عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر من وعن عمل کریں گے، طارق فضل چوہدری
وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پرمن وعن عمل کرے گی۔
سینیٹ کا اجلاس مقررہ وقت سے 45 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس کی صدارت سینیٹر منظور قادر نے بطور پریذائیڈنگ افسر کی۔
سینیٹ اجلاس میں وقفہ سوالات کو موخر کردیا گیا، سوالات و جوابات کی چھپائی نہ ہونے کی وجہ سے وقفہ سوالات کو موخر کیا گیا، وقفہ سوالات موخر کرنے کی تحریک سینیٹر شہادت اعوان نے پیش کی، تحریک کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔
سینیٹر جان محمد نے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال مون سون نے پورے پاکستان کو متاثر کیا، پوری دنیا نے پاکستان کی مدد کی، سندھ میں جو لوگ متاثر ہوئے، بلوچستان کے متاثرین نے 115 ملین ڈالر دیے، 86 ہزار گھر بنانے تھے مگر حکومت نے اس منصوبے کو تبدیل کردیا، تین لاکھ افراد بے گھر تھے، ان کے گھر بنانے کے بجائے روڈز بنانے کا کہا گیا، ورلڈ بینک نے فنڈز لوگوں کے لیے دیے تھے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا پاٹا کے ٹیکس سے استثنیٰ کو لوگوں نے مس یوز کیا ہے، پچھلے سال کافی مشاورت کے بعد سیلز ٹیکس لگایا گیا، ایوان میں دونوں جانب سے اس اقدام کو سراہا گیا تھا، قانون نافذ کرنے والے ادارے جو فاٹا پاٹا میں قربانیاں دیتے ہیں وہ بھی قابل قدر ہیں، حکومت فاٹا پاٹا کے ساتھیوں سے مشاورت کے لیے آج بھی حاضر ہے، اس میں متعلقہ ادارے بھی شامل ہوں گے، بلوچستان کے معاملے میں بھی یہی پالیسی ہے، سب اسٹیک ہولڈرز کو سن کر فیصلہ کریں گے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس معاملے میں جو کمیٹی تھی اس میں فاٹا پاٹا کے لوگ بھی شامل تھے، دیگر چیمبرز نے سختی سے مخالفت کی تھی، ٹیکس سے استثنیٰ کے معاملے پر دیگر چیمبرز کہتے تھے ہم تو کاروبار ہی نہیں کرسکتے، بزنس مین کلاس کے اندر ٹیکس سے استثنیٰ کے معاملے پر بڑی بے چینی پائی جاتی تھی۔
سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان میں جہاں پہلے ٹیکس نہیں تھا وہاں بھی لگایا گیا ہے، بلوچستان یا فاٹا پاٹا کے لوگوں کو جو سہولیات میسر تھیں وہ بھی واپس لے لی گئی ہیں، یہ حکومت لائی ہی اس لیے گئی ہے، بلوچستان کے مسائل کا حل یہ ہے کہ بارڈرز کو محفوظ کرلیں۔
مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو جو انگریز دور میں مراعات حاصل تھیں وہ بھی واپس لے لی گئی ہیں، ہنہ اوڑک اور زیارت میں کوئی سہولت کار نہیں تو پھر یہ دہشتگرد وہاں کیسے پہنچے، سوراب میں بمباری ہوئی تو اس میں خواتین اور بچے شہید ہوئے، ہنہ اوڑک میں لوگوں کو وہاں سے ہٹا کر سروے شروع کردیا گیا ہے، بلوچستان میں زمینوں کو دھڑا دھڑ الاٹ کیا جارہا ہے، یہ وہ زمینیں ہیں جو معدنی دولت سے مالا مال ہیں۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے فیصلہ دیا ہے، آج پی ٹی آئی کے سینیٹرز کی جانب سے عدالت کی تعریف بھی کی گئی ہے، ہم یہی کہتے تھے بانی پی ٹی آئی کے مقدمات کا فیصلہ عدالتوں سے ہی ہونا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے پاس کوئی ایسا اختیار نہیں کہ وہ خود جیلوں سے لوگوں کو رہا کروائیں، سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے گا۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ عدلیہ اگر فیصلہ آپ کے حق میں دے تو پھر ٹھیک ہے، اگر نہ دے تو یہ تنقید کرتے ہیں، عدالتیں ہی اصل راستہ ہیں، پی ٹی آئی کے لوگ عدالتوں میں جائیں، انہوں نے 27 ستمبر کو پھر ایک احتجاج کا اعلان کررکھا ہے، احتجاج ان کا حق ہے لیکن ان کا پرامن احتجاج بعد میں پرتشدد ہوجاتا ہے، یہ معاملات سڑکوں پر حل نہیں ہوں گے، تشدد کا راستہ آپ کو کسی طرف نہیں لے کر جائے گا۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے پر سینیٹرز کسی بھی جماعت سے ہوں اپنا موقف پیش کریں، بلوچستان میں آپریشن کا کسی کو شوق نہیں ہے، بلوچستان میں روزانہ شہادتیں ہورہی ہیں، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے وہاں پر بہادری کی داستانیں رقم کررہے ہیں، بی ایل اے اور دہشتگردوں کو بھارت وسائل مہیا کررہا ہے۔
سینیٹر عطاالرحمان نے وفاقی بجٹ میں سابقہ فاٹا اور پاٹا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے ٹیکسوں سے استثنیٰ واپس لینے پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا، کہا کہ ان اضلاع کے لیے 100 ارب روپے کا وعدہ کیا تھا جو نہیں ملا، فاٹا کے عوام سے پوچھے بغیر فاٹا اضلاع کو خیبرپختونخوا میں ضم کردیا گیا، خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے بعد ان اضلاع کی مشکلات اور بڑھ گئی ہیں۔
سینیٹر عطاالرحمان نے کہا کہ ان اضلاع میں دہشتگردی ہے، اس دہشتگردی کے پیچھے کون ہے؟ اپوزیشن کو اپوزیشن کی طرح چلانے کی کوشش کی جائے، اپوزیشن اور حکومت میں یکجہتی ہونی چاہیے۔
ساتویں این ایف سی ایوارڈ پر عملدرآمد کی نگرانی سے متعلق 2024 کی پہلی ششماہی رپورٹ ایوان میں پیش کردی گئی، رپورٹ بلال اظہر کیانی نے پیش کی۔
سینیٹر عون عباس نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں نے بانی پی ٹی آئی سے متعلق رپورٹ پیش کی، ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی شدید ڈپریشن کا شکار ہیں، بانی پی ٹی آئی ہمارے والد کی طرح ہیں، میں نے 12، 13 دن قید تنہائی میں گزارے ہیں، مجھے پتا ہے یہ تکلیف ہے، بانی پی ٹی آئی کو 9 ماہ سے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، رانا ثناء اللہ صاحب آپ کو کہتا ہوں آئیے مل کر چلتے ہیں۔
ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ پی ٹی آئی ورکرز کو کہتا ہوں شفا اسپتال کے باہر کوئی مجمع نہ لگائیں، ورکرز کوئی ایسا کام نہ کریں کہ حکومت کو یہ عمل سبوتاژ کرنے کا موقع ملے، پہلے بھی ہمارے اوپر الزامات لگائے گئے ہیں۔