امریکہ میں اسرائیلی لابی

دنیا کی اکلوتی سپرپاور میں پنپتی ایک شاطر قوت کا تذکرہ جس نے امریکی سیاست کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے

’’انسان کو طاقت نہیں بگاڑتی خوف بگاڑتا ہے... طاقت کھو دینے کا خوف۔‘‘(جان اسٹین بیک، امریکی ادیب وناول نگار)

٭٭

1948ء میںجب فلسطین میں جنگ بھڑک رہی تھی، امریکی صدر ہیری ٹرومین نے خود کو ایک مشکل اور ناہموار صورتِ حال میں گھرا پایا۔ایک طرف صیہونی لابی کے ارکان اور صدر کے داخلی سیاسی مشیر تھے۔وہ اُن پر زور دے رہے تھے کہ فلسطین کے زیادہ سے زیادہ حصّے پر ایک یہودی ریاست کے قیام کی حمایت کریں۔ دوسری طرف خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اعلیٰ ترین حکام تھے جن کی قیادت وزیرِ خارجہ جارج سی مارشل کر رہے تھے۔ ان کا متفقہ مشورہ یہ تھا کہ یہودی ریاست کا قیام روکا جائے کیونکہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ چھڑنے اور عرب و مسلم دنیا کے ساتھ امریکی تعلقات کا مستقبل خطرے میں پڑنے کا خدشہ تھا۔

امریکہ کے بانی سمجھے جانے والے جارج واشنگٹن کے علاوہ امریکی تاریخ میں کسی بھی سفارتی یا فوجی رہنما کو حب الوطنی کی پاسداری اور فرائض کی انجام دہی میں جارج مارشل جیسی شہرت اور قابلیت حاصل نہیں تھی۔ ٹرومین خود اپنے اس وزیرِ خارجہ کی عظمت کے معترف تھے جنھیں دوسری جنگِ عظیم میں امریکی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے طور پر ونسٹن چرچل نے ’’فتح کا اصل منتظم‘‘ قرار دیا تھا۔ جنگ کے بعد یہ مارشل ہی تھے جنہوں نے یورپ کی دوبارہ تعمیر کے لیے وہ منصوبہ شروع کیا جو انہی کے نام سے موسوم ہوا۔

1940ء کی دہائی کے وسط سے مارشل خاموشی لیکن مضبوطی کے ساتھ فلسطین میں یہودی ریاست کا قیام یقینی بناتی صیہونی تحریک کی تجاویز کی مخالفت کرنے لگے ۔ انھیں خدشہ تھا کہ امریکی حمایت سے سوویت یونین کو عربوں کے غصّے سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل جائے گا، سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان جنگ کی صورت مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی فراہمی خطرے میں پڑ جائے گی اور فلسطین میں خون خرابا اور بے امنی روکنے کے لیے اتنی بڑی امریکی فوج بھیجنی پڑے گی جو فی الوقت دستیاب نہیں ۔ درحقیقت یہ ٹرومین کے تمام اہم ترین فوجی اور خارجہ پالیسی کے مشیروں کی بھی پختہ رائے تھی۔

ٹرومین ذاتی طور پر جرمن نازیوں کے ’’حتمی حل‘‘ سے بچ جانے والے یہودکی تکلیف سے شدید متاثر تھے۔ لیکن وہ اُن مہم جوؤں کے مسلسل دباؤ اور تکرار سے سخت بیزار اور بعض اوقات غضبناک بھی ہو جاتے جو فلسطین میں یہودی ریاست کے اعتراف کے لیے کوشاں تھے اور جن میں عالمی صیہونی تنظیم اور دیگر کئی یہودی وفود، اُن کے دوست اور سیاست دان شامل تھے۔ اپنی ذاتی بیزاری کے باوجود وہ انہیں نظر انداز نہیں کر سکتے تھے۔ انتخابی سال ہونے کی وجہ سے جس میں ان کا مقابلہ نیویارک کے گورنر تھامس ڈیوی سے تھا،صیہونی لابی کے دباؤ نے انہیں ایک انتہائی دردناک اور شرمندہ کر دینے والی پوزیشن میں دھکیل دیا۔

