پاکستان کا سفر

بزرگوں نے مل کر یہ طے کرلیا کہ ہم سب ہندوستان سے ہجرت کرکے ایک نئے ملک پاکستان میں آباد ہوں گے

’’لے کے رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا پاکستان‘‘۔ میری عمر دس سال تھی جب میں یہ نعرے سنتا تھا۔ 1947 میں ہمارے سب بزرگوں نے مل کر یہ طے کرلیا کہ ہم سب ہی ہندوستان سے ہجرت کرکے ایک نئے ملک پاکستان میں آباد ہوں گے، جہاں اسلام کا بول بالا ہوگا اور ہم ایک آزاد ملک میں خوش و خرم رہیں گے۔

یہ طے پایا کہ اس علاقے میں بہت قتل و غارت ہو رہی ہے اور ریل گاڑی کا سفر بہت خطرناک ہے، لہٰذا ممبئی جا کر وہاں سے بحری جہاز کے ذریعے پاکستان جائیں گے۔ غرض، اگست 1947 (صحیح دن اور تاریخ مجھے یاد نہیں) کو میں، میرا خاندان، کمال چچا اور ان کا خاندان، پھوپھی جان اور ان کا خاندان ہم سب ممبئی جا پہنچے۔ ممبئی میں خوجہ جماعت نے ہم سب مسافروں کا استقبال کیا اور ہم سب کو لے جا کر اپنے جماعت خانے کے بڑے سے ہال میں ٹھہرا دیا گیا۔ ہال کی چھت بڑی تھی اور اس کے بہت سے ستون تھے۔ مگر دیواریں نہیں تھیں۔

’’دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر‘‘ علامہ اقبال کے اس مقولے پر عمل کرتے ہوئے ہمارے بزرگوں نے ایک احاطہ سا بنا لیا، جس میں ہم نے بیس دن گزارے۔ ہمارے بزرگ روزانہ صبح تیار ہوکر جہاز کے ٹکٹ خریدنے کے ارادے سے نکل کھڑے ہوتے تھے اور ممبئی کی سیر کرکے شام کو مسکراتے ہوئے واپس آتے تھے اور بتاتے تھے کہ بہت دیر تک لائن میں انتظار کرنے کے بعد بھی پانی کے جہاز کے ٹکٹ نہیں مل سکے۔

آخرکار ہمیں دس بیس دن بعد جہاز کے ٹکٹ مل گئے اور ہم ممبئی سے کراچی کے لیے روانہ ہوئے۔ اس پرانے وقتوں کے چھوٹے سے گندے جہاز کا نام ’ شرالا‘تھا۔ اللہ اللہ کر کے تیسرے پہر کے قریب جہاز کراچی کی بندرگاہ کیماڑی پہنچ کر کنارے جا لگا۔ جہاز سے اتر کر ہم نے سب سے پہلے کچھ مقامی لوگوں کو دیکھا جو موٹے تگڑے اور سیاہ فام تھے۔ ان کے بال گھنگریالے اور چھوٹے تھے۔ معلوم ہوا کہ یہ مکرانی ہیں۔ پھر ہم نے دیکھا کہ ٹین کے ایک شیڈ کے نیچے کچھ لوگ لائن لگا کر کھڑے ہیں اور دال روٹی تقسیم کی جارہی ہے۔ ہم بھی جاکر اس لائن میں لگ گئے۔ ہم بھوکے تو تھے ہی، وہیں کسی کونے میں بیٹھ کر وہ دال روٹی ہم نے کھائی۔ اس کھانے کا انتظام حکومت پاکستان نے یا پھر کچھ مخیر حضرات نے کیا ہوگا۔

