سینیٹ کمیٹی کی وفاقی حکومت کو 2 ہفتوں کے اندر 2 درجن وزارتیں و محکمے بند کرنے کی ہدایت

کمیٹی نے وفاقی حکومت کو مزید ہدایت کی کہ مشترکہ مفادات کونسل ازسرنو تشکیل دے

18ویں ترمیم پر عملدرآمد کی نگران سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی نے وفاقی حکومت کو2 ہفتوں کے اندر 2 درجن وزارتیں و محکمے بند، ایک درجن ادارے مشترکہ مفادات کونسل کو منتقل کرنے کی ہدایت ، پاور ڈسری بیوشن کمپنیاں آئین کے تحت صوبائی ملکیت قرار دیتے ہوئے وفاق کو نجکاری سے روک دیا۔

کمیٹی نے وفاقی حکومت کو مزید ہدایت کی کہ مشترکہ مفادات کونسل ازسرنو تشکیل دے، میڈیا براڈ کاسٹنگ حقوق صوبوں کیساتھ شیئر کرے، پرنٹ میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کا سلسلہ بند کرے۔

 پی پی پی کے سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے اپنی زیر صدارت اجلاس میں کہا کہ وفاقی حکومت فنکشنل کمیٹی کی ہدایات پر عملدرآمد کی پابند ہے، کیبنٹ ڈویژن 15روز بعد پہلی عملدرآمد رپورٹ فراہم کرے، غیر آئینی وزارتیں، ادارے ملازمین کو متاثر کئے بغیر فوری بند یا صوبوں کو منتقل کرے، عملہ درآمد نہ ہونے پر معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھیجا جا سکتا ہے۔

 انہوں نے وفاق پر زور دیا کہ 15 یوم میں رولز آف بزنس میں ترمیم کرے، صحت، تعلیم، فوڈ سکیورٹی، آبی وسائل، موسمیاتی تبدیلی، ہائوسنگ، خصوصی اقدامات، ریلویز،بین الصوبائی رابطہ، شماریات، ثقافت وقومی ورثہ، پٹرولیم، صنعت، منصوبہ و ترقی، اینٹی نارکوٹکس کی وزارتیں اور متروکہ املاک بورڈ، زکواۃ و عشر، نیا پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی، ای او بی آئی، پولیس سروس، پی ایم ڈی سی، کورنگی فش ہاربر، پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ، ایس آئی ڈی سی ایل اور واپڈا بند کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے اخراجات بڑھ کر190 کھرب روپے تک پہنچ چکے، آئینی انتظام کے تحت یہ وزارتیں، محکمے اور ادارے بند کرکے وفاقی اخراجات 130 کھرب روپے تک لانے کی ضرورت ہے۔ فنکشنل کمیٹی نے قرار دیا کہ یہ وزارتیں محض ایک رکن پارلیمنٹ اور وفاقی سیکرٹری کو کھپانے کیلئے برقرار رکھی گئی ہیں، جس کی وجہ سے ان وزارتوں کو چلانے کیلئے قرضوں کی صورت میں مالی بوجھ بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سسٹم کو ازسرنو مرتب کرنے کی ضرورت ہے مگر حل غیرآئینی تجویز کیا جا رہا ہے۔ مسلح افواج کا کہنا درست ہے کہ انہوں نے بھارت کے خلاف جنگ جیتی، پاکستان کیلئے سفارتی کامیابیاں حاصل کیں مگر یہ کامیابیاں عام لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں دے رہیں۔

سب کمیٹی نے ڈسکوز کی نجکاری کا معاملہ سپریم کورٹ کے1993ء میں نواز شریف کیس میں فیصلے مطابق مشترکہ مفادات کی کوسنل کو بھیجنے کی ہدایت بھی کی۔ چیئرمین نے کہا کہ صوبوں کو ڈسکوز کی ملکیت اپنے ذمہ لینی چاہیے اور قرار دیا کہ آئیسکو، فیسکو، لیسکو، گیپکو، سیپکو اور حیسکو سمیت تمام ڈسکوز کی مشترکہ مفادات کونسل کی رضامندی کے بغیر نجکاری آئین کے آرٹیکلز 154 اور157 کی خلاف ورزی ہو گی۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ صوبوں کی برابری یقینی بناتے ہوئے مشترکہ مفادات کونسل کو ازسرنو تشکیل دیا جائے، بجلی، پٹرولیم، گیس اور ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول اور نگرانی مشترکہ مفادات کونسل کرے،کیونکہ آرٹیکل154 یہ اختیار کونسل کو دیتا ہے۔

 کمیٹی نے صوبائی دائرہ کار کے شعبوں پر وفاقی کنٹرول اور ریلویز، پٹرولیم، بجلی، پورٹس اور اوگرا، نیپرا، پیمرا ، پی ٹی اے سمیت وفاقی قانون سازی لسٹ پارٹ ٹو کے شعبوں پر وفاق کا اختیار مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل154کے تحت صوبائی حقوق کے تحفظ کیلئے یہ مشترکہ مفادات کونسل دائرہ اختیار میں آتے ہیں، ان میں وفاقی کابینہ کی مداخلت آرٹیکل97 کی خلاف ورزی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کمیٹی کی ہدایات عملدرآمد سے قبل وفاقی حکومت کی جانب سے مزاحمت متوقع ہے، ایسے وقت جاری ہوئیں جب بہتر سروسز کیلئے نئے صوبوں کی ضرورت پر بات ہو رہی ہے۔

Load Next Story