عوامی مشکلات پرآواز اٹھانے والی چند پارٹیاں

جماعت اسلامی نے ملک بھر میں مہنگائی اور پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج اور صوبائی دارالحکومتوں میں دھرنے دیے مگر وفاقی حکومت پر کوئی اثر نہیں ہوا

m_saeedarain@hotmail.com

ملک میں جماعت اسلامی اور مرکزی مسلم لیگ واحد سیاسی پارٹیاں ہیں جو عوام کی بنیادی ضروریات پر بڑھتے حکومتی پریشان کن اقدامات پر خود آواز ہی نہیں اٹھا رہیں بلکہ اپنے طور پر عوام کی مشکل زندگی کو کسی حد تک آسان بنانے کی کوشش کر رہی ہیں مگر حکومتی پارٹیوں کو کوئی فکر نہیں کہ ملک کے عوام کن مشکل حالات میں جی رہے ہیں اور سطح غربت کے شکار ملک کے چالیس فی صد لوگوں کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں اور نصف سے زیادہ آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے جس سے ان میں بیماریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں اور وہ مالی مشکلات کے باعث سرکاری اسپتالوں تک میں اپنا علاج کرانے سے قاصر ہوچکے ہیں مگر سالوں بلکہ عشروں سے سرکاری وسائل اور مفت بنیادی سہولیات سے مسلسل فایدہ اٹھانے والوں کو عوام کا کوئی احساس نہیں۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مقتدر سیاسی جماعتیں عوام کے مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھاتیں اور حکومت میں موجود اپنی قیادت کو مجبور کر تی کہ وہ عوام کے مسائل کے حل کے لیے بہتر حکمت عملی اختیار کریں۔لیکن ایسا نہیں ہوا مقتدر سیاسی جماعتیں بالکل خاموش ہیں اور دیکھ رہی ہیں کہ عوام کس مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

 پانی بنیادی ضرورت ہے جس کے پینے سے کسی حد تک پیٹ تو بھر جاتا ہے، مگر بھوک نہیں مٹتی جس کے لیے انھیں مخیر حضرات کے دستر خوانوں سے مفت کھانا مل جاتا ہے جس کی فراہمی حکومت کی ذمے داری نہیں مگر پینے کے صاف پانی کی عوام کو فراہمی مکمل طور پر حکومت کی بنیادی ذمے داری بلکہ سرکاری فرض ہے مگر سرکاری خزانے سے صاف و شفاف صحت مند پانی مفت حاصل کرنے والوں کو نہیں پتا کہ عوام مضر صحت پانی حاصل کرنے کے لیے کس طرح لمبی قطاروں میں لگے رہتے ہیں اور دیہی علاقوں کی خواتین حصول آب کے لیے کس طرح خوار ہو رہی ہیں۔بعض علاقوں میں تو صورت حال یہ ہے کہ صاف پانی موجود ہی نہیں ‘انسان اور جانور ایک ہی جوہڑ سے پانی پی رہے ہیں ‘ جس کے باعث وہاں لوگوں میں مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں ۔

مفت دسترخوان لگوانے کی ذمے داری نجی ادارے کسی حد تک پوری کر رہے ہیں اور بعض فلاحی ادارے کم نرخوں پر علاج کی سہولیات بھی فراہم کر رہے ہیں، جو حکومت کا فرض اولین ہے مگر سرکاری اخراجات پر بڑے مہنگے اسپتالوں اور بیرون ملک جا کر مفت علاج کرانے والوں کو نہیں پتا کہ غریب بیماریوں میں مبتلا ہو کر سسک سسک کر کس طرح مر رہے ہیں اور دو کروڑ سے زائد غریب بچے کیوں اسکولوں سے باہر رہ کر کم عمری میں ملازمتوں پر مجبور ہیں۔

 موجودہ حکومتوں کے ذمے داروں کو صرف بے بنیاد سیاسی بیانات دینے سے فرصت نہیں اور وفاقی حکومت کی سوچ صرف یہ ہے کہ بجلی، گیس اور پٹرول استعمال کرکے اپنی زندگی گزارنے والوں کو مزید کیسے نچوڑا جائے اور ان کے کمزور جسم میں جو توانائی باقی رہ گئی ہے، وہ بھی چھین لی جائے۔ عوام کو صاف پانی، تعلیم اور علاج کی سہولیات کی فراہمی اب صوبائی حکومتوں کی ذمے داری ہے اور وفاقی حکومت کا کام روز مرہ استعمال میں آنے والی اشیا پر پہلے سے مسلط ٹیکس، مختلف ڈیوٹیاں اور لیوی کو مزید بڑھا بڑھا کر ملک میں مسلسل مہنگائی کا ریکارڈ قائم کیا جائے۔

یہ ریکارڈ حکومتی محکمے بڑی خوبی سے انجام دے رہے ہیں اور وزارت خزانہ حکام اپنے ٹیکس اہداف کی وصولی میں ناکام افسروں کی سرزنش کی بجائے ان کے دیے ہوئے عوام دشمن مشوروں پر مکمل عمل کرا رہے ہیں ، حکومتی ادارے عوام کی بنیادی اشیائے ضرورت پر مزید ٹیکس بڑھانے میں مصروف ہیں اور حکومت کو عوام کو نچوڑ کر زیادہ رقم فراہم کرنا انھوں نے اپنا فرض بنا رکھا ہے۔ نصف ملکی آبادی کو صاف پانی کی مفت فراہمی لاہور میں اہل حدیث مساجد میں دیکھ کر راقم کو حیرت ہوئی جب کہ کراچی میں الخدمت اپنے قائم کردہ فلٹر پانی کے مراکز سے کم نرخوں پر عوام کی ضرورت کسی حد تک پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور بعض دیگر فلاحی ادارے بھی کوشش کر رہے ہیں اور اکثر سرکاری فلٹر پلانٹ بند پڑے ہیں۔

 جماعت اسلامی نے ملک بھر میں مہنگائی اور پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج اور صوبائی دارالحکومتوں میں دھرنے دیے مگر وفاقی حکومت پر کوئی اثر نہیں ہوا نہ وہ اپنے اخراجات کم کرنے پر تیار ہے اور اس کا مقصد صرف عوام کی ضروری اشیا کو لیوی، بجلی وگیس پر اضافی فکسڈ چارجز جبری طور پر وصولی رہ گیا ہے، تاکہ اخراجات پورے اور عیاشی حکمرانی چلتی رہے جس کے حصول کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتیں عوام دشمن اقدامات پر عمل پیرا ہیں اور مہنگائی کے نئے ریکارڈ ضرور قائم کر دیے ہیں۔

Load Next Story