جنگ کی جمالیات(دوسرا حصہ)
ہیمنگ وے کے ہاں جنگ کے منظر میں عجیب بات یہ ہے کہ شور کم ہوتا جاتا ہے اور انسان نمایاں۔’’ اے فئیر ویل ٹوآرمز‘‘ میں پہلی جنگ عظیم کا اطالوی محاذ موجود ہے، توپیں ہیں، ایمبولینسیں ہیں، زخمی ہیں، بارش ہے، پسپائی ہے، مگر ناول کا اصل میدان جنگ کسی نقشے پر نہیں، وہ فریڈرک ہنری کے اندر ہے۔ فریڈرک ہنری امریکی ہے، اطالوی فوج کی ایمبولینس سروس میں لیفٹیننٹ کے طور پر خدمات انجام دیتا ہے۔
جنگ سے اس کا تعلق ابتدا میں کسی عظیم نظریے یا وطن پرستانہ عقیدے سے نہیں، وہ جنگ میں ہے، مگر جنگ پر اس کا ایمان نہیں۔ یہی فرق ہیمنگ وے کو ٹالسٹائی سے جدا کرتا ہے۔ ٹالسٹائی جنگ کے ذریعے تاریخ کے معنی تلاش کرتے ہیں۔ ہیمنگ وے جنگ کے اندر انسان کے لیے معنی بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
کیتھرین بارکلے سے اس کی محبت اسی دنیا میں جنم لیتی ہے جسے جنگ مسلسل تباہ کررہی ہے۔ یہاں محبت جنگ کا متبادل نہیں، جنگ سے ایک عارضی پناہ گاہ ہے، مگر ہیمنگ وے اس پناہ گاہ کو بھی رومانوی فریب نہیں بناتے۔ محبت جتنی حقیقی ہے، اتنی ہی ناپائیدار؛ خوشی جتنی شدید ہے، اتنی ہی موت کے امکان سے گھری ہوئی۔یہاں ہیمنگ وے کی اصل قوت اسلوب میں ظاہر ہوتی ہے۔وہ بہت کچھ نہیں کہتے۔اور یہی نہ کہنا ان کے کہنے کا سب سے طاقتور طریقہ بن جاتا ہے۔
ہیمنگ وے کے بارے میں معروف ’’آئس برگ‘‘ تصور کو اسی تناظر میں سمجھنا چاہیے۔اچھا نثر نگار سب کچھ بیان نہیں کرتا؛ وہ اتنا دکھاتا ہے کہ باقی چھپی ہوئی دنیا قاری خود محسوس کرے۔ ان کے ہاں جذبات کی براہِ راست تشریح کم ہے، مگر واقعے، مکالمے، جسمانی حرکات اور اشیا کے ذریعے ایک گہرا جذباتی زیر متن تشکیل پاتا ہے۔بارش صرف بارش نہیں رہتی۔ دریا صرف دریا نہیں رہتا۔ اسپتال صرف علاج کی جگہ نہیں رہتا۔ جنگ صرف پس منظر نہیں رہتی۔ اشیا خاموشی سے وہ کچھ کہتی ہیں جسے کردار کہنے سے گریز کرتے ہیں۔یہی ہیمنگ وے کی جمالیاتِ سکوت ہے۔ ٹالسٹائی قاری کو بتاتے ہیں کہ تاریخ کے پیچھے کیا ہے، ہیمنگ وے قاری کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ کردار کی خاموشی کے پیچھے چھپا ہوا درد خود دریافت کرے۔
یہاں ادب کی ایک بنیادی تبدیلی واقع ہوتی ہے، مصنف قاری پر اعتماد کرنے لگتا ہے۔جنگ کے بارے میں ہیمنگ وے کا سب سے بڑا اعتراض شاید یہ ہے کہ جنگ اپنے لیے بڑے الفاظ پیدا کرتی ہے ۔شجاعت، عظمت، فتح، وطن، قربانی ،مگر انسان کو اکثر چھوٹے اور بے رحم حقائق کا سامنا ہوتا ہے۔ خون، خوف، تھکن، کیچڑ، بھوک، درد، جدائی اور موت۔
بڑے الفاظ اور چھوٹے حقائق کے درمیان یہی فاصلہ ہیمنگ وے کی جنگی نثر کا اخلاقی مرکز ہے۔وہ جنگ کو نظریے سے چھین کر تجربے میں واپس لاتے ہیں۔اسی لیے ان کے ہاں ہیرو وہ شخص نہیں جو فتح کا پرچم بلند کرے۔ ہیرو وہ ہے جو تباہ شدہ دنیا میں بھی اپنے انسانی وقار کو مکمل طور پر مرنے نہ دے، مگر ہیمنگ وے کا وقار بھی ٹالسٹائی کے اخلاقی یقین جیسا نہیں۔ اس میں کوئی واضح کائناتی تسلی نہیں۔ یہاں انسان کو اکثر ایسی دنیا کا سامنا ہے جہاں موت کا کوئی اخلاقی جواز نہیں اور محبت کی کوئی ضمانت نہیں۔اسی لیے ’’ اے فئیر ویل ٹوآرمز‘‘ میں جنگ سے فرار بھی مکمل نجات نہیں دیتا۔ انسان جنگ سے بچ سکتا ہے، موت سے نہیں۔ ٹالسٹائی کے ہاں انسان جنگ سے گزر کر کسی وسیع تر اخلاقی حقیقت تک پہنچ سکتا ہے، ہیمنگ وے کے ہاں انسان کو اکثر کسی حتمی حقیقت کا یقین نہیں ملتا۔ اسے بس اتنا کرنا ہے کہ جو محبت اس کے پاس ہے اسے سچائی سے جئے، جو دکھ آیا ہے اسے وقار سے برداشت کرے اور جس موت کو روک نہیں سکتا اس کے سامنے جھوٹ نہ بولے۔یہی وجہ ہے کہ ہیمنگ وے کے ہاں محبت فلسفہ نہیں بنتی، عمل بن جاتی ہے۔
اور یہاں سے ہماری نظر ایک اور جنگ کی طرف منتقل ہوتی ہے۔یورپ کی جنگ سے مشرق وسطیٰ کے اس زخم تک، جہاں سوال صرف یہ نہیں کہ کون مارا گیا، سوال یہ ہے کہ جس کا گھر چھن گیا، وہ اپنے آپ کو کہاں محفوظ رکھے؟
یہاں غسان کنفانی سامنے آتے ہیں۔
سان کنفانی کے ہاں جنگ میدان سے زیادہ جغرافیہ ہے۔وہ توپ کے سامنے کھڑے سپاہی سے پہلے اس انسان کو دیکھتے ہیں جس کے پیچھے گھر نہیں رہا۔ ان کے ہاں جنگ کا سب سے گہرا زخم جسم پر نہیں، نقشے پر لگتا ہے۔ سرحدیں بدلتی ہیں، گھر چھوٹتے ہیں، لوگ مہاجر بنتے ہیں، نام اور شناخت نئی سیاسی حقیقتوں میں بکھر جاتی ہیں۔
یہاں جنگ کا بنیادی سوال بدل جاتا ہے۔
ٹالسٹائی پوچھتے ہیں۔’’ تاریخ کیسے بنتی ہے؟‘‘
ہیمنگ وے پوچھتے ہیں۔ ’’تاریخ انسان کے اندر کیا توڑتی ہے؟‘‘
کنفانی پوچھتے ہیں۔’’جب تاریخ تم سے تمہارا گھر چھین لے تو تم کون رہ جاتے ہو؟‘‘
یہ سوال ’’مین ام دا سن‘‘ میں ایک ایسی علامت اختیار کرتا ہے جو جدید عربی ادب کی یادداشت میں شاید ہی کبھی بھلائی جاسکے۔ تین فلسطینی پناہ گزین بہتر زندگی کی تلاش میں عراق سے کویت جانے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک ٹرک کے ٹینک میں چھپائے جاتے ہیں، وہ شدید گرمی میں دم گھٹنے سے مر جاتے ہیں۔ اس مختصر سی کہانی میں کنفانی نے پوری ایک قوم کی بے وطنی، مایوسی اور سیاسی بے بسی کو سمیٹ دیا ہے۔
مگر کہانی کی اصل قوت صرف المیے میں نہیں، علامت میں ہے۔
وہ ٹینک محض ایک ٹینک نہیں، وہ ایک ایسا بند تاریخی ظرف ہے جس میں بے وطن انسان امید لے کر داخل ہوتا ہے اور خاموشی میں مر جاتا ہے۔
یہاں کنفانی کا اسلوب ہیمنگ وے سے ایک عجیب مماثلت بھی رکھتا ہے۔ دونوں اختصار سے کام لیتے ہیں، دونوں بڑے سیاسی دعوؤں کے بجائے انسانی تجربے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، دونوں علامت کو محض آرائش نہیں بل کہ معنوی ساخت بناتے ہیں۔
لیکن دونوں کے تاریخی شعور مختلف ہیں۔
ہیمنگ وے کا انسان جنگ سے فرار چاہتا ہے۔
کنفانی کا انسان پوچھتا ہے۔’’فرار ہوکر جائے گا کہاں؟‘‘یہ فرق معمولی نہیں۔ ہیمنگ وے کے کردار کے لیے دنیا سے ایک نجی پناہ گاہ بنانا ممکن ہے، کنفانی کے فلسطینی کردار کے لیے نجی پناہ گاہ بھی تاریخ سے باہر نہیں۔ گھر ہی سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔
(جاری ہے)