سابق ایم پی اے کو اے آئی تصاویر دکھاکر دھوکہ دہی سے نکاح کا معاملہ نیا رخ اختیار کرگیا
سابق ایم پی اے کو اے آئی تصاویر دکھاکر دھوکہ دہی سے نکاح کا معاملہ نیا رخ اختیار کرگیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں سابق رکن سندھ اسمبلی غلام رسول انڑ کی جانب سے سابق اہلیہ کے خلاف مبینہ اے آئی تصاویر کے ذریعے دھوکہ دہی کے الزام پر دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران سابق اہلیہ کی جانب سے درخواست پر اعتراضات جمع کرا دیے گئے۔ درخواست گزار کے وکیل عامر نواز وڑائچ نے اعتراضات کا جائزہ لینے کے لیے مہلت طلب کی، جس پر عدالت نے کیس کی مزید سماعت 29 اگست تک ملتوی کر دی۔
سابق اہلیہ کے وکیل غلام فاروق عباسی ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے اور درخواست گزار کا سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے کا دعویٰ بھی درست نہیں۔
وکیل کے مطابق درخواست گزار کی بیٹی اور خاندان کی دیگر خواتین اس معاملے سے آگاہ تھیں، جبکہ نکاح سے قبل درخواست گزار نے اہل خانہ کی موجودگی میں حلف نامے کے ذریعے متعدد شرائط بھی تسلیم کی تھیں، جن میں اہلیہ کے نام فلیٹ، ماہانہ پانچ لاکھ روپے اور پچاس ایکڑ زمین دینا شامل تھا۔
وکیل نے مزید بتایا کہ شادی کے بعد مئی تک نان نفقے کی مد میں ایک لاکھ روپے ماہانہ ادا کیے جاتے رہے، تاہم بعد ازاں اختلافات پر درخواست گزار نے اپنی اہلیہ کو گھر سے نکال دیا۔
سابق اہلیہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ درخواست گزار نے ذاتی رنجش کی بنیاد پر این سی سی آئی اے میں شکایت درج کرائی، جہاں یہ معاملہ تاحال زیر التواء ہے، لہٰذا عدالت سے درخواست مسترد کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
مزید برآں، سابق اہلیہ نے جولائی میں فیملی کورٹ حیدرآباد میں رقم کی وصولی کے لیے دعویٰ بھی دائر کیا ہے۔ وکیل کے مطابق درخواست گزار اپنی سابق اہلیہ کو بدنام اور ہراساں کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسے قانونی حقوق کے حصول سے روکنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