طالبان کے پانچ برس اور ہماری خوش فہمیوں کا ملیدہ

جس کے عروج کی تھی بہت آرزو ہمیں اس کے عروج میں ہی ہمارا زوال تھا ( جون ایلیا )۔

ٹھیک پانچ برس تین دن پہلے جب کابل میں طالبان دوسری بار فتح کے شادیانے بجاتے داخل ہوئے تو پاکستانی وزیرِ اعظم نے جذباتی ٹویٹ کیا کہ ’’ آج افغانستان کو حقیقی آزادی مل گئی ‘‘۔چند دن بعد جنرل فیض حمید کابل پہنچ گئے اور چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا ’’ ڈونٹ وری ایوری تھنگ ول بھی اوکے‘‘۔جنرل صاحب نہ تو اپنے پروفیشنل مستقبل کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگا پائے اور نہ ہی افغانستان میں ’’ ایوری تھنگ ول بھی اوکے ‘‘ ہو سکی۔

آج پانچ برس بعد صورت یہ ہے کہ جس ملک میں ہم برسوں ’’ سٹرٹیجک ڈیپتھ ‘‘ تلاش کرتے رہے وہ ملک اب پاکستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کی شکل میں ’’ سٹرٹیجک ڈیپتھ ‘‘ ڈھونڈ رہا ہے۔انیس سو چھیانوے میں جب طالبان کابل میں پہلی بار داخل ہوئے تب وزیرِ داخلہ نصیر اللہ بابر نے انھیں ’’ ہمارے اپنے بچے ‘‘ قرار دیا تھا۔مگر ان بچوں نے اتنا تنگ کیا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان کو یوٹرن لینا پڑ گیا۔اور اب جب طالبان ٹو پوائنٹ او کابل اور قندھار میں اقتدار میں آئے تو اس کے چند ماہ بعد ہی ہماری خوش فہمیاں پتلی گلی سے نکل لیں۔

جس کے عروج کی تھی بہت آرزو ہمیں

اس کے عروج میں ہی ہمارا زوال تھا

( جون ایلیا )۔

آج وہی طالبان پاکستانی سالمیت کے لیے نہ صرف بھارت کے بعد دوسرا بڑا سنگین خطرہ قرار پائے ہیں بلکہ بھارت کی کٹھ پتلی کے لقب سے بھی سرفراز کیے گئے ہیں۔ خیبر پختون خوا اور بلوچستان کی شورش کے ڈانڈے بھی ڈیورنڈ لائن کے دوسری جانب دریافت ہو رہے ہیں۔ان فتنوں سے نمٹنے کے لیے کئی ماہ سے ایک خاموش جنگ بھی جاری ہے مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی والا معاملہ ہے۔

پاک افغان تجارت بند ہونے سے ہمیں زیادہ مالی نقصان ہوا یا افغانوں کو ؟ بیس لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں کو وطن واپس بھیجنے سے بھی شورش کی شدت کیوں کم نہیں ہو پا رہی ؟ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی تازہ ششماہی رپورٹ اس تاثر کی باقاعدہ تصدیق بھی کر رہی ہے۔

طالبان ہمارے لیے ہی نہیں خود اپنی رعایا کے لیے بھی جبر کا استعارہ ہیں۔کہنے کو ملک کے طول و عرض میں امن ہے۔افیون کی کاشت پچانوے فیصد تک کم ہو چکی ہے۔پانچ برس پہلے تک افغانستان کے مالی بجٹ کا پچھتر فیصد میزانیہ بیرونی امداد سے پورا ہوتا تھا۔اس میں براہِ راست امریکی امداد کا تناسب پینتالیس فیصد تھا۔

آج طالبان حکومت کو محصولات اور کانکنی کی رائلٹی و ٹیکسوں وغیرہ سے پہلے کے مقابلے میں صرف پچیس فیصد رقم حاصل ہو رہی ہے۔افغان سینٹرل بینک کے لگ بھگ سات ارب ڈالر امریکا نے منجمد کر رکھے ہیں۔بین الاقوامی مالیاتی نظام سے ملک کا رابطہ کٹا ہوا ہے۔معیشت میں بڑھوتری کی شرح ڈیڑھ فیصد سالانہ تک ہے۔

اگرچہ روس ، وسطی ایشیائی ممالک اور چین سے تعلقات نسبتاً بہتر ہیں مگر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نہ ہونے کے سبب اگر کوئی غیر ملکی سرمایہ کار آنا بھی چاہے تو کس بین الاقوامی گارنٹی کے تحت اپنا پیسہ لگائے ؟ پاکستان کے علاوہ ایران سے بھی لاکھوں پناہ گزینوں کی واپسی ہوئی ہے۔

