ٹرمپ خاتون رپورٹر پر برس پڑے؛ صحافی کے بچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا؛ ویڈیو وائرل

صدر ٹرمپ نے خاتون صحافی کو فیک رپورٹر قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ بے حد بے ادب ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مشکل سوال پوچھنے پر سی این این کی سینئر رپورٹر کرسٹن ہومز کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کرسٹن ہومز نے صدر ٹرمپ سے ڈیموکریٹ سینیٹر جون اوسوف کے ایک حالیہ بیان پر ردعمل مانگا۔

سینیٹر جون اوسوف نے اپنی تقریر میں امریکی صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹرمپ اپنے صدارتی فرائض انجام دینے کے بجائے وائٹ ہاؤس میں بال روم بنانے اور اپنی قریبی معاون نٹالی ہارپ کے ساتھ سفر کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

سی این این کی خاتون رپورٹر کرسٹن ہومز نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ وہ سینیٹر کے اس بیان پر کیا کہیں گے جس میں نٹالی ہارپ کا بھی حوالہ دیا گیا تھا۔

جس پر صدر ٹرمپ نے سوال کا براہِ راست جواب دینے کے بجائے سینیٹر اوسوف کو ’’پی وی ہرمن‘‘ جیسا دکھائی دینے والا شخص قرار دیا اور پھر گفتگو کا رخ رپورٹر کی جانب ہوگیا۔

اس دوران کرسٹن ہومز نے مزید سوال کرنے کی کوشش کی تو ٹرمپ نے انہیں بار بار خاموش رہنے کو کہا۔

صدر نے خاتون صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بے حد بے ادب ہیں۔ جب رپورٹر نے بتایا کہ وہ سی این این سے ہیں تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ سی این این فیک نیوز ہے اور کرسٹن ہومز ایک اونچی آواز میں بولنے والی اور فیک رپورٹر ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے کرسٹن ہومز کو متعدد مرتبہ خاموش رہنے کو کہا اور ان کے سوال مکمل کرنے سے پہلے ہی بات کاٹ دی۔

خیال رہے کہ یہ جھڑپ ایسے وقت ہوئی جب ٹرمپ ایک تقریب میں شریک تھے اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے تعلقات اور جنوبی کوریا کے ساتھ امریکی فوجی مشقوں میں کمی کے فیصلے سمیت مختلف امور پر گفتگو کر رہے تھے۔

معاملہ صرف اوول آفس کی تلخ کلامی تک محدود نہیں رہا۔ وائٹ ہاؤس کے ریپڈ رسپانس سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے کرسٹن ہومز کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے ان کے سوال کو گھناؤنا اور غیر انسانی قرار دیا اور انھیں ان کے پیشے کے لیے شرمناک قرار دینے کی کوشش کی۔

اس کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایک اور پوسٹ میں رپورٹر کے بچوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایک دن ان کے بچے اپنی والدہ کا یہ سوال دیکھیں گے اور اس پر شرمندہ ہوں گے۔

اس ذاتی حملے نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا، کیونکہ سیاسی اختلاف یا صحافتی سوال کے جواب میں پہلی مرتبہ رپورٹر کے اہل خانہ کو بھی براہ راست نشانہ بنائے جانے پر امریکی میڈیا میں شدید ردعمل سامنے آیا۔

سی این این کا وائٹ ہاؤس کو جواب

سی این این نے اپنی رپورٹر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کرسٹن ہومز وائٹ ہاؤس کی کوریج کرنے والی انتہائی تجربہ کار اور معتبر صحافیوں میں شامل ہیں اور انہوں نے صدر سے ایک مشکل، متعلقہ اور اہم سوال پوچھا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ سرکاری عہدیداروں کو اس رپورٹنگ یا سوالات سے اختلاف کرنے کا حق حاصل ہے جنھیں وہ پسند نہیں کرتے لیکن صحافیوں کی جانب سے سوال پوچھنے پر ان پر ذاتی حملے کرنا صدارتی منصب کے شایانِ شان نہیں اور آزاد صحافت کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

سی این این کے دیگر صحافی بھی ہومز کے دفاع میں سامنے آئے۔ ایک ساتھی نے انہیں ’’بہترین رپورٹر، بہترین انسان اور سب سے بڑھ کر ایک ماں‘‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایک صحافی کی جانب سے صدر سے ڈیموکریٹ سینیٹر کے بیان پر وضاحت مانگنے پر ایسا ردعمل کیوں دیا گیا۔ 

اصل تنازع؛ نٹالی ہارپ کون ہیں؟

اس جھگڑے کے مرکز میں وائٹ ہاؤس کی ایگزیکٹو معاون نٹالی ہارپ بھی ہیں جو صدر ٹرمپ کے قریبی حلقے میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔

ڈیموکریٹ سینیٹر جون اوسوف نے اتوار کی ایک تقریر میں ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے ہارپ کا حوالہ دیا تھا اور صدر پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ صدارتی ذمہ داریوں کے بجائے ذاتی آسائشوں اور سفر میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ اوسوف نے قطر کے امیر کی جانب سے فراہم کیے گئے طیارے کا بھی حوالہ دیا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے اوسوف کے بیان پر بھی شدید ردعمل ظاہر کیا۔ وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر اسٹیون چیونگ نے سینیٹر کے لیے انتہائی توہین آمیز زبان استعمال کرتے ہوئے انہیں نشانہ بنایا۔ 

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی مشکل سوالات پوچھنے والی خواتین صحافیوں کے ساتھ سخت الفاظ استعمال کرتے رہے ہیں۔ سی این این کی ایک اور صحافی کلیریسا وارڈ کو بھی وائٹ ہاؤس کی جانب سے سوشل میڈیا پر ذاتی نوعیت کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

Load Next Story