اب رات ہوچکی تھی۔ ہم سب کھڑے سوچ رہے تھے کہ اب کیا کریں اور کہاں جائیں۔ ہمارے پاس الیاس ماموں جان کے گھر کا پتہ موجود تھا۔ والد صاحب نے ذرا فاصلے پر کھڑے ایک بگھی والے سے بات چیت کرکے کرایہ طے کیا کہ وہ ہم سب کو ہمارے سامان سمیت اے بی سینیا لائنز پہنچادے گا۔ ہم سیدھے بندر روڈ سے ہوتے ہوئے صدر کے علاقے تک جا پہنچے۔ بگھی والا وہ پرچہ دکھا کر لوگوں سے اے بی سینیا لائنز کا پتہ پوچھتا تھا اور پھر آگے چلتا تھا۔ اب کافی رات ہوچکی تھی اور ہم شہر سے باہر کی طرف نکل آئے تھے۔ گھر کی خواتین سہمی ہوئی نظر آتی تھیں کہ اس اجنبی شہر میں رات کے وقت نامعلوم ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔

اللہ اللہ کرکے آخرکار ہم اے بی سینیا لائنز جا پہنچے۔ اب رات کا سناٹا تھا، نہ کوئی بندہ نظر آئے کہ اس سے کچھ پوچھیں۔ ذرا اور آگے چلے تو ایک کوارٹر میں کچھ روشنی نظر آئی۔ میرے والد نے مجھے کہا کہ ظہیر تم ذرا آگے جا کر ان لوگوں سے کچھ معلوم کرو۔ میں بگھی سے اتر کر آگے گیا تو برآمدے میں کوئی شخص بیٹھا نظر آیا۔ آگے جا کر میں نے کہا السلام علیکم۔ ذرا وقفہ کے بعد ادھر سے آواز آئی ’’ارے، ظہیر تم یہاں کیسے‘‘۔ حیرت کے ساتھ خوشی ہوئی کہ یہی الیاس ماموں کا مکان تھا۔ سب بگھی سے اترے اور سامان بھی اتارا گیا۔ الیاس ماموں چونکہ ایک سرکاری ملازم تھے ان کو یہ مکان مل گیا تھا۔ جو اس وقت ایک مسافر خانہ معلوم ہوتا تھا۔

علی الصبح ناشتہ وغیرہ کرنے کے بعد ہم سب وہاں سے روانہ ہوئے۔ کراچی سٹی اسٹیشن پہنچ کر پہلی گاڑی سے کوٹری کے لیے روانہ ہوئے جہاں والد صاحب کو بحیثیت ریلوے گارڈ متعین کیا گیا تھا۔ چھوٹا شہر کوٹری جنکشن، حیدرآباد سے بہت نزدیک ہے جو ایک بہت بڑا شہر ہے۔ بعد میں کالج کےلیے میں روزانہ کوٹری سے حیدرآباد جاتا تھا اور اکثر خریداری کے لیے بھی حیدرآباد جاتے تھے۔ کوٹری پہنچ کر ہم سیدھے اسٹیشن ماسٹر کے دفتر پہنچے جو وہیں اسٹیشن پر تھے۔ وہاں افضل بابو سے ملاقات ہوئی جن کے ذمے بہت سے دوسرے کاموں کے علاوہ مکان الاٹ کرنا بھی ہوتا تھا۔ افضل بابو نے بتایا کہ اس وقت تو کوئی کوارٹر خالی نہیں جو آپ کو دیا جاسکے۔ فی الحال آپ خود کچھ بندوبست کرلیں۔ یہ سن کر والد صاحب پریشان ہوئے اور بولے کہ اس
اجنبی شہر میں جس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا، اپنی بیوی بچوں کو لے کر میں کہاں بھٹکتا پھروں گا۔ افضل بابو ایک شریف اور ہمدرد انسان تھے۔ وہ بھی سوچ میں پڑگئے۔ پھر کچھ وقفہ کے بعد وہ بولے ’’میں ایک کوارٹر میں اکیلا رہتا ہوں جس میں دو کمرے ہیں، وقتی طور پر میں یہ کر سکتا ہوں کہ اگلے ایک کمرے میں میں خود رہ لوں گا باقی گھر آپ استعمال کرلیں۔ بس آپ کو اتنی مہربانی کرنی ہوگی کہ مجھے دونوں وقت کا کھانا اور ناشتہ دے دیا کریں‘‘۔ غرض وہیں چند منٹوں میں سارے معاملات طے پا گئے اور افضل بابو کی مدد سے ہم ان کے کوارٹر میں جا بسے جو اسٹیشن سے بہت نزدیک تھا۔ آہستہ آہستہ زندگی معمول پر آتی گئی۔

