امن، استحکام ، اتحاد اور ترقی

اہل زباں کہاں مانتے تھے حفیظ بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں

farooq.adilbhuta@gmail.com

تاریخ میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا مقام کیا ہو گا؟ اِس کی ایک کہانی وزیر اعظم شہباز شریف نے ۱۴؍ اگست کو یادگارِ فتح کا افتتاح کرتے ہوئے بتائی۔وہ اس تاریخی تقریب سے ہفتہ بھرپہلے مکہ سے لوٹے تھے جہاں انھوں نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ترکیہ کے صدر رجب طیب ایروآن کے ساتھ اِس تاریخی معاہدے پر دستخط کیے، یوں اسلامی تاریخ کے اس یادگار واقعے کی خوشبو ان کے رگ وپے میں بسی ہوئی تھی ۔

اس لیے ان کی تاریخ میں اس معاہدے کے پس پشت حکمت اور جذبے کی توانائی تھی جس کی خوشبو ان کی تقریر کے لفظ لفظ سے پھوٹ رہی تھی۔ ان کی گفتگو کا مفہوم تھا کہ اس معاہدے نے مسلم دنیا کو اور خاص طور پر معاہدے میں شامل تین برادر ملکوں کو خاص طور پر دنیا کے تزویراتی نقشے پر ایک طاقت کی حیثیت سے ابھارا ہے۔ یوں پاکستان کے ۷۹؍ یوم آزادی پر یہ معاہدہ پاکستان کے عوام کے لیے ایک غیر معمولی تحفے کی حیثیت اختیار کر گیا۔یہ تحفہ کیا ہے؟ مختصر الفاظ میں اس معاہدے کا نصب العین ہے، امن، استحکام، اتحاد اور ترقی ۔

 یوم آزادی کی شب یادگار فتح کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم کی تقریر، الفاظ کے انتخاب اور جوش و جذبے کے بارے میں ایک نشست میں؛ میں نے وفاقی وزیر اطلاعات برادر محترم عطا اللہ تارڑ سے سوال کیا تو ایک نظر انھوں نے میری طرف دیکھا اور کہا:

’یہ بات اتنی سادہ نہیں۔ اِس معاہدے کی منظوری مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے بہ یک وقت ملی ہے۔ سعودی عرب جائیں تو یا کعبہ شریف کے اندر طلبی ہوتی ہے یا حرم نبوی ﷺ میں قدم بوسی کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ اس بار یہ دونوں سعادتیں حاصل ہوئیں۔ یہ انعام مسلمانوں کو اکٹھا کرنے اور ان کی باگ ڈور غیر سے لے کر اپنے ہاتھ میں لینے کا انعام تھا۔

معاہدے کا ایک پہلو یہ ہے۔ ایک اس سے نسبتاً مختلف ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ الفاظ مختصر ہیں لیکن بات بہت بڑی ہے۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد اِس دنیا کی جو بندر بانٹ ہوئی تھی، اِس معاہدے کے بعد اُس کی بساط لپٹ رہی ہے۔ مختصر یہ کہ دوسری جنگ عظیم کے انقلاب کے بعد یہ ایک بڑا انقلاب ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کا نیا نقشہ بنا۔پہلی جنگ عظیم کے بعد سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے ہوچکے تھے۔ مشرق وسطیٰ میں بھی تقسیم در تقسیم ہوئی ۔

یوں طے پایا کہ آدھی دنیا سوویت یونین کی ہے آدھی امریکا بہادر کی۔ دونوں دنیاؤں میں بہت سے ملک اور بہت سی قومیں آباد تھیں۔ کہنے کو یہ سب آزاد تھیں۔ اِقتدارِ اعلیٰ ان کا اپنا تھا لیکن کتنا اور کیسا؟ اِس میں بہت کچھ ناگفتنی ہے۔ کہنے کو بہت کچھ کہا جاتا تھا لیکن سب کچھ کہنے کی اجازت نہیں تھی۔ بس، یہی آزادی تھی اور یہی اقتدارِ اعلیٰ۔ مکہ دفاعی معاہدے کے بعد یہ سب کچھ ٹوٹ پھوٹ رہا ہے۔ کچھ ٹوٹ گیا ہے اور کچھ ٹوٹ جائے گا اور مسلم دنیا اس معاہدے کے بعد اپنی قسمت کے فیصلے خود کرے گی۔ اس لیے یہ اپنے عہد کا ہی نہیں، یہ تاریخ کا بھی بہت بڑا انقلاب ہے۔

اِس لیے جلدی سے اس نتیجے پر چھلانگ لگا لی جائے تو کوئی حرج نہیں کہ معرکہ حق ہو یا مشرق وسطی کی جنگ، اِن کے بطن سے جو سب سے بڑا خیر برآمد ہوا ہے، یہی ہے۔حفیظ جالندھری نے کہا تھا ؎