جب فلسطین خانہ جنگی کی لپیٹ میں آیا، عرب ریاستیں حملے کی دھمکی دینے لگیں اور آخری برطانوی فوجی بھی فلسطین سے نکل گئے تو ٹرومین نے 12 مئی 1948ء کو اپنے اعلیٰ مشیروں کا ایک اجلاس طلب کیا۔ اِس اجلاس سے قبل مارشل کے اپنے بیان کے مطابق انہوں نے ٹرومین کو خبردار کیا کہ وہ ان کے اہم سیاسی مشیر، کلارک کلفورڈ کی اُس پالیسی کو قبول نہ کریں جس میں اسرائیل کے قیام سے پہلے ہی اسے تسلیم کرنے پر شدید زور دیا جا رہا تھا۔

مارشل کے مطابق ایسا قدم ’’کچھ ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایک شفاف چال‘‘ ہوگا جس سے ’’صدر کے عہدے کا عظیم وقار شدید متاثر ہوگا۔‘‘مارشل نے یہاں تک اعلان کر دیا کہ اگر ٹرومین اس معاملے پر سیاسی دباؤ کے آگے جھک گئے، تو وہ ذاتی طور پر الیکشن میں ٹرومین کو ووٹ نہیں دے سکیں گے۔ اس بات سے شدید دہل جانے کے بعد ٹرومین نے یہ کہتے ہوئے اجلاس ختم کر دیا کہ وہ مارشل سے اتفاق کرتے ہیں۔تاہم صرف دو دن کے اندر اپنی صدارت کی ڈگمگاتی گرفت اور صیہونی ہمدردوں کی اِس طاقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ وہ نیویارک کے الیکٹورل ووٹ ریپبلکن پارٹی کے حق میں ڈال سکتے ہیں،انہوں نے حکم دیا کہ اسرائیل کو تسلیم کر لیا جائے۔

چشم کشا کتاب

یہ واقعہ امریکی ماہر سیاسیات، آئن لسٹک اور صحافی ایلی کلفٹن کی لکھی تازہ کتاب’’اسرائیلی لابی: امریکہ غیرملکی قوت کی گرفت میں‘‘(Israel's Lobby: America in the Grip of a Foreign Power )سے لیا گیا ہے۔ کتاب یہ تلخ حقیقت آشکارا کرتی ہے کہ آج امریکہ میں اُن گروہوں کا اثر و رسوخ جنہیں مجموعی طور پر ’’اسرائیلی لابی‘‘کے نام سے جانا جاتا ہے، پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہو چکا ۔ ٹرومین کی وہ مشکل حالت جس میں وہ اپنے قومی مفاد کے احساس اور ایک طاقتور لابی کی مخالفت کی صورت میں چکانی پڑنے والی سیاسی قیمت کے درمیان پھنسے ہوئے تھے…یہ ایک ایسا معاملہ تھا جسے آنے والی دہائیوں میں ہر امریکی صدر نے محسوس کیا۔کتاب سے مذید مندجات درج ذیل پیش ہیں۔