کراچی ہمارا دوسرا گھر تھا۔ ہم اکثر کراچی کے چکر لگاتے رہتے تھے۔ اوّل اس لیے کہ ہمارے تمام عزیز و اقارب کراچی میں ہی رہتے تھے۔ دوم ہمارے والد نے ایک عدد رہائشی پلاٹ پی ای سی ایچ سوسائٹی میں خرید لیا تھا جو اب طارق روڈ کے نام سے مشہور ہے۔ ہم پہلی مرتبہ بڑے چاؤ سے اپنا پلاٹ دیکھنے کراچی پہنچے۔ ہمیں یہ معلوم ہوچکا تھا کہ ہمارا پلاٹ اور یہ ہاؤسنگ سوسائٹی قائداعظم کے مزار سے بہت نزدیک ہے۔ اس زمانے میں کراچی میں صرف چند بسیں چلتی تھیں وہ بھی صرف آبادی والے علاقے میں۔ گرو مندر پر بس سے اتر کر ہم لوگ والد صاحب کے ہمراہ پیدل چلتے ہوئے مزارِ قائد تک جا پہنچے۔

مزار کے اطراف کا علاقہ غیرآباد اور خالی پڑا تھا۔ ہندوستان سے ہجرت کرکے آئے ہوئے ہزاروں لوگوں نے قرب و جوار میں اپنی جھگیاں ڈال لی تھیں جن میں کچھ ہمارے قریبی عزیز و اقارب بھی شامل تھے۔ یہ وہ پڑھے لکھے لوگ تھے جو اپنے پکے مکانات ہندوستان میں چھوڑ آئے تھے۔ ہمارا 300 گز کا پلاٹ بھی یہیں پر تھا۔ مزار پر فاتحہ پڑھنے کے بعد ہم اپنے پلاٹ کی تلاش میں آگے چلے۔ اس ویرانے میں ذرا اور آگے تک جانے کے بعد ایک قبرستان نظر آیا۔ قریب ہی کچھ لوگ ایک جنازہ دفن کرنے میں مصروف تھے۔ مجھے خوف نے آ گھیرا کہ ہم یہ کس جگہ آ گئے ہیں۔ قبرستان کے اطراف کوئی حد بندی کی دیوار بھی نہیں تھی۔ ذرا سے فاصلے پر چاندماری کی کچھ علامتیں نظر آئیں جن پر یقیناً کبھی گورے فوجی نشانہ بازی کی مشق کرتے ہوں گے۔ میں نے اپنے والد سے کہا آپ نے کہاں اس ویرانے میں پلاٹ خرید لیا ہے۔ ہم یہاں کیسے رہیں گے۔ والد صاحب سمجھتے تھے، بولے بیٹا تم دیکھتے رہو، چند ہی دنوں میں یہ جگہ ایسی آباد ہو جائے گی کہ تم پہچان بھی نہ سکو گے۔ غرض اس علاقے میں کچھ لکیریں وغیرہ ڈال کر پلاٹوں کی نشاندہی کردی گئی تھی۔ اپنا پلاٹ دریافت کرنے کے بعد ہم واپس آ گئے۔

قائداعظم کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد محترمہ فاطمہ جناح کی کوششوں سے اور چند دوسرے مخلص افراد کے تعاون سے ’’قائداعظم ریلیف فنڈ‘‘ قائم کیا گیا۔ کراچی کے لوگوں نے خاص طور پر اس فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ چند ہی دنوں میں لاکھوں کی رقم جمع ہو گئی جو حبیب بینک میں جمع کرا دی گئی۔ حبیب بینک پاکستان کا پہلا بینک تھا جو قائد اعظم مرحوم کی ہدایت پر ہندوستان سے پاکستان لایا گیا تھا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس بینک نے بہت ترقی کی اور اس کی سیکڑوں شاخیں پورے پاکستان میں پھیل گئیں۔ جب بہت دن گزرنے کے بعد بھی مقبرہ کی تعمیر کا کوئی ذکر نہ ہوا تو کچھ لوگوں نے احتجاج شروع کیا۔ جس کے نتیجے میں 1952 میں قبر پر ایک معمولی سا گنبد کھڑا کردیا گیا۔ اس کے بعد محترمہ فاطمہ جناح اور چند دوسرے مخلص افراد نے اس معاملے کو اٹھایا۔

