چھوٹے دکانداروں کیلیے ٹیکس اسکیم کا اجرا؛ تاجروں کو ہراساں نہیں کیا جائیگا، وزیر خزانہ

تاجروں کی خواہش تھی کہ ٹیکس اسکیم کو آسان اور سادہ بنایا جائے، مشاورت سے آگے بڑھ رہے ہیں، محمد اورنگزیب

اسلام آباد:

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے چھوٹے دکانداروں کے لیے ٹیکس اسکیم کا اجرا کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاجروں کو ہراساں نہیں کیا جائے گا۔

وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے چھوٹے دکانداروں کے لیے خصوصی ٹیکس اسکیم کا اجرا کردیا۔ اس موقع پرانجمن تاجراں کے نمائندے بھی پریس کانفرنس میں  موجود تھے۔

پریس کانفرنس  سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ تاجروں کی مشاورت سے مل کر آگے بڑھ رہے ہیں ۔ ہم پہلے بھی کئی مواقع استعمال کر چکے ہیں ۔ یہ تاجروں کی ایک دیرینہ خواہش رہی ہے کہ ٹیکس اسکیم کو آسان اور سادہ بنایا جائے ۔ میں اس اسکیم کے بارے میں پر امید ہوں ۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر  اور پرال کی کوشش رہی ہے کہ چھوٹے دکانداروں  کے لیے آسانی پیدا ہو ۔ تاجروں کو یقین دہانی ہو کہ انہیں ہراساں نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بھی طبقہ ٹیکس نظام میں نہ آئے تو وہ نظام نہیں چل سکتے ۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس ریٹرن فارم ایک ایم بی اے پڑھا لکھا نہیں فائل کر سکتا۔  یہ فائل 6,8 صفحے سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔ تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس ریٹرن فارم سادہ کیا جائے گا۔ سیلز ٹیکس کی چوری کریمنل ہے۔ سیلز ٹیکس وصول کرنے کے بعد آگے قومی خزانے  میں جمع نہیں ہوتا ۔ سیلز ٹیکس کی چوری بڑے پیمانے پر ہورہی ہے ۔

اس موقع پر وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے  کہا کہ چھوٹے دکاندار موبائل فون ایپ کے ذریعے ٹیکس ریٹرن فائل کر سکتے ہیں۔ موبائل فون کے ذریعے ٹیکس ادا کیا