معمول کی بات

مثال کے طور پر سال رواں کے شروع میں امریکی صدر ،ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کرنے کا فیصلہ اسرائیل کی اُس مسلسل مہم کے بعد کیا جس کا مقصد امریکہ کو اِس تباہ کن کارروائی میں شامل ہونے پر آمادہ کرنا تھا۔ یہ فیصلہ ان کے کئی اعلیٰ مشیروں اور 45 فیصد ریپبلکنز کی خواہشات کے خلاف بھی تھا جو اسرائیل کے بارے میں ناپسندیدہ رائے رکھتے ہیں۔ یہ فیصلہ شاید اُس غیر مستحکم پالیسی سازی کی ایک اور مثال کہہ کر حل کر لیا جائے جو بطور صدر ٹرمپ کے دونوں ادوار کی صدارت کی علامت رہی ہے۔ لیکن اُن کے چند پیشروؤں کے تجربات کا باریک بینی سے جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ صدر کا یہ فیصلہ مستثنیٰ ہونے کے بجائے ’’ عام معمول کی بات‘‘ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ٹرومین سے لے کر ٹرمپ تک زیادہ تر امریکی صدور نے اسرائیل اور اس کے حامیوں کے مطالبات کے آگے گھٹنے ٹیکے ہیں۔ سیاسی شکستوں کے خوف کی وجہ سے صدور نے باقاعدگی سے اُن خارجہ پالیسیوں کو رد یا ترک کیا ہے جن کے بارے میں ان کا اور سینئر ترین مشیروں کا ماننا تھا کہ وہ امریکہ کے بہترین مفاد میں ہیں… اور ایسا اسرائیلی ۔فلسطینی تنازع کا پُرامن حل نکالنے میں کسی معنی خیز پیشرفت کی قیمت پر کیا گیا۔

آئن لسٹک اور ایلی کلفٹن کی تحقیقی نئی کتاب امریکی تاریخ کی سب سے طاقتور خارجہ پالیسی لابی کی دہائیوں پر محیط ترقی و بڑھوتری کا جائزہ لیتی ہے۔ تحقیق آشکارا کرتی ہے، متعدد تنظیموں، گروہوں اور افراد پر مشتمل لابی کو اسرائیلی حکومتوں نے پروان چڑھایا جو صریحاً اسرائیل کے مفادات کے حق میں امریکی پالیسیوں کی وکالت کرتی ہے ۔اسرائیل مسلسل اس کی حوصلہ افزائی و رہنمائی کرتا ہے۔ اس سچائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کہ اکثر امریکی ووٹر معاملے سے ناواقف یا بے پروا تھے، لابی نے بے پناہ وسائل اور بھرپور توجہ کا استعمال کرتے ہوئے ہر سطح کے سیاست دانوں کو ان کی اِس آمادگی کی بنیاد پر سزا دی یا نوازا کہ وہ لابی کی ہدایات پر کس حد تک عمل کرتے ہیں۔

جیرالڈ فورڈ کی شکست

   مثال کے طور پر ٹرومین کے واقعے کے بیس سال بعد صدر جیرالڈ فورڈ نے مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی پالیسی کے ایک ایسے عمل کا آغاز کیا جسے انہوں نے ’’دوبارہ جائزہ‘‘ (Reassessment) کا نام دیا۔ اس پیشرفت کو فورڈ اور ان کے وزیرِ خارجہ، ہنری کسنجر نے جامع عرب-اسرائیل امن معاہدے کی طرف بڑھنے میں دو سال کی شرم ناک ناکامیوں سے بچنے کے ایک راستے کے طور پر آگے بڑھایا تھا۔ فورڈ اور کسنجر، دونوں ہی اسرائیل کے ہٹ دھرم رویّے اور رکاوٹیں ڈالنے سے شدید نالاں ہو چکے تھے۔

یہ دوبارہ جائزہ کسنجر کی طرف سے بلائی گئی ’’دانشوروں‘‘ کی کمیٹی نے مرتب کیا تھا: یہ حکومت کے سابق حکام تھے جنھیں جنگ کے بعد قائم ہونے والی امریکی خارجہ پالیسی کی بنیاد سمجھا جاتا تھا۔ اس کمیٹی کی متفقہ سفارش یہ تھی کہ سوویت یونین کے تعاون سے ایک جامع امن حاصل کرنے کے لیے اسرائیل پر مغربی کنارے (ویسٹ بینک) اور غزہ کی پٹی سے پیچھے ہٹنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔

