نظام کی خرابیوں کا علاج کیسے ممکن ہوگا؟

پاکستان کا سیاسی ،انتظامی ،قانونی ،گورننس اور معاشی نظام کمزور ہوتا جا رہا ہے۔اس کے حق میں اور اس کی مخالفت میں بہت سے ماہرین مختلف دلیلیں دیتے ہیں۔

salmanabidpk@gmail.com

پاکستان کا سیاسی ،انتظامی ،قانونی ،گورننس اور معاشی نظام کمزور ہوتا جا رہا ہے۔اس کے حق میں اور اس کی مخالفت میں بہت سے ماہرین مختلف دلیلیں دیتے ہیں۔لیکن بعض حلقوں کی جانب سے نظام کی ناکامی کا ایک بیانیہ دیکھنے اور سننے کو ملتا ہے۔

اس بیانیہ کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے بلکہ کئی وجوہات کی بنیاد پر نظام کی کمزوری یا ناکامی کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح اس میں کسی ایک سیاسی یا غیر سیاسی جماعت کا قصور نہیں بلکہ مجموعی طور پر سب نے سیاسی ایڈونچرز اور مہم جوئی یا ذاتی مفادات کو بنیاد بنا کر نظام کو ناکام کیا ہے۔نظام کی بہتری کی بنیادی تعریف یہ ہی ہوتی ہے کہ اول سب ادارے اپنے اپنے سیاسی، انتظامی،  آئینی اور قانونی دائرہ کار میںہی کام کررہے ہوں اور کوئی کسی کے کام میں مداخلت نہ کرتا ہو۔دوئم، سب ادارے اور بااختیار لوگ ایک دوسرے یا قانون کے سامنے جوابدہ ہوں اور احتساب کے عمل سمیت نظام کو منصفانہ اور شفافیت کی بنیاد پر چلایا جائے۔

سوئم، نظام عوامی توقعات ،خواہشات اور امنگوں کی ترجمانی کرتا ہو اور عام آدمی کی ترقی اور مفادات کو مکمل تحفظ دیا جاتا ہو۔اب اگر ہم ان اصولوں کی بنیاد پر اپنے مروجہ نظام کا جائزہ لیں تو اس میں ہم ناکامی کے ساتھ ساتھ مختلف نوعیت کے تضادات اور ٹکراؤ بھی دیکھ سکتے ہیں ۔یہ تضادات ظاہر کرتے ہیں ہمارے حکمرانوں کی سطح پر نظام کو چلانے کی سمت یا ترجیحات درست نہیں۔یہ جو ہمیں قومی سطح کی ترقی میں مختلف طبقات کے درمیان سیاسی، سماجی ،قانونی اور معاشی خلیج دیکھنے کو ملتی ہے وہ خود نتیجہ کو سب کے سامنے پیش کررہی ہے کہ ہمارا ترقی اور نظام کا دائرہ کہاں کھڑا ہے۔نظام بنیادی طور پر بار بار کی تبدیلیوں یا اس میں اکھاڑ پچھاڑ کی بنیاد پر درست نہیں ہوتا اور اگر نظام کا تسلسل بھی نہ ہو اور دو سے تین برس بعد ہم نئے تجربے کرنا شروع کردیں تو نظام کی ساکھ کیسے قائم ہوسکے گی۔ایک سوال یہ زیر بحث رہتا ہے کہ نظام ناکام ہوا ہے یا نظام کو چلانے والے افراد ناکام ہوئے ہیں۔

اس کا جواب لوگ یہ بھی دیتے ہیں کہ کیونکہ لوگ قانون پر عملدرآمد نہیں کرتے تو اسی بنیاد پر نظام ناکام ہوتا ہے۔یہاں مسئلہ فرد کی سطح پر ذاتی نیت سے نہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ کے سیاسی،قانونی اور انتظامی ادارے کتنے خود مختار ہیں اور کیا وہ کسی بڑے کو کسی بھی سطح پر جوابدہ بناسکتے ہیں تو پھر انفرادی سطح پر لوگوں کی نیتوں اور جرائم کا احتساب ہوسکتا ہے۔لیکن اگر اس کے برعکس ہم اداروں اور وہاں موجود لوگوں کو کمزور اور مفلوج رکھیں گے تو کیسے اداروں کو مضبوط بنا سکیں گے یا افراد کو کسی قانون کے ماتحت کرسکیں گے۔اس لیے نظام کی کامیابی کی کنجی ادارہ جاتی نظام کی مضبوطی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