گویا مجموعی طور پر لگ بھگ پچاس لاکھ پناہ گزینوں کی واپسی کے سبب پہلے سے ادھ موئی معیشت پر اور زور پڑ گیا ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ عام افغان کے لیے شرحِ غربت نوے فیصد تک پہنچ چکی ہے۔مہنگائی ، اشیاِ ضرورت کی نایابی اور مناسب غذا تک عدم رسائی کے اثرات پچھتر فیصد گھرانے براہِ راست محسوس کر رہے ہیں۔

سونے پے سہاگہ ملک کی نصف آبادی کو جبراً گھر بٹھا دیا گیا ۔بچیاں پرائمری سے اوپر تعلیم حاصل نہیں کر سکتیں۔نجی و سرکاری شعبوں میں ملازم خواتین کو شروع شروع میں کچھ عرصے گھر بیٹھے تنخواہ دی گئی پھر یہ سلسلہ بھی منقطع ہو گیا۔خواتین محرم کے بغیر یا ’’ نامناسب حجاب ‘‘ کے ساتھ گھر سے نہیں نکل سکتیں۔ اس کا سب سے منفی اثر تعلیم اور صحت کے شعبے کی مزید ابتری کی شکل میں نکل رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ادارے کا تخمینہ ہے کہ خواتین کے روزگار پر پابندیوں کے سبب قومی معیشت کو براہ راست ایک ارب ڈالر سالانہ کا خسارہ درپیش ہے۔اس کے برعکس تمام صوبوں میں گرفت برقرار رکھنے کیلیے طالبان کے ہم عقیدہ پندرہ ہزار مذہبی مدارس کے اساتذہ اور طلبا کی مراعات بڑھا دی گئی ہیں۔

کابل میں بظاہر وزیرِ اعظم اور ان کی کابینہ فرائض انجام دے رہی ہے۔مگر تمام داخلہ ، خارجہ، سیاسی ، عدالتی و اقتصادی فیصلے اور تقرریوں اور تبادلوں کے فرمان و ہدایات قندھار میں قائم رہبرِ اعلی( ملا ہبت اللہ ) کے سکیرٹیریٹ سے جاری ہوتے ہیں اور کابل میں قائم انتظامیہ کو بطور پوسٹ آفس ارسال کر دیے جاتے ہیں۔

اگرچہ اختیارات کے ایک ہی جگہ ارتکاز پر طالبان کے اندر گرمی سردی بھی ہوتی ہو گی مگر اندرونی ڈسپلن فی الحال اتنا مستحکم ہے کہ یہ اختلافات بیچ چوراہے میں نہیں آ پاتے۔ اب جب کہ کچھ صوبوں میں تھوڑی بہت مزاحمت کی خبریں آ رہی ہیں۔اگر اس مزاحمتی دائرے کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوتا گیا تو طالبان کے اندرونی تنظیمی ڈسپلن پر دباؤ بھی اسی تناسب سے بڑھتا چلا جائے گا۔

 پندرہ اگست دو ہزار اکیس کو دوبارہ برسرِ اقتدار آنے سے قبل طالبان نے دوہا میں ہونے والے معاہدے میں وعدہ کیا کہ اقتدار کی منتقلی کے بعد افغان اقلیتوں سے ماضی کی طرح امتیازی سلوک نہیں ہوگا۔

افغانستان کی پندرہ فیصد آبادی اہلِ تشیع اور شیعہ ہزارہ برادری پر مشتمل ہے۔ طالبان نے گذشتہ پانچ برس میں شیعہ فقہہ کو نہ صرف تعلیمی نصاب بلکہ قانون کی کتابوں سے بھی خارج کر کے ایک یونیورسل فقہی قانونی و تعلیمی نظام نافذ کردیا۔خاتم النبین کلچرل سینٹر بند کر دیا گیا اور تمدن ٹی وی چینل بھی معطل ہو گیا۔بامیان اور دیکندی جیسے شیعہ اکثریتی صوبوں سمیت کسی بھی صوبے کی علما کونسل میں طالبانی فقہہ سے مختلف فقہ کا نمایندہ کوئی عالم نظر نہیں آئے گا۔اس پالیسی کا اطلاق سلفی مکتبِ فکر پر بھی ہوتا ہے۔

جب طالبان کی پہلی حکومت اکتوبر دو ہزار ایک میں معزول ہوئی تو اس کے بعد تتربتر قیادت کو یکجا ہونے اور غیر ملکی قبضے کے خلاف مزاحمت شروع کرنے میں چار برس لگے تھے۔آج طالبان کے دوسرے دورِ حکومت کا چھٹا برس شروع ہو چکا ہے اور مسلح مزاحمت کی اکادکا خبریں باہر آنا شروع ہو گئی ہیں۔

مگر میری ہمدردیاں ان کروڑوں عام افغانوں کے ساتھ ہیں جن کا حالات پر کوئی اختیار نہیں اور وہ نصف صدی سے جاری شطرنج کی بساط پر آتے جاتے کھلاڑیوں کے پیادے بنے ہوئے ہیں۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

Load Next Story