اس بات کے واضح اشارے تھے کہ فورڈ یہ سفارش قبول کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔چناں چہ اسرائیل نے اپنی لابی کی تنظیموں کو متحرک کر دیا، جیسے کہ ’’کانفرنس آف پریذیڈنٹس آف میجر جیوش آرگنائزیشنز‘‘ اور ’’اے پیک‘‘ ( امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی)۔ اس لابی کی سب سے بڑی اور فیصلہ کن کامیابی ایک خط تھا جسے ’’اے پیک‘‘ نے تیار کیا اور فورڈ کو بھیجا۔اس میں صدر سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ ’’وہ یہ واضح کریں ، ریاستہائے متحدہ اپنے قومی مفادات کے تحت کام کرتے ہوئے آئندہ کے مذاکرات میں امن کی تلاش کے لیے اسرائیل کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔‘‘اس خط پر 76 امریکی سینیٹرز کے دستخط تھے۔

فورڈ یہ خط پڑھ کر’’شدید غضبناک‘‘ہوئے کیونکہ ان کا ماننا تھا ،یہ سفارت کاری میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے لابی استعمال کرنے کی ایک اسرائیلی مہم ہے۔ لیکن پھر وہ خوفزدہ ہو گئے۔ اگلے سال الیکشن میں اپنی جیت کے امکانات بچانے کے لیے فورڈ نے ’’دانشوروں‘‘ کی متفقہ سفارش رد کر دی اور اس کے بجائے اسی عمل کی طرف لوٹ آئے جس نے انہیں سخت اشتعال دلایا تھا…یہ بنیادی طور پر ایک ایسا طریقہ تھا جس کے تحت ۷۶۹۱ء میں مصر سے چھینی گئے علاقے، جزیرہ نما سینا کو امداد کی بڑھتی رقم کے عوض اسرائیل سے خریدنا اور پھر انہیں مصر کو واپس کرنا تھا۔ فورڈ اور کسنجر نے اسرائیل کے لیے امریکی امداد کے پیمانے اور دائرہ کار میں بھی بے پناہ اضافہ کر دیا۔

اِس میں امریکی۔اسرائیلی’’سمجھوتے کی یادداشت‘‘ کے تحت کیے گئے امریکی سیاسی، اقتصادی، فوجی اور سفارتی عزم کا ایک وسیع نیا مجموعہ شامل تھا جس پر خفیہ ضمیموں کے ساتھ ۱ ستمبر 1975ء کو دستخط کیے گئے ۔ کسنجر کے معاونین نے ان مذاکرات میں اسرائیل کو دی جانے والی ضمانتوں اور مراعات کو ’’عقل دنگ کر دینے والی‘ اور’’ناقابلِ یقین‘‘ قرار دیا۔ فورڈ نے اپنی سوانح عمری میں سینیٹ کے تین چوتھائی ارکان کے دستخط شدہ ’’اے پیک‘‘ کے اس خط کے بارے میں تلخی سے لکھا جس نے ان کے سفارتی منصوبوں کو تباہ کر ڈالا اور ان کی انتخابی مہم پر مایوسی کا سایہ ڈال دیا تھا۔

جمی کارٹر کی آمد

حقیقت یہ ہے کہ فورڈ الیکشن میں جمی کارٹر سے ہار گئے۔ اسرائیلی لابی کو امید تھی کہ 71 فیصد یہودی ووٹ حاصل کرنے والے کارٹر مشرقِ وسطیٰ میں امن لانے کی خواہش ترک کر دیں گے لیکن انہوں نے جلد ہی لابی کو مایوس کر دیا۔ صدر نے اپنی توجہ عرب۔اسرائیل تنازع کے بنیادی مسائل حل کرنے والے ایک معاہدہِ امن پر مرکوز کر دی۔ان کو عوامی مقبولیت حاصل تھی۔ امریکی عوام با فہم اور مسئلہ حل کرنے والے صدر کے ساتھ تھے۔لہذا کارٹر نے مارچ 1977ء میں اس یقین کا اظہار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے جس امن کو وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس کا ایک اہم حصہ’’آزاد فلسطینی ریاست " کا قیام ہے۔

