غزہ کے حق اور اسرائیل کیخلاف فیصلے کیوں؟ امریکا کی عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں

امریکی صدر اسرائیل کیخلاف فیصلوں پر عالمی فوجداری عدالت سے نالاں ہیں

امریکی صدر اسرائیل کیخلاف فیصلوں پر عالمی فوجداری عدالت سے نالاں ہیں

امریکا نے عالمی فوجداری عدالت کی صدر اور جاپانی جج ٹوموکو اکانے پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ عالمی فوجداری کی صدر کے ساتھ ساتھ ایک اور سینئر عہدیدار سینیگال سے تعلق رکھنے والے سینئر ٹرائل وکیل عبداللہ پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

امریکی پابندیوں میں ان افراد کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد ہوسکتے ہیں اور امریکی مالیاتی نظام تک ان کی رسائی بھی محدود ہوجاتی ہے جبکہ عالمی فوجداری عدالت کی صدر ٹوموکو اکانے سے متعلق بعض لین دین کو 17 ستمبر تک ختم کرنے کے لیے ایک محدود مدت کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

ان تازہ پابندیوں پر آئی سی سی کی صدر ٹوموکو اکانے کا فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آتا تاہم ماضی میں انھوں نے امریکی پابندیوں اور دباؤ کے خلاف عدالت کی آزادی کا دفاع کیا تھا۔

عدالت کے سرکاری ریکارڈ کے صدر ٹوموکو اکانے نے واضح کیا تھا کہ آئی سی سی اپنے عدالتی معاملات میں کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گی اور روم اسٹیٹیوٹ اور بین الاقوامی قانون کے مطابق کام جاری رکھے گی۔

انھوں نے 2025 میں بھی یورپی حکام سے عدالت کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے پر زور دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی پابندیاں عدالت کی آزادی اور بین الاقوامی قانون کے نفاذ کے لیے ایک سنگین چیلنج ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ طویل عرصے سے عالمی فوجداری عدالت کے اُن فیصلوں کی مخالفت کرتی رہی ہے جن کا تعلق اسرائیل کے خلاف تحقیقات اور ممکنہ قانونی کارروائی سے ہے۔

جیسے کہ عالمی فوجداری عدالت نے غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے معاملے میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

امریکا نے وارنٹس گرفتاری کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ عدالت کو ایسے ممالک کے شہریوں کے خلاف اختیارِ سماعت حاصل نہیں جو روم اسٹیٹیوٹ کے فریق نہیں ہیں۔ 

علاوہ ازیں امریکا کو افغانستان میں امریکی فوجیوں سے متعلق عالمی فوجداری عدالت کی تحقیقات پر بھی اعتراض رہا ہے۔

خیال رہے کہ امریکا عالمی فوجداری عدالت کا رکن نہیں ہے تاہم عدالت کی جانب سے بعض امریکی اور اسرائیلی شخصیات کے خلاف ممکنہ کارروائی کو روکنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ نے عدالت اور اس کے اہلکاروں پر دباؤ بڑھایا ہے۔

صدر ٹرمپ کی حکومت نے اس سے قبل بھی عالمی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان سمیت دیگر عہدیداروں پر بھی پابندیاں عائد کی تھیں۔

جولائی 2026 میں امریکی انتظامیہ نے آئی سی سی کے خلاف دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے عدالت کو غیر فعال کرنے کی بات بھی کی تھی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا مؤقف رہا ہے کہ عدالت نے اپنی قانونی حدود سے تجاوز کیا اور امریکی شہریوں و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا اختیار حاصل کرنے کی کوشش کی۔

عالمی عدالت پت امریکی پابندیوں کا پس منظر

عالمی فوجداری عدالت (ICC) 2002 میں قائم ہوئی تھی اور اس کا بنیادی مقصد نسل کشی، جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور جارحیت جیسے سنگین جرائم کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔

امریکا کبھی عالمی فوجداری عدالت کا رکن نہیں رہا ہے بلکہ سختی سے مخالفت کرتا آیا ہے بالخصوص  صدر ٹرمپ کے دور حکومت میں عالمی عدالت پت پابندیوں اور مخالفت کی خوفناک لہر دیکھنے کو ملی ہے۔

صدر ٹرمپ کے پہلے دور حکومت کے دوران 2020 میں آئی سی سی کے بعض اہلکاروں پر پابندیاں عائد کی تھیں جو بعد میں آنے والی صدر جنھیں بائیڈن کی انتظامیہ نے نامناسب اور غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے 2021 میں ختم کردی تھیں۔

 

Load Next Story