سندھ میں الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ، ذہنی صحت، بریسٹ کینسر اور جدید طبی سہولیات کے بڑے اقدامات
سندھ حکومت کی جانب سے الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ، ذہنی صحت، بریسٹ کینسر اور جدید طبی سہولیات کے لیے بڑے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیونگ اینڈ لرننگ کے زیرِ اہتمام سرطان سے آگاہی کے حوالے سے منعقدہ سیمینار میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ سیمینار میں سرطان سے بچاؤ اور بروقت تشخیص کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے ماہرین نے آگاہی اور احتیاطی تدابیر پر اظہار خیال کیا۔
وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ذہنی صحت کے مسائل کی بروقت نشاندہی پر توجہ دی جارہی ہے۔ تمام لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ذہنی مسائل اور ڈپریشن کی علامات پہچاننے کی تربیت دی جارہی ہے۔ حمل کے بعد خواتین میں پیدا ہونے والے ذہنی مسائل کی نشاندہی پر بھی توجہ ہے۔ ذہنی صحت سے متعلق آگاہی اور بروقت تشخیص کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت اور بریسٹ کینسر سے آگاہی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی تعداد بڑھا کر انہیں خصوصی تربیت دی جارہی ہے تاکہ ذہنی صحت کے مسائل کی نشاندہی کی جاسکے۔ صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ خواتین کو بریسٹ میں گانٹھ کی خود جانچ کے طریقے بھی سکھائے جائیں گے۔ بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص کے لیے خواتین میں آگاہی پیدا کی جائے گی۔
ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ ذہنی صحت اور بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص کے لیے کمیونٹی سطح پر اقدامات ہوں گے۔ کمیونٹی ہیلتھ ورکرز خواتین کو بریسٹ کینسر کی ابتدائی علامات سے آگاہ کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت کے حوالے سے مستند اور جامع ڈیٹا رجسٹری بنانے کی ضرورت ہے۔ ماہر نفسیات، ماہر نفسیات اطفال اور کمیونٹی کے درمیان رابطہ مضبوط کرنا ہوگا۔
ڈاکٹر عذرا نے کہا کہ کلینیکل سائیکالوجسٹ کو ماہر نفسیات اور کمیونٹی کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ذہنی صحت کی سہولیات کے لیے ٹیلی ہیلتھ سروس شروع کرنے پر کام کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیلی ہیلتھ کے ذریعے اضلاع اور ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کو آپس میں منسلک کیا جائے۔ ٹیلی تھراپی اور ٹیلی ہیلتھ کے ذریعے ذہنی صحت کی سہولیات عام کرنے کی ضرورت ہے۔
صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ اضلاع تک نفسیاتی سہولیات اور ذہنی صحت سے متعلق آگاہی پھیلائی جائے گی۔ سندھ حکومت نے پوسٹ گریجویٹ میڈیکل تعلیم سے متعلق نئی پالیسی بھی تیار کرلی ہے۔ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ جن شعبوں میں ماہر ڈاکٹرز کی کمی ہے، وہاں اسپیشلائزیشن کرنے والوں کو ترجیح دی جائے گی۔ اینستھیٹسٹ، انٹینسیوسٹ اور ویسکیولر سرجنز کی کمی پوری کرنے پر توجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اینڈوکرائنولوجسٹ اور ڈائٹیشنز سمیت دیگر ماہرین کی کمی دور کی جائے گی۔ ایم ایس ایم ڈی پروگرام میں مخصوص شعبوں میں اسپیشلائزیشن کرنے والوں کو ترجیح دینے کی پالیسی تیار کرلی گئی ہے۔ صوبائی وزیر صحت نے بتایا کہ پوسٹ گریجویٹ پالیسی منظوری کے لیے کابینہ کو بھیجی جارہی ہے۔ جن طبی شعبوں میں ماہرین کی شدید کمی ہے، وہاں ڈاکٹروں کو اسپیشلائزیشن کی ترغیب دی جائے گی۔
ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ ہر مریض کا ڈیٹا الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ سسٹم میں محفوظ کیا جائے گا۔ مریض کے طبی ریکارڈ کو بنیادی، ثانوی اور ثالثی سطح کے اسپتالوں سے منسلک کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مریض جہاں بھی علاج کے لیے جائے گا، اس کا طبی ریکارڈ ڈاکٹر کو دستیاب ہوگا۔ الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ کے لیے ایپ تیار کرلی گئی ہے اور سسٹم جلد لانچ کردیا جائے گا۔
صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ اسپتالوں کے درمیان مریضوں کے ڈیٹا کا مربوط نظام قائم کرنا چاہتے ہیں۔ صحت کے شعبے میں ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے ساتھ اس کا مؤثر استعمال بھی ضروری ہے۔ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ کورونا کے دوران سندھ میں آئی سی یو بیڈز کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ متعدی امراض کے لیے خصوصی اسپتال اور آئی سی یو بھی قائم کیے گئے، جبکہ ٹراما سینٹرز کا قیام بھی شروع کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ میں آئی سی یو کی سہولیات اور بیڈز میں اضافہ کیا جائے گا۔ سکھر اور حیدرآباد میں بھی آئی سی یو کی استعداد بڑھائی جائے گی۔ صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ سندھ میں آئی سی یو کی سہولیات کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سرکاری شعبے میں بچوں کے لیے بھی آئی سی یو کی سہولت قائم کردی گئی ہے۔
ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں میں بچوں اور نومولودوں کے لیے آئی سی یو کی سہولت پہلے موجود نہیں تھی۔ بچوں کے لیے آئی سی یو کی سہولت قائم کرنا سندھ حکومت کی اہم پیش رفت ہے۔