اسرائیل نواز لابی نے فوری طور پر کارٹر کے امن اقدام کے خلاف صف بندی کر لی۔ جون کے شروع میں صدر کو بھیجی گئی ایک انتہائی محتاط 50 صفحات کی اندرونی سیاسی امور کی یادداشت میں کارٹر کے سینئر مشیر نے انہیں خبردار کیا کہ فلسطینی ریاست پر علانیہ غور کرنے کے نتیجے میں لابی کی مخالفت کی وجہ سے انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، بشمول اپنی ہی پارٹی کی طرف سے دوبارہ نامزدگی حاصل کرنے میں ناکامی کا خطرہ۔ ان تمام باتوں سے بے پروا کارٹر نے اوول آفس کی ایک میٹنگ میں اسرائیلی وزیراعظم اسحق رابن کے مسلسل سخت ہوتے موقف پر براہِ راست تنقید کی۔ ان کے اختلافات مائناخم بیگن کے ساتھ اور بھی شدید تھے جو مئی 1977ء میں اسرائیل کے وزیراعظم بنے ۔ اس دوران کارٹر نے مصری، شامی اور فلسطینی رہنماؤں کے ساتھ گہرے رابطے شروع کر دیے۔

اکتوبر 1977 ء میں امریکی وزیرِ خارجہ، سائرس وینس نے سوویت وزیرِ خارجہ اندرے گرومیکو کے ساتھ ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں دونوں سپر پاورز نے ’’عرب۔اسرائیل تنازع کا ایک منصفانہ اور پائیدار حل جلد از جلد حاصل کرنے کا عزم ظاہر کیا۔‘‘ اگرچہ یہ توقع تھی کہ صدر کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی مخالفت کا نشانہ بنے گی لیکن امریکی انتظامیہ امریکی-سوویت اعلامیے پر اسرائیلی حکومت اور لابی، دونوں کے شدید اور غضبناک ردِعمل سے دنگ رہ گئی۔ سیاسی نقصان سے شدید پریشان ہو کر کارٹر نے نیویارک میں اسرائیلی وزیرِ خارجہ موشے دایان سے ملاقات کی درخواست کی۔

کارٹر کے قومی سلامتی کے مشیر ،زبیگنیو برزنزکی کے مطابق جو اس ملاقات میں موجود تھے: ’’دایان نے درحقیقت صدر کو بلیک میل کرتے ہوئے کہا کہ جب تک انہیں یہ یقین دہانی نہیں کرائی جاتی کہ امریکہ آزاد مغربی کنارے کی مخالفت کرے گا اور اسرائیل کو اقتصادی و فوجی امداد دے گا، وہ امریکہ میں اپنے عوامی بیانات میں ناخوشی کا اظہار کرتے رہیں گے۔‘‘. دایان نے مزید کہا’’میں امریکی یہودیوں کے پاس جا سکتا ہوں۔‘‘ اس دھمکی کے سامنے کارٹر نے ہتھیار ڈال دیے۔

اگلے ہی دن وینس اور دایان نے صبح کے ابتدائی اوقات میں تیار کردہ ایک امریکی۔اسرائیلی ’’ورکنگ پیپر‘‘ کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے مشترکہ بیان جاری کیا۔ بیان میں اِس بات کی تصدیق کی گئی کہ مذاکرات کا دائرہ کار ڈرامائی طور پر محدود کر دیا جائے گا اور فلسطینی ریاست کو مرکزی مسئلہ نہیں بنایا جائے گا۔ اس کا حتمی نتیجہ اسرائیل اور مصر کے درمیان مشہور معاہدہ امن کی صورت نکلا جس نے کارٹر، بیگن اور سادات کو نوبل امن انعام تو دلوا دیا لیکن اِس سے عرب دنیا میں مصر تنہا ہو گیا اور بعد ازاں سادات کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اسی امریکی۔اسرائیلی ’’ورکنگ پیپر‘‘ نے 1982ء میں لبنان پر اسرائیل کے حملے اور فلسطین میں آبادکاری کے ان منصوبوں کی بنیاد بھی رکھی جن کے نتیجے میں اسرائیل نے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر باقاعدہ قبضہ کر لیا۔