نظام کی کامیابی کا ایک بڑا انحصار مضبوط سیاسی نظام سے بھی جڑا ہوا ہے ،اگر پاکستان نے مسلسل سیاسی عدم استحکام کا شکار رہنا ہے تو پھر اس کا ایک بڑا نتیجہ نظام کی ناکامی کی صورت میں دیکھنا پڑتا ہے۔ ملک کے سیاسی مسائل کو بنیاد بنا کر جب ہم نظام کی کامیابی کو پیش کرتے ہیں تو کوئی بھی اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔اصل میں نظام کی ساکھ دعوؤں اور باتوں سے نہیں ہوتی جب تک لوگ نظام کی کامیابی کو عملی طور نچلی یا قومی سطح پر خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔اس لیے حکمرانوں کی آنکھ اور عام طبقہ کی آنکھ کا فریم مختلف ہوتا ہے اور ایک دوسرے سے متضاد بھی ہوتا ہے۔ عام آدمی نظام میں اپنا سیاسی اور معاشی حصہ منصفانہ بنیادوں پر چاہتا ہے اور جب تک اس نظام میں اس کا کوئی مناسب حصہ نہیں ہوگا وہ اس نظام کی ساکھ کو بھی قبول نہیں کرے گا۔

جب نظام کی بنیاد آج بھی مرکزیت کی بنیاد پر قائم ہے اور نچلی سطح پر لوگوں کو بے اختیار رکھا جارہا ہے تو ایسے میں نچلی سطح پر گورننس کا نظام کیسے بہتر ہوسکے گا۔ ہم نے سیاسی مداخلتوں کی بنیاد پر اپنے ادارہ جاتی نظام سمیت مجموعی طور پر بیوروکریسی اور عدلیہ کے نظام کو بہت زیادہ سیاسی اور مفلوج بنادیا ہے ۔اس لیے نظام میں جو لوگوں کو عملا ریلیف دینے والے سیاسی،انتظامی اور قانونی ادارے تھے انھیں کمزور کردیا گیا ہے۔یہ سب کچھ ایک منظم حکمت عملی اور سوچ کے تحت کیا گیا ہے تاکہ عام آدمی کے مقابلے میں طاقت ور طبقات کی حکمرانی کو مضبوط کیا جا سکے۔ اداروں کی مضبوطی کا عمل میرٹ اور شفافیت پر مبنی تقرری کی بنیاد پر چلتا ہے۔

لیکن ہماری سیاسی حکمت عملی سیاسی مداخلت کی بنیاد پر قائم ہے اسی حکمت عملی کے تحت حکمران حکمرانی کرنا چاہتے ہیں جو خود تبدیلی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ جو لوگ کرپشن کے خلاف سب سے زیادہ آواز اٹھاتے ہیں تو زیادہ سامان بھی ان کے گھر سے ہی ملتا ہے۔ کرپشن کی کہانیاں ہمیں تمام اداروں کی سطح پر دیکھنے کو ملتی ہیں تو ایسے میں حالات کیونکر درست ہوسکیں گے۔ جب حکمران طبقات ادارہ جاتی نظام کو اپنے ذاتی سیاسی یا کاروباری مفاد کے لیے استعمال کریں گے تو پھر اصلاح کا عمل بھی کم دیکھنے کو ملتا ہے۔

