بھارت کا جھوٹ بے نقاب

معرکہ حق کے ایک سال بعد بھارت نے آپریشن سندھور میں اپنی شکست کی خفت مٹانے کے لیے ایک دستاویزی فلم جاری کی ہے۔

msuherwardy@gmail.com

معرکہ حق کے ایک سال بعد بھارت نے آپریشن سندھور میں اپنی شکست کی خفت مٹانے کے لیے ایک دستاویزی فلم جاری کی ہے۔ یہ بھارت کا پرانا طریقہ واردات ہے کہ وہ اپنی فوج کی گرتی ہوئی ساکھ اور مورال کو بلند کرنے کے لیے بالی وڈ کو استعمال کرتا ہے۔ ویسے بھی معرکہ حق میں پاکستان کی شاندار اور بے مثال کامیابی کو عالمی سطح پر تسلیم کیاگیا ہے۔اور پوری دنیا نے بھارت کی شکست پر مہر لگائی ہے۔ جس سے مودی حکومت کی عالمی اور داخلی پوزیشن بہت خراب ہے۔

اسی لیے اس بری پوزیشن اور تباہ حال ساکھ کو سنبھالنے کے لیے جھوٹی فلم بنائی گئی ہے۔ یوں بھارت نے اپنے پروپیگنڈے کے ڈھانچے کو بے نقاب کر دیا ہے اور ان تضادات کو بھی ظاہر کر دیا ہے جنھیں چھپانے کا ارادہ تھا۔ بھارت نے ٹیلی ویژن کیمروں،اور ایڈیٹنگ کے ذریعے ذریعے وہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی جو میدانِ جنگ میں ثابت نہیں کر سکا تھا۔

 یہ دستاویزی فلم غصے، انتقام، جوش، جھوٹ اور خود ستائشی کے دس ہزار الفاظ فراہم کرتی ہے۔ اس میں نہ کوئی خام انٹرسیپٹ ہے، نہ پاکستان کو پہلگام سے جوڑنے والا کوئی فرانزک سلسلہ، اور نہ ہی بھارتی نقصانات کا کوئی مکمل حساب۔ میدانِ جنگ کے بیان کا آغاز اس دعوے سے ہوا کہ ہر بھارتی طیارہ اور ہر پائلٹ محفوظ واپس آیا۔ جب کہ بھارت کے اپنے سی ڈی ایس نے بعد میں طیاروں کے نقصان اور تکنیکی غلطیوں کا اعتراف کیا ۔بھارتی طیاروں کے نقصان کا اعتراف عالمی سطح پر تمام غیر جانبدار اداروں نے کیا۔ جس کا بھارت کے پا س کوئی جواب نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔ بلکہ پاک فضائیہ کی کامیابیاں اب’’ وار کورسز‘‘ میں پڑھائی جاتی ہیں۔آزاد بین الاقوامی جائزوں نے متعدد بھارتی طیاروں کے نقصان کی تصدیق کی۔ بھارت کی فوجی قیادت کیمروں کے سامنے بیٹھی اور ایک ایسا بیان دہرایا جسے بھارت کے اندر موجود ملبے نے پہلے ہی جھٹلا دیا تھا۔