اہل زباں کہاں مانتے تھے حفیظ

بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں

اِن جنگوں کے جبڑے سے یہ کامیابی آسانی سے برآمد نہیں ہوئی ،اِس کے لیے بہت محنت کرنی پڑی جس میں پاکستان اور اس کی سول و ملٹری قیادت کا کردار کلیدی ہے۔ یہ ایسے ہی نہیں ہو گیا کہ ولی عہد شہزادہ کو فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سیلیوٹ مارا تو ولی عہد نے بھی جواب میں اسی انداز میں سیلیوٹ مارنا ضروری سمجھا اور سعودیہ اور ترکیہ کی قیادت نے وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ اصرار کرکے انھیں کھڑا کیا۔ جو لوگ اس انتظام کو پاکستان کی داخلی صورت حال کا شاخسانہ سمجھتے ہیں، وہ قومی سیاست کو درست طور پر سمجھ پائے ہیں اور نہ مکہ ایگریمنٹ کے غیر معمولی تاریخی واقعے کو۔ خیر یہ بحث طویل ہے۔ ذکر یہ تھا کہ پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ نے یہ کامیابی دشمن کے جبڑوں سے چھینی ہے۔ کیسے؟

دو امور ایسے ہیں جو اس سوال کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ جنگ کے دوران دشمن نے کوشش کی کہ اس کے پھیلائے ہوئے جال میں پھنس کر سعودی عرب جنگ میں کود پڑے۔ یہ بہت نازک مرحلہ تھا۔ سعودی عرب اور دیگر عرب ملکوں نے دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحمل سے کام لیا۔ اس طرح اسرائیل اور امریکا کی بھڑکائی ہوئی جنگ میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔

خیر، یہ معاملہ تو ایک سازش تھا لیکن اس حقیقت میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے کہ ایران نے سعودی عرب وغیرہ پر حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کی نوعیت دل چسپ تھی۔ سعودی عرب سمیت بعض دیگر عرب ملکوں پر ایرانی حملوں کا ایک خاص مقصد تھا۔ مقصد یہ تھا کہ یہ ملک امریکا پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اس جنگ کا خاتمہ کرے اور خطے سے نکل جائے۔ جیسا کہ بعض لوگوں کو یقین ہے کہ سعودی عرب اور بعض دیگر عرب ملک امریکی اتحادی ہیں، 'اتحادی' کی حیثیت سے یہ ملک ایران پر جوابی حملہ کر دیتے تو حالات بدل جاتے اور وہ کچھ ہو جاتا جو خاص طور پر اسرائیل کی خواہش تھی یعنی مسلمانوں کی مسلمانوں سے جنگ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب ہو یا دیگر عرب ملک، یہ سب دشمن کے جال میں نہیں پھنسے۔ اُن کا یہ فیصلہ کیا ثابت کرتا تھا؟

اُن کے فیصلے نے ثابت کیا کہ مشرق وسطیٰ کے سلسلے میں ان کے اور امریکا کے درمیان جو مفاہمت، معاہدے اور اتحاد ہوئے تھے، وہ سب ماضی کا قصہ بن گئے۔حالیہ جنگ کے تجربے کے بعد انھوں نے فیصلہ کر لیا کہ اب اپنے خطے کی ذمے داری وہ خود سنبھالیں گے یا ان کے قابل اعتماد اتحادی اور بھائی سنبھالیں گے یعنی پاکستان اور ترکیہ۔دنیا کی نظر میں مشرق وسطیٰ اگر مغرب نواز یا امریکا نواز تھا تو اس معاہدے کے بعد مشرق وسطیٰ کی نئی شناخت ابھر آئی ۔ امریکی اڈوں کی بساط لپٹ گئی اور پاکستان عملاً مشرق کے سیاسی اور تزویراتی نقشے کا حصہ بن گیا۔

سعودی عرب نے تحمل کا مظاہرہ کر کے مسلمانوں کی لڑائی مسلمانوں کے ساتھ کرانے کی سازش ناکام بنائی تو اس کے نتیجے میں ایک اور تبدیلی ظہور میں آئی۔ مشرق وسطیٰ کے مستقبل کے سلسلے میں سعودی اور ایران ایک پیج پر آگئے۔ یہ ایک اور بڑا انقلاب تھا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ عرب اور عجم کی روایتی کشمکش ماضی کا حصہ بن گئی۔اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ تاریخی اختلاف چشمِ زدن میں ہوا ہو گئے اور اب راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ ایسا نہیں ہے اور ایسا ہے بھی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تلخیوں کی شدت کم ہوگئی ہے۔ یہ نظام چلتا رہا تو اللہ نے چاہا تو اس میں مزید بہتری آئے گی، ان شاء اللہ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ نئے مشرق وسطیٰ کے خد و خال ماضی کے مشرق وسطی سے مختلف ہوں گے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت میں جو نیا مشرق وسطیٰ ظہور میں آ رہا ہے، اس پر ایران کو کوئی اعتراض نہیں بلکہ کئی معنوں میں یہ اس کی خواہش تھی۔یہ بات بھی مختصر نہیں، طویل ہے، اس طویل بات کا اختصار یہ ہے کہ وہ مسلم دنیا جو ٹکڑوں میں بٹی ہوئی اور کٹی پھٹی تھی اور کہیں کہیں باہم دست و گریباں بھی تھی،اس میں نئی سوچ پیدا ہو چکی ہے اور اب وہ باہم متحد ہو رہی ہے۔ تاریخ میں اس معاہدے کو اس پس منظر میں دیکھا جائے گا جس کا مختصر عنوان ہو گا، امن، استحکام ، اتحاد اور ترقی۔

Load Next Story