بھارت کے مندر میں بجلی کا کھمبا گرتے ہی بھگدڑ مچ گئی، 6 افراد ہلاک
پٹنہ: بھارت کی مشرقی ریاست بہار کے ضلع لکھی سرائے میں ایک مندر میں عقیدت مندوں کے ہجوم کے دوران پیش آنے والے حادثے اور بھگدڑ جیسی صورتحال کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق یہ واقعہ لکھی سرائے کے اشوک دھام مندر میں پیر کے روز پیش آیا، جہاں ہندو مذہبی مہینے شراون کے دوران بڑی تعداد میں عقیدت مند بھگوان شیو کو پانی چڑھانے کے لیے جمع ہوئے تھے۔
سینئر پولیس افسر شیو کمار نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مندر میں موجود ایک بجلی کا کھمبا گر گیا، جس کے نتیجے میں بعض افراد کو بجلی کا کرنٹ لگا اور اس کے بعد وہاں بھگدڑ جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔
پولیس افسر کے مطابق واقعے کی حتمی وجہ کی تصدیق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گی۔ حکام نے فوری طور پر ہلاکتوں اور زخمی ہونے والے افراد کی تعداد کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
رائٹرز کے مطابق ایک سینئر سرکاری افسر نے بتایا کہ واقعے میں کم از کم 5 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ حادثے کے بعد امدادی کارکنوں نے متاثرین کو اسپتال منتقل کیا، جبکہ سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں اسپتالوں کے باہر متاثرین کے لواحقین اور امدادی سرگرمیوں کے مناظر دکھائی دیے۔
بہار کے وزیراعلیٰ سمرت چودھری نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اشوک دھام مندر میں پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا ہے۔ وزیراعلیٰ نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو زخمیوں کو فوری اور مناسب طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
رپورٹس کے مطابق حادثے کے وقت مندر میں شراون کے مذہبی مہینے کی مناسبت سے بڑی تعداد میں زائرین موجود تھے۔ بھارت میں مذہبی تہواروں اور مقدس مقامات پر بڑے اجتماعات کے دوران ماضی میں بھی ہجوم بے قابو ہونے اور بھگدڑ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
گزشتہ برس بھارت کے عظیم مذہبی اجتماع مہا کمبھ کے دوران بھی بھگدڑ کا بڑا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس اجتماع میں کروڑوں افراد نے شرکت کی تھی۔
اشوک دھام مندر کے تازہ واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ حکام واقعے کی مکمل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کررہے ہیں۔