پی آئی اے سمیت تمام ایئرلائنز کو 15 سال تک درآمدی اشیا پر سیلز ٹیکس چھوٹ
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نجکاری کے اجلاس میں پی آئی اے سمیت تمام ایئرلائنز کو درآمدی اشیا پر سیلز ٹیکس چھوٹ دینے کا فیصلہ سامنے آگیا۔
نجکاری کمیشن حکام کے مطابق آئندہ بجٹ سے اس فیصلے کا اطلاق ہوگا اور یہ ٹیکس چھوٹ 15 سال کے لیے ہوگی۔
ڈاکٹر فاروق ستار کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نجکاری کا اجلاس ہوا، جس میں نجکاری کمیشن حکام نے بتایا کہ قومی اسمبلی کی خزانہ کمیٹی کی سفارش پر پی آئی اے سمیت تمام ایئرلائنز کو درآمدی اشیا پر سیلز ٹیکس چھوٹ دی جائے گی۔
اجلاس میں زرعی ترقیاتی بینک کی نجکاری پر بھی بریفنگ دی گئی، اس حوالے سے حکام نے بتایا کہ زیڈ ٹی بی ایل کو 2024 میں نجکاری فہرست میں شامل کیا گیا۔ فنانشل ایڈوائزر نے ٹرانزیکشن اسٹرکچر بنا دیا ہے جبکہ اس پر مشاورت جاری ہے۔ فنانشل ایڈوائزر نے 100 فیصد نجکاری کی منظوری دی ہے، تاہم حکومت کچھ شیئرز اپنے پاس رکھنے پر غور کر رہی ہے۔
حکام کو امید ہے کہ زیڈ ٹی بی ایل کا ٹرانزیکشن پلان اسی ماہ منظور ہوجائے گا اور اسی مالی سال نجکاری کی کوشش کی جائے گی۔
قائمہ کمیٹی کو ڈسکوز کی نجکاری کے منصوبے سے بھی آگاہ کیا گیا ۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں فیسکو، آئیسکو اور میپکو کی نجکاری ہوگی۔ نجکاری حکام کے مطابق 9 ڈسکوز کو 4 بیچز میں تقسیم کیا گیا ہے اور نجی شعبے کو ڈسکوز کے 51 سے 100 فیصد شیئرز آفر کیے جائیں گے۔
فیسکو کی نجکاری میں 12 نجی کمپنیوں نے آفر دی ہے جبکہ 3 ترک اور ایک چینی کمپنی نے بھی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ڈسکوز کے پہلے بیچ کی بڈنگ دسمبر 2026 میں ہوگی۔
سیکرٹری نجکاری کمیشن کے مطابق بڈنگ والے دن ڈسکوز کی ریزرو پرائس فائنل کی جائے گی جبکہ کوالیفائی کرنے والے بڈرز کو ڈسکوز کا ریکارڈ فراہم کیا جائے گا۔ ساتھ ساتھ ملازمین کو برقرار رکھنے کی کوشش ہوگی، تاہم حتمی فیصلہ بڈرز سے بات چیت کے بعد ہوگا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈسکوز کے پرانے لاسز اور بیلنس شیٹ میں لین دین کے مسائل موجود ہیں جبکہ ان کے نقصانات نیپرا کے ہدف سے زیادہ ہیں۔
اجلاس میں چیئرمین کمیٹی فاروق ستار نے پیٹرولیم لیوی کو معیشت کی بہتری میں بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر معیشت بہتر کرنی ہے تو پیٹرولیم لیوی کے حوالے سے سخت فیصلہ لینا ہوگا۔