ایران نے امریکا، اسرائیل کے خلاف سیاسی و فوجی محاذ پر حقیقی فتح حاصل کرلی، قالیباف
فوٹو: پریس ٹی وی
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کے خلاف سیاسی اور فوجی دونوں محاذوں پر حقیقی کامیابی حاصل کرلی ہے اور دونوں دشمن ممالک اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پارلیمانی رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کو امریکا اور اسرائیل کی سربراہی میں ہونے والی غیرمنصفانہ جنگ کے خلاف برسرپیکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم پرعزم کھڑی رہی اور اسرائیل و امریکا کے خلاف 40 روز تک بلااشتعال ہونے والی جنگ کے دوران حوصلے کے ساتھ لڑتی رہی، اسی طرح ایران کی فوجی اور سیاسی فتح میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔
باقر قالیباف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل 9 واضح اور دستاویزی اہداف کے ساتھ جنگ میں کودے تھے جس کا اعلان اپنے بیانات میں مسلسل کرتے رہے ہیں تاہم وہ کسی بھی سطح پر اپنے ان اہداف میں کوئی ایک بھی حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ امریکا اور صہیونی حکومت کے لیے بدترین اور مکمل شکست ہے اور ہمارے لیے عظیم فتح ہے، جون میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت فخر اور جیت کی دستاویز ہے جو سفارتی میدان میں تہران کی کامیابیوں کی توثیق کرتی ہے۔
باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کی فوجی کارروائیوں اور سفارتی سطح پر دونوں محاذوں میں کامیابی ایرانی عوام کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے، جنہوں نے فروری میں جنگ کے آغاز سے ہی اپنے اتحاد کا مظاہرہ کیا، امریکا اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے دوران ایران کے مختلف فرقوں اور مذہبی پس منظر سے تعلق رکھنے والے عوام ایران اور اپنی سرحد کے دفاع میں فخر کے ساتھ مستعد رہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری 2026 کو ایران پر اچانک حملہ کردیا تھا، جس کے نتیجے میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، پاسداران انقلاب کے سرکردہ کمانڈرز اور اہم سیاسی رہنما شہید ہوگئے تھے تاہم پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں جنگ بندی کی گئی تھی۔
امریکا اور ایران نے 17 جون کو پاکستان اور قطر کی ثالثی کے ذریعے ہونے والے اسلام آباد مفاہمی یادداشت پر دستخط کردیے تھے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان مکمل جنگ بندی کے لیے مذاکرات کرنا تھا۔
بعد ازاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور دونوں اطراف سے دوبارہ حملے شروع کیے گئے اور آبنائے ہرمز کو تجارتی آمد ورفت کے لیے بند کردیا گیا جہاں ایک طرف امریکا نے ایران کی ناکابندی کی اور دوسری طرف ایران نے جہازوں کی سرگرمیاں روک دیں۔