب یہ واضح ہو گیا کہ ہم تاخیر سے پہنچیں گے تو ہم نے افسران کو ہدایت دی کہ پروگرام شروع کر دیں کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ عوام مزید انتظار کریں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ بگھی مہمانِ خصوصی کے لیے مختص تھی اور انھی کی جانب سے تقریب میں اسے استعمال کیا جانا تھا۔ تاہم ان کے بقول ’ناگزیر حالات کے باعث بدقسمتی سے اسے افسران نے استعمال کیا۔‘
محسن نقوی نے کہا کہ ’میں ریکارڈ پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ دونوں افسران نے ابتدا میں ہماری غیر موجودگی میں پروگرام شروع کرنے پر ہچکچاہٹ کا اظہار کیا تھا۔ لیکن عوام کی سہولت کے پیشِ نظر ہم نے انھیں خاص طور پر پروگرام آگے بڑھانے کی ہدایت دی تھی۔‘
انھوں نے اپنے پیغام کا اختتام یہ کہہ کر کیا کہ ’میں 14 اگست کی تقریب کو ایک حقیقی جشن بنانے پر اسلام آباد کے رہائشیوں کا شکر گزار ہوں۔‘
I know what happened was not appropriate, but I want to clarify that it was neither the IG’s nor the Chief Commissioner’s Islamabad fault.
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) August 15, 2026
The Chief Guest and I were delayed due to the President’s meeting with the Prime Minister. The crowd had been waiting since 5:00 pm, and at… https://t.co/pkBmK45RMN