1955 میں ترکی سے ایک ماہر تعمیرات کو بلوایا گیا۔ اس نے بڑی کاوش سے مقبرے کا ایک ڈیزائن پیش کیا جو کافی بحث مباحثہ کے بعد مسترد کردیا گیا۔ اس کے بعد 1957 میں ایک بین الاقوامی مقابلہ ہوا جس میں ایک آرکیٹیکٹ ولیم وہٹ فیلڈ کا پیش کردہ ڈیزائن منظور کرلیا گیا۔ بعد ازآں یحییٰ مرچنٹ نامی ایک انجینئر کی زیر نگرانی مقبرے کی تعمیر کا کام شروع ہوا۔ اور 25 دسمبر 2000 میں تعمیر مکمل ہوئی۔ میں بچپن سے یہ سنتا آرہا تھا کہ مقبرے کی تعمیر کے بعد اطراف کے علاقے میں ایک شاندار مسجد بنائی جائے گی جس کے ساتھ ایک بہت بڑی لائبریری بھی ہوگی جو میں نے تو آج تک نہیں دیکھی۔

شروع کے زمانے میں کراچی ایک بہت پرسکون، پرامن اور خوبصورت شہر تھا۔ کراچی کی آبادی میں بہت سے پارسی لوگ تھے۔ یہ لوگ امن پسند اور زیادہ تر تجارت پیشہ تھے۔ تجارتی جہاز رانی بھی پارسی قوم کے ہاتھوں میں تھی جسے یہ لوگ بڑی خوش اسلوبی سے چلاتے تھے۔ اپنے جہازوں کے عملے کی بڑی عزت کرتے تھے۔ مگر کچھ ہی عرصہ بعد جہاز رانی کی تجارت چنیوٹ کے چند امیر لوگوں کے ہاتھ چڑھ گئی۔ رفتہ رفتہ جہاز رانی زوال کو پہنچی۔ پھر یہ بھی ہوا کہ پاکستان نیوی کے جو کپتان ریٹائر کر دیے جاتے تھے وہ حکومت کے حکم پر قومی جہاز رانی میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے گئے۔ نیشنل شپنگ کارپوریشن میں 65 جہاز ہوا کرتے تھے ان کی تعداد گھٹ کر آدھی رہ گئی۔ یہی کچھ حال PIA کا ہوا۔

کراچی کے تفریحی مقامات میں کلفٹن کا ساحل یا پھر ہاکس بے اور سینڈز پٹ کے سنہری ریتیلے ساحل موجود تھے۔ ہر علاقے اور ہر محلے میں سنیما گھر کھل چلے تھے۔ بچوں اور بڑوں کا مقبول باغِ جناح یا چڑیا گھر گاندھی گارڈن کے نام سے موجود تھا جہاں بہت سے چرند پرند اور درندے موجود تھے۔ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ موجود تھا۔

