اسرائیل نے یہودیوں کو مسجد اقصیٰ میں مذہبی کتابچے لے جانے اور عبادت کی اجازت دیدی

جنوری میں بھی پولیس نے یہودیوں کو دعائیہ تحریروں کے پرنٹ شدہ صفحات اندر لے جانے کی اجازت دی تھی 

جنوری میں بھی پولیس نے یہودیوں کو دعائیہ تحریروں کے پرنٹ شدہ صفحات اندر لے جانے کی اجازت دی تھی 

اسرائیلی پولیس نے پہلی بار یہودی عبادت گزاروں کو مکمل یہودی دعائیہ کتابیں (سِدور) مسجد اقصیٰ میں لے جانے اور ان کے ذریعے وہاں کھلے عام دعا کرنے کی اجازت دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہودی عبادت گزاروں کو اتوار 16 اگست کو مسجد اقصیٰ کے احاطے جسے یہودی ٹمپل ماؤنٹ کہتے ہیں میں سِدور نامی مکمل دعائیہ کتابیں لے جانے کی اجازت دی گئی۔

بعض افراد نے پولیس کی موجودگی میں انھی عدائیہ کتابوں سے پڑھ کر بآواز بلند عبادات اور دعائیں بھی کیں۔ اسرائیلی وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے یہودی عبادت کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا۔

اسرائیلی اخبار ہاریٹز کے مطابق پولیس کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کا یہ اقدام 1967 سے چلے آرہے انتظامی بندوبست کے لیے ایک نمایاں تبدیلی ہے۔

اس انتظام کے تحت مسلمان اس مقام پر عبادت کرتے ہیں جبکہ غیر مسلم، جن میں یہودی بھی شامل ہیں، وہاں صرف محدود اوقات میں بطور زائر داخل ہوسکتے ہیں اور انہیں عبادت کی اجازت نہیں ہوتی۔

خیال رہے کہ کسی نئے قانون کے ذریعے مسجد اقصیٰ میں یہودی عبادت کو باضابطہ قانونی حق قرار دینے کا اعلان نہیں کیا گیا تاہم اسرائیلی پولیس کی عملی پالیسی میں نمایاں نرمی ضرور سامنے آئی ہے۔

اس سے قبل جنوری 2026 میں بھی پولیس نے پہلی مرتبہ یہودیوں کو دعائیہ تحریروں کے پرنٹ شدہ صفحات اندر لے جانے کی اجازت دی تھی جسے اس وقت بھی طویل عرصے سے رائج پابندی میں تبدیلی قرار دیا گیا تھا۔ 

تازہ اقدام کو اس لیے زیادہ اہم سمجھا جا رہا ہے کہ مکمل دعائیہ کتابیں لے جانے اور ان سے کھلے عام عبادت کرنے کی اجازت پہلے سے کہیں آگے کا قدم ہے۔ دی نیو عرب نے اسے اسرائیلی پولیس اور حکومت کی جانب سے یہودی آبادکاروں کو مسجد اقصیٰ میں عبادت کی کھلی اجازت دینے کی غیر معمولی پیش رفت قرار دیا ہے۔

مسجد اقصیٰ کا تاریخی اسٹیٹس کیا ہے؟

1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس سمیت پرانے شہر پر قبضہ کیا تاہم مسجد اقصیٰ کے احاطے کا مذہبی انتظام اردن کے زیر نگرانی مسلم وقف کے پاس برقرار رہا۔

اس انتظام کو عموماً اسٹیٹس کو کہا جاتا ہے جس کے تحت مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں عبادت کی اجازت ہے جبکہ غیر مسلموں کو مخصوص اوقات میں احاطے میں داخل ہوکر زیارت کی اجازت دی جاتی ہے۔

اسی وجہ سے اسرائیلی پولیس کی جانب سے یہودیوں کو دعائیہ کتابیں لے جانے اور کھلے عام عبادت کرنے کی اجازت کو محض معمولی انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ اس حساس انتظام میں عملی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ پہلی بار نہیں کہ حالیہ برسوں میں مسجد اقصیٰ کے حوالے سے اسٹیٹس کو پر سوال اٹھا ہے۔ جنوری 2026 میں اسرائیلی پولیس نے یہودی زائرین کو دعاؤں کے پرنٹ شدہ صفحات احاطے میں لے جانے کی اجازت دی تھی۔

بعدازاں جولائی 2026 میں ہزاروں یہودی زائرین نے یہودی مذہبی دن تشا باو کے موقع پر مسجد اقصیٰ کے احاطے کا رخ کیا اور بعض افراد نے وہاں کھلے عام عبادت کی۔

اس موقع پر بھی اسرائیلی وزیر بن گویر کی موجودگی اور یہودی عبادت کی اطلاعات سامنے آئیں۔

اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق جولائی کے واقعے میں 3 ہزار سے زائد یہودی زائرین کے احاطے میں پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جبکہ اردن نے اس عمل کو اسٹیٹس کو کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل ظاہر کیا تھا۔ 

اردن اور عرب دنیا کا ردعمل

مسجد اقصیٰ کے مذہبی انتظام کے حوالے سے اردن کا کردار خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اردن کے پاس بیت المقدس کے مسلم مقدس مقامات کی تاریخی سرپرستی ہے۔

اردن اور دیگر عرب و مسلم ممالک پہلے ہی اسرائیلی وزرا اور یہودی آبادکاروں کی مسجد اقصیٰ میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔

اردن کی وزارت خارجہ نے حالیہ مہینوں میں اسرائیلی حکام اور آبادکاروں کے اقدامات کو تاریخی اور قانونی اسٹیٹس کو کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ 

اردن کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے مذہبی انتظام کو تبدیل کرنے کی کوشش خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا سکتی ہے۔

Load Next Story