بھارت پاکستان سے طیارے تباہ کروانے اور 88 گھنٹے کی جنگ چھیڑنے کے بعد 100 فیصد مشن کامیابی کا دعویٰ کرتا ہے۔یہ سب جھوٹ ہے بلکہ ثابت شدہ جھوٹ ہے۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر کوئی آپریشن رات ڈیڑھ بجے تمام مقاصد حاصل کر چکا ہوتا تو مزید تین دن کی بے قابو کشیدگی کی ضرورت نہ ہوتی۔ بھارت پاکستان کے ردعمل کو سست قرار دیتا ہے حالانکہ اس کے اپنے وائس چیف آف ایئر اسٹاف کا کہنا ہے کہ پاکستانی طیاروں نے 15 منٹ کے اندر پرواز شروع کر دی اور جلد ہی 40 سے 50 طیارے فضا میں تھے۔ درجنوں لڑاکا طیاروں پر مشتمل 15 منٹ کا ردعمل تیاری، ہم آہنگی اور آپریشنل رفتار کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان ایئر فورس نے بین الاقوامی سرحد عبور کیے بغیر بھارتی طیاروں کا مقابلہ کیا اور کئی طیارے مار گرائے، بھارت نے اپنے جدید ترین لڑاکا طیارے کھو دیے ۔بھارت کا مکمل فضائی بالادستی کا دعویٰ پہلی ہی جھڑپ میں ختم ہو گیا۔ یہ دستاویزی فلم ٹیلی ویژن پر وہ چیز ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہے جو بھارت فضا میں کھو چکا تھا۔ یہ دعویٰ کہ پاکستانی میزائل اپنے اہداف سے چوک گئے اور صرف اودھم پور کو نقصان پہنچا۔ حالانکہ یہ ریکارڈ پر موجود ہے کہ بھارت کی سرکاری بریفنگ (10 مئی) نے اودھم پور، پٹھان کوٹ، آدم پور اور بھوج میں نقصان کا اعتراف کیا تھا۔ چار تسلیم شدہ متاثرہ فضائیہ کے اڈوں کو بھارت کی نظر ثانی شدہ ٹیلی ویژن تاریخ میں گھٹا کر ایک کر دیا گیا ہے۔ بھارت کہتا ہے کہ ہر پاکستانی حملہ ناکام بنایا گیا حالانکہ بھارت کا اپنا سرکاری جانی و مالی نقصان کا ریکارڈ اس دعوے کی نفی کرتا ہے۔

بھارت دستاویزی فلم سے متاثرہ اڈوں کو حذف کر سکتا ہے، لیکن وہ انھیں اپنی ہم عصر سرکاری بریفنگ سے حذف نہیں کر سکتا۔بھارت نے عوامی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی ہوائی اڈوں پر اس کے حملے پاکستان کی بڑی جوابی کارروائی کے بعد کیے گئے جب کہ بھارت کے ڈی جی ایئر آپریشنز اب کہتے ہیں کہ پاکستانی ہوائی اڈوں، ریڈاروں اور کمانڈ سینٹرز پر حملہ پاکستان کے آپریشن شروع کر نے سے پہلے کیا گیا۔

دہلی پر مبینہ پاکستانی میزائل حملے کا ذکر کسی آپریشنل کمانڈر کی بجائے ایک ٹیلی ویژن تجزیہ کار کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ بھارت اس دعوے کے لیے، جو بڑی کشیدگی کا جواز بنایا گیا، کوئی ریڈار ٹریس، ملبہ، میزائل کی قسم، روکنے کی فوٹیج یا ہم عصر سرکاری ریکارڈ پیش نہیں کرتا۔ یوں یہ جھوٹ بھی ثابت شدہ ہے۔ بھارت کہتا ہے کہ آپریشن سندور نے پہلگام کے ذمے داروں کو ختم کر دیا۔ بھارت نے بعد میں کہا کہ اصل حملہ آور 28 جولائی کو آپریشن مہادیو کے تحت مارے گئے۔ کیا براہ راست ملوث افراد آپریشن سندور کے بیاسی دن بعد تک زندہ رہے۔ یوں سارا جھوٹ سامنے آجاتا ہے۔ بھارت اب بھی 7 مئی کو حملہ کی گئی کسی بھی جگہ پر پہلگام کے کسی براہ راست ملوث شخص کی موجودگی ثابت نہیں کر سکا۔

 یہ دستاویزی فلم صرف بھارت نے اپنی ناکامی کے تاثر کو زائل کرنے کے لیے بنائی ہے ۔بھارت کا ہمیشہ یہ طریقہ رہا ہے کہ فرضی قصے کہانیوں پر فلمیں بناتا ہے لیکن اس بار عالمی دنیا تمام حقائق سے باخبر ہے۔

Load Next Story