آبنائے ہرمز پر قبضے کی کوشش امریکا کو مہنگی پڑے گی، ایرانی آرمی چیف کی دھمکی
تہران: ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر قبضہ یا اسے اپنے کنٹرول میں لینے کی کسی بھی کوشش پر امریکا کو پچھتاوا ہوگا۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق امیر حاتمی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی دشمنانہ منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ملک کے مفادات کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کریں گی۔
ایرانی آرمی چیف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والا ایک انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار منتقل ہوتی ہے۔
امیر حاتمی نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر واشنگٹن نے آبنائے ہرمز کو اپنے قبضے میں لینے یا اس پر کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کی تو اسے اس اقدام کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی افواج ملک کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ ایرانی فوجی قیادت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ ملک کی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری دفاعی صلاحیتیں استعمال کی جائیں گی۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تجارتی اور توانائی کے راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس خطے میں کسی بھی بڑے فوجی تصادم یا سمندری آمدورفت میں رکاوٹ سے عالمی تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔
Major General Hatami, Iran's Army Chief, fired back at the criminal US President over his threat to annex the Strait of Hormuz, declaring that America would regret such a move. He vowed that Iran's forces stand ready to dismantle any hostile plot. pic.twitter.com/Af5mdPVIAq
— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) August 16, 2026
ایرانی آرمی چیف کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کے معاملے کو اپنی قومی سلامتی اور دفاعی مفادات کا اہم حصہ سمجھتا ہے اور اس حوالے سے کسی بھی بیرونی دباؤ یا کارروائی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