صدر بش کی کوشش بھی ناکام

یہ یقینی ہے، انیس سال بعد نئے امریکی صدر، جارج ایچ ڈبلیو بش نے بالکل وہی جذبات محسوس کیے جو کارٹر نے محسوس کیے تھے۔تب اپنے عرب-اسرائیل امن اقدامات کی شدید اسرائیلی لابی مخالفت کے پیشِ نظر انہوں نے اُس کے اثر و رسوخ پر اپنی مایوسی کا علانیہ اظہار کیا تھا۔ آنے والی میڈرڈ امن کانفرنس کی کامیابی کے امکانات بڑھانے کی ایک ناکام کوشش میں بش نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں رہائش پر اسرائیل کے اخراجات کے برابر امریکی قرضوں کی ضمانتوں کو معطل کر دیا۔ ایسا کرنے پر انہیں اسرائیلی لابی کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔

بش نے کہا’’ہمیں ایسے بہت طاقتور اور اثر انگیز گروہوں کا سامنا ہے جو کیپیٹل ہل(امریکی دارالحکومت) تک جاتے ہیں۔ میں نے آج سنا ہے کہ کیپیٹل ہل پر تقریباً ایک ہزار لابیئسٹ اس مسئلے کے دوسرے رخ پر کام کر رہے ہیں۔ جبکہ یہاں ہم صرف ایک تنہا اور چھوٹے سے آدمی ہیں جو امن کے لیے کوشش کرنے میں مصروف ہیں۔‘‘

اوباما کی بھی پسپائی

صدارتی امن اقدامات ناکام بنانے کے سلسلے میں اسرائیلی لابی کی صلاحیت کا ایک اور زبردست مظاہرہ اوباما انتظامیہ کے دوران دیکھنے کو ملا۔ صدر اوباما سے پہلے کوئی بھی صدر اتنی تفصیلی معلومات، یہودیوں اور فلسطینیوں دونوں کے ساتھ ذاتی تعلقات کے ریکارڈ اور عربوں و مسلمانوں کے ساتھ امریکی تعلقات بہتر بنانے کے مسلسل عزم لیے وائٹ ہاؤس میں داخل نہیں ہوا تھا۔فلسطینی مسئلے کے ’’دو ریاستی حل‘‘ کو مکمل طور پر اپناتے ہوئے انہوں نے ایک نمایاں امن اقدام کا آغاز کیا جسے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر مکمل اسرائیلی پابندی سے شروع کیا جانا تھا۔

لیکن اِس سے اسرائیل اور امریکہ میں اسرائیلی لابی کے رہنماؤں میں غصے کی لہر دوڑ گئی اور باراک اوباما اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے درمیان جو علانیہ تنازع کھڑا ہوا، وہ اوباما کے لیے زیادہ مہنگا ثابت ہوا۔ اوباما نے جلد ہی اپنا راستہ بدل لیا اور عملًا امن عمل کے نمائندے جارج مچل…جنہیں فلسطینیوں کا دوست سمجھا جاتا تھا، ان کی جگہ ڈینِس راس کو دے دی جو اسرائیلی لابی کا اندرونی فرد تھے۔ان کے اس مشورے پر صدر نے فوری عمل کیا کہ اس کوشش کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ اسرائیل پر یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے بجائے اوباما نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو ذاتی فون کر کے دھمکی دی کہ اگر عباس نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی بستیوں کی مخالفت والی قرارداد واپس نہ لی تو وہ فلسطینیوں کو دی جانے والی 450 ملین ڈالر کی امریکی امداد روک دیں گے۔

صدر اوباما نے اپنے دوسرے دورِ صدارت کے پہلے سال اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں اقوامِ متحدہ میں اپنی پچھلی تقریروں کی زبان سے ڈرامائی تبدیلی اختیار کر لی۔ اسرائیلی بستیوں پر تنقید کرنے اور دو ریاستی حل پر زور دینے کے بجائے انہوں نے خود کو خود ساختہ فلسطینی دہشت گردی کے اسرائیلی متاثرین کے ساتھ جوڑ دیا، فریقین کے درمیان براہِ راست مذاکرات پر اسرائیل کے اصرار کے برعکس کسی بھی یو این اقدام کی مخالفت کی اور ایک یہودی ریاست کے طور پر اسرائیل کی مشروعیت کے چیلنجوں کی مذمت کرتے رہے۔