ہمارے جیسے ملکوں میں نظام کی تبدیلی کو ایک سیاسی نعرہ بنا کر اس پر عملاً سیاست کی جاتی ہے یا لوگوں کو سیاسی طور پر گمراہ کیا جاتا ہے۔نظام کی تبدیلی لانے والوں سے پوچھا جائے کہ ان کے پاس نظام کی تبدیلی کا کیا خاکہ ہے تو ان کے پاس بھی اس کا کوئی خاص روڈ میپ نہیں ہوتا اور محض جذباتی بنیادوں پر کچھ سیاسی نعرے ہوتے ہیں۔ عملی طور پر کیسے اس نظام کی عملی خرابیوں کی اصلاح کرنی ہے اور یہ عمل کہاں سے شروع کرنا ہے اور اس کی حکمت عملی یا تبدیلی کا طریقہ کار کیا ہوگا اس کی کمی نظر آتی ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ موجودہ آئینی اور قانونی دستور کی سطح پر بیٹھ کر ہم نظام کو کیسے تبدیل کرسکتے ہیں اس پر سوچنے کی ضرورت ہے۔اکھاڑ پچھاڑ یا سب کچھ تباہ کرکے نظام نہیں بنا کرتے بلکہ عملی سطح پر معاملات اور زیادہ خراب ہوتے ہیں۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمیں اپنے نظام کی اصلاح کے لیے جارحانہ حکمت عملی اور سخت گیر اقدامات درکار ہیں اور یہ کام غیر معمولی اقدامات اور عملدرآمد کے نظام کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا۔ہم بنیادی طور پیچ ورک کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں لیکن یہ حکمت عملی سست روی کا شکار بھی ہوگی اور ترقی کے عمل میں کوئی بڑی تیزی پیدا نہیں کرسکے گی۔آج کی ڈیجیٹل دنیا میں ترقی کا عملی معیار تیزی اختیار کرگیا ہے اور ماضی کے مقابلے میں ترقی کے پیمانے اور طریقے کار بھی بدل گئے ہیں۔روائتی طور طریقوں کے مقابلے کی بجائے جدید طریقوں نے لے لی ہے اور ہمیں اسی بنیاد پر آگے بڑھنا ہے۔دنیا میں کامیاب نظام چیک اینڈ بیلنس یا شفافیت سمیت جواب دہی یا احتساب کے نظام کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں۔ جب کہ ہمارا عملی نظام طبقاتی بنیادوں پر قائم ہے جہاںطاقت ور اور کمزور کے لیے دو الگ الگ نظام اور قانون ہیں جہاں یکساں طور پر شہریوں کو نہیں دیکھا جاتا۔یہ ہی وجہ ہے کہ اپنے داخلی نظام میں ایک مضبوط شفاف نظام کی بنیاد کو قائم نہیں کرسکے۔

جب آپ کا نظام بہت زیادہ طبقاتی بنیادوں پر قائم ہوگا یا اس طبقاتی بنیادوں پر لوگوں کے ساتھ مختلف طرز کا سلوک ہوگا یا تفریق کیا جائے گا تو قومی ریاست یا سیاست میں ایک دوسرے کے لیے ہم آہنگی کیسے پیدا ہوسکے گی۔ اس لیے نظام کی تبدیلی کی باتیں کرنا یا نعرے لگانا آسان ہوتا ہے مگر اس کو عملی سمت دینا یا اس کے لیے لوگوں کو متحرک کرنا یا جدوجہد کرنا مشکل کام ہوتا ہے ۔بالخصوص ایسے ماحول میں جب ہمارے جیسے ملکوں میں سیاسی نظام سمیت سیاسی جماعتیں نہ صرف کمزور ہوں بلکہ کئی طرح سے ذاتی مفادات اور سمجھوتوں کی عملی سیاست کا شکار ہوں،عدلیہ ،سول سوسائٹی اور میڈیا بھی کمزور ہو تو نظام کی تبدیلی کی باتوں میں کون طاقت فراہم کرے گا اور کون حقیقی سیاسی جدوجہد کا حصہ بن کر نظام کو تبدیل کرنے کا حصہ بنے گا۔جن لوگوں نے نظام کو بدلنا تھا یا ہے جب وہ حکمرانی کے نظام میں اپنے ذاتی مفادات کی سیاست کا شکار ہوجائیں تو پھر نظام کی تبدیلی یا اس کی بحث طاقت کے مراکز سے باہر نکل کر محض عوام تک محدود رہ جاتی ہے اور اس کی قیادت کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں ہوتا۔

Load Next Story