اسلام کے نام پر اور قائد اعظمؒ کی پکار پر ہجرت کرنے والے لاکھوں مسلمان اپنا گھر بار اور اپنے بزرگوں کی قبریں ہندوستان میں چھوڑ کر غول در غول جس طرح بھی ممکن ہوا پاکستان پہنچ گئے۔ کراچی کا دل بہت بڑا تھا اور یہاں جگہ بھی بہت خالی پڑی تھی۔ جس کے جہاں سینگ سمائے اُس نے وہاں چند بانسوں اور کھجور کی چٹائی سے ایک جھگی بنا کر اِسی میں رہنا شروع کردیا۔ کراچی شہر کے مضافات میں ایک بڑی زمین کے مالک پیر الہٰی بخش تھے۔ انہوں نے اپنی غیر آباد زمینوں پر مہاجروں کو آباد کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔ حکومت نے جیسے تیسے ہزاروں چھوٹے چھوٹے کوارٹر بنا کر سرکاری ملازمین کے حوالے کر دیے (ان ہی میں سے ایک کوارٹر میں مشہور بینکر اور مزاح نگار محترم مشتاق احمد یوسفی نے بہت سے دن گزارے تھے)۔ پیر الہٰی بخش ایک بہت ہمدرد اور غریب پرور انسان تھے۔ وہ پیر الہٰی بخش کالونی کے لوگوں کو اپنی رعایا تصور کرتے تھے اور ہر وقت ہر کسی کی مدد کو تیار رہتے تھے۔ ان کی بیٹھک ہمیشہ کھلی رہتی تھی، جہاں لوگ آ کر اپنے مسائل بتاتے تھے اور وہ ان کو حل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اس کے علاوہ کراچی کے دوسرے غیر آباد علاقوں میں بھی حکومت نے سرکاری ملازمین کو پلاٹ الاٹ کر دیے تھے ،جس کی تفصیل یہاں بہت طویل ہو جائے گی۔

کراچی کے ایک سرے پر ایک ندی یا بڑا نالہ ہے جو پہلے تو ہمیشہ سوکھا پڑا رہتا تھا مگر اب بارشوں کے زمانے میں لبالب پانی سے بھر جاتا ہے۔ اِسی جگہ کسی ’’لالو‘‘ نامی شخص کے کھیت ہوا کرتے تھے۔ یہاں مہاجروں نے ہزاروں جھگیاں ڈال کر اس جگہ کو آباد کر دیا۔ بہت عرصہ تک یہ محلہ لالو کھیت ہی کہلاتا تھا مگر بعد میں کچھ باشعور لوگوں نے اس کا نیا نام لیاقت آباد تجویز کیا اور اب یہ بہت بڑا محلہ اِسی نام سے پہچانا جاتا ہے۔ مشہور مزاحیہ اداکار عمر شریف کا تعلق بھی اسی محلے سے تھا۔ جاسوسی ناولوں کے مشہور مصنف ابنِ صفی بھی یہیں رہتے تھے۔ عظیم سارنگی نواز احمد خان (جن کے بارے میں مشہور ہے کہ پنڈت نہرو نے بذاتِ خود ان سے درخواست کی تھی کہ آپ پاکستان نہ جائیں) کی جھگی بھی یہاں پر تھی۔ زندگی آہستہ آہستہ اپنے راستے بناتی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے خود بخود اسباب بھی پیدا ہوتے جاتے ہیں۔

کراچی کی قیادت نے پہلا کام یہ کیا کہ قطار بندی کرتے ہوئے چھوٹے چھوٹے 60 گز کے پلاٹ بنا کر ان جھگی والوں کو الاٹ کر دیے۔ پھر درمیان کا کچھ علاقہ سڑک قرار دے دیا گیا۔ اسی سڑک پر قطار سے 6x6 فٹ کے پاخانے بنادیے گئے۔ علی الصبح لوگ اپنے اپنے گھر سے لوٹے میں پانی لے کر نکلتے تھے اور قطار بنا کر اپنی باری کا انتظار کرتے تھے۔ یہ سب لوگ پڑھے لکھے نوکری پیشہ یا تجارت پیشہ افراد تھے۔ بعد میں اسی طرح درمیان میں وقفہ وقفہ سے سیمنٹ کے پکے چبوترے بنا کر اس پرپانی کے نل بھی لگا دیے گئے۔ اب زندگی کا ایک معمول بن گیا۔ لوگ ہر حال میں خوش تھے کہ اب وہ ایک اسلامی ملک میں آگئے ہیں۔ انہیں یقین تھا کہ ان شا اللہ بتدریج حالات بہت بہتر ہوتے چلے جائیں گے، انصاف کا بول بالا ہو گا اور سب کو ان کا حق ملے گا۔
آہستہ آہستہ لوگوں نے اپنی الاٹ کی ہوئی زمینوں پر تعمیرات کی طرف توجہ دینی شروع کی۔ تعمیراتی سامان کی فراوانی تھی۔ سیمنٹ، لوہا اور بجری مناسب داموں پر دستیاب تھے۔ مثلاً سیمنٹ کی بوری کی قیمت 2 روپے 75 پیسے، ملیر کی بجری کا ٹرک 8 روپے، لوہا 10 یا 20 روپے، مکان تعمیر کرنے کے لیے تجربہ کار مستری کی دیہاڑی یومیہ 5 روپے اور مزدور کی دیہاڑی یومیہ 2 روپے تھی۔ اسی طرح ایک سرکاری بابو کی تنخواہ 60 روپے سے 90 روپے ماہانہ تک ہوتی تھی۔ مزدوروں کی قلت کے پیشِ نظر شمالی علاقوں سے مضبوط جسم والے پٹھان جوق در جوق کراچی پہنچنے لگے جو بہت بڑی مدد ثابت ہوئے۔

ابتدائی زمانے کا مواصلاتی نظام ایک عدد بجلی سے چلنے والی ٹرام تھی جو بیچ سڑک پر چلتی تھی اور کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن سے شروع ہو کر بندر روڈ سے ہوتی ہوئی کیماڑی تک جاتی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ بسوں کی تعداد بھی بڑھنے لگی۔ پھر پورے شہر میں سائیکل رکشہ بھی نظر آنے لگا۔ ٹریفک بڑھ جانے سے کراچی کی انتظامیہ نے سمجھ لیا کہ اب یہ پرانی ٹرامیں بیکار ہیں لہٰذا ٹرامیں منسوخ کردی گئیں۔

اس ہی زمانے میں پی ای سی ایس ایچ سوسائٹی آہستہ آہستہ آباد ہونی شروع ہوچکی تھی مگر بسیں سوسائٹی کے اندر نہیں جاتی تھیں۔ گرو مندر پر بس سے اتر کر پیدل اپنے پلاٹ تک پہنچنا پڑتا تھا۔ سائیکل رکشہ نے یہ مشکل آسان کردی، تاہم کچھ ہی عرصہ میں کراچی کی انتظامیہ نے محسوس کر لیا کہ یہ بات سراسر انسانیت کے خلاف ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کو جانوروں کی طرح کھینچے، لہٰذا فوراً سائیکل رکشہ غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ شروع شروع میں رکشہ والوں میں بے چینی پائی گئی مگر جلد ہی موٹر رکشہ نے یہ مسئلہ حل کر دیا۔ کچھ قسطوں پر کچھ بینک سے قرض لے کر سائیکل رکشہ والے موٹر رکشہ کے مالک بن گئے پھر دیکھتے ہی دیکھتے مواصلات کا پورا نظام پٹھانوں کے ہاتھ آ گیا۔ رفتہ رفتہ بے شمار بسوں، ٹیکسیوں اور رکشوں سے کراچی چل پڑا۔

1947 میں میرے بزرگوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہمیں ہجرت کرکے پاکستان چلے جانا چاہیے۔ اس وقت میری عمر بہت کم تھی۔ بہت عرصہ بعد جب حضرت قمر بدایونی کو ان کی نظم ’’اے میرے ہم نشیں چل کہیں اور چل، اس چمن میں اب اپنا گزارا نہیں‘‘ گاتے ہوئے سنا تو مجھے بھی سنجیدگی کے ساتھ سوچنا پڑا اور کینیڈا کا ویزا حاصل کرنے کے بعد میں بھی خاندان کے ہمراہ اس آزاد ملک میں عزت کے ساتھ پچھلے 33 سال سے مقیم ہوں۔ یہاں مجھے اور میرے بچوں کو وہ سارے حقوق حاصل ہیں جو کینیڈا کے وزیرِ اعظم کو حاصل ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story