صدر اوباما کی اِس ڈرامائی پسپائی کی وجہ ان کی سوانح عمری ’’اے پرومسڈ لینڈ‘‘ سے با آسانی اخذ کی جا سکتی ہے۔اس میں وہ شکایت کرتے ہیں کہ ’’اے پیک‘‘ امریکی سیاست دانوں کو ’’سام دشمن ‘‘کا لیبل لگائے جانے کے خوف کے ذریعے مطیع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس طرح کی دھمکیوں کے سامنے وہ اپنی خاص کمزوری پر زور دیتے ہیں کیونکہ وہ ’’ایک سیاہ فام شخص تھے جن کا نام اسلامی تھا اور وہ لوئس فرخان کے پڑوس میں رہتے تھے۔‘‘

 ’’خصوصی تعلقات‘‘

حال ہی میں صدر جو بائیڈن کی صورت میں اسرائیلی لابی کو ایک ایسا صدر مل گیا تھا جو سچے دل سے مانتا تھا کہ یہودی ریاست امریکہ کے ساتھ ’’خصوصی تعلقات‘‘ رکھنے کی حقدار ہے۔ اِس عزم کی پختگی کا امتحان 7 اکتوبر 2023ء کو حماس اور اسلامی جہاد کے حملوں پر اسرائیل کے ردِعمل سے ہوا۔اسرائیلی لابی کے اِس منتر کو تسلیم کرنے کی عادت کہ واشنگٹن اور یروشلم کے درمیان ذرا سا بھی’’فاصلہ‘‘ عربوں کی ہٹ دھرمی کو ہوا دے گا اور اوباما کو اسرائیلیوں پر سخت گیری دکھانے کی جو سیاسی سزا ملی تھی، اسے یاد رکھتے ہوئے بائیڈن نے اپنے اعلیٰ مشیروں کی اُن تمام سفارشات کو مسترد کر دیا جو غزہ کے فلسطینیوں پر اسرائیلی حملے روکنے کے لیے کچھ معنی خیز عمل کرنے سے متعلق تھیں۔

جب صدر بائیڈن نے غزہ میں عام شہریوں کی زیادہ ہلاکتوں کے بارے میں محدود شکایت اور اسرائیلی اسلحے کی امریکی سپلائی میں معمولی تاخیر کی، تو ’’ریپبلکن جیوش کولیشن‘‘ نے امریکہ۔اسرائیل تعلقات میں فاصلہ پیدا کرنے پر انتظامیہ پر شدید تنقید کی۔ جبکہ ’’اے پیک‘‘نے کانگریس کے ارکان کو ایک تفصیلی یادداشت بھیجی جس میں اسرائیلی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے انہیں محدود، ضروری اور عام شہریوں کی ہلاکتیں کم کرنے کے لیے ڈیزائن کردہ قرار دیا گیا۔

اسرائیل لابی کے ساتھ صدور اور امریکی نظام حکومت کا تجربہ امریکہ کے پہلے صدر، جارج واشنگٹن کی دانشمندی اور غیر معمولی بصیرت ثابت کرتا ہے۔ اپنے الوداعی خطاب میں واشنگٹن نے خبردار کیا تھا کہ امریکی نظامِ حکومت کو کسی بھی ایسے گروہ کے ذریعے آسانی سے استعمال کیا جا سکتا ہے جو کسی غیر ملکی ملک کے ساتھ ’’شدید لگاؤ‘‘ رکھتا ہو۔ واشنگٹن کا استدلال تھا کہ چونکہ کسی دوسرے ملک کے مفادات کے لیے وقف کوئی بھی گروہ قدرتی طور پر مؤثر ملکی مخالفت کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ روک نہیں پائے گا، اس لیے وہ ریاستہائے متحدہ کو بیرونِ ملک مبالغہ آرائی پر مبنی اور خطرناک معاہدوں میں دھکیل اور اسے ایسے تنازعات اور جنگوں میں الجھا دے گا جو ملک کے مفادات کے خلاف ہوں۔

اسرائیلی آکٹوپس

غزہ میں اسرائیلی حکومت کے ہاتھوں اہل فلسطین کی نسل کشی کے بعد امریکہ میں اس مسئلے کی سیاست بدل گئی ہے کیونکہ متعدد امریکی غزہ، لبنان اور مغربی کنارے پر اسرائیلی حملوں پر شدومد کے ساتھ ردِعمل ظاہر کر رہے ہیں۔ بائیڈن اور کاملا ہیرس نے اسرائیل اور اس کی لابی کے آگے جھکنے کی بھاری قیمت چکائی۔ 2019ء میں بائیڈن کو ووٹ دینے اور 2024 ء میں ہیرس کو ووٹ نہ دینے والے تقریباً ایک تہائی ووٹرز نے کہا کہ غزہ میں اسرائیل کے تشدد کا خاتمہ ان کے ووٹنگ فیصلوں کو متاثر کرنے والا سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ دونوں پارٹیوں میں اسرائیل کے لیے حمایت میں شدید کمی آئی ہے: 60 فیصد امریکیشہری اسرائیل کے بارے میں ناپسندیدہ رائے رکھتے ہیں اور کانگریس کے پرائمری انتخابات میں اسرائیل کے نقاد ریکارڈ تعداد میں جیت رہے ہیں۔

لیکن اِن سیاسی نقصانات کے باوجود صدر ٹرمپ نے وہ وعدے تبدیل نہیں کیے جو 2024ء میں انتخابی مہم کے دوران اسرائیل اور اس کی لابی سے کیے گئے۔ مثال کے طور پر مشرقِ وسطیٰ میں جنگوں سے اسرائیل کو بچانا، امریکی اور اسرائیلی افواج کے درمیان مزید قریبی تعلقات آگے بڑھانا اور امریکہ میں اسرائیل کے ناقدین کا ابھار ناکام بنانے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کرنا۔

یقیناً اسرائیل اور اس کی حکومت کے امریکی حامیوں کو اپنی رائے کا اظہار اور عوامی پالیسی کی تشکیل کے لیے کام کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ اور امریکہ میں اسرائیلی لابی کسی بھی طرح سے مالدار مفادات کا واحد ذریعہ نہیں جو امریکی جمہوریت کو مسخ کرتی ہے۔ مزید برآں امریکی صدور آزادانہ ارادہ رکھتے ہیں: جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ ایسے بہت سے لوگوں کے ذریعے چلائی جا رہی تھی جو اسرائیلی دائیں بازو کے ساتھ مکمل نظریاتی اتفاق رکھتے تھے۔اب سادہ لوح ٹرمپ اسرائیلی دباؤ کے آگے جھکنے اور امریکہ کو تازہ ترین جنگ میں گھسیٹنے کے لیے واضح طور پر ذمے دار ہیں۔

کتاب کے مصنفین آخر میں لکھتے ہیں’’امریکہ میں جب تک دوسرے گروہ دیگر مفادات مدِنظر رکھتے ہوئے اور سام دشمنی کے الزامات کے خطرے کے بغیرآزادانہ طور پر کام کرنے کے قابل نہیں ہوتے، مشرقِ وسطیٰ میں امریکی پالیسی خطرناک حد تک مسخ رہے گی۔ بیرونِ ملک امریکی مفادات محفوظ کرنے اور آگے بڑھانے اور اندرونِ ملک امریکی آزادیوں کی حفاظت ،دونوں کے لیے امریکیوں کو متحد ہونا ہوگا تاکہ کسی بھی غیر ملکی طاقت کو پالیسی اور عوامی بحث پر وہ اثر و رسوخ حاصل کرنے سے روکا جا سکے جو اسرائیل نے بالواسطہ اور اس کی لابی نے حاصل کر لیا ہے۔‘‘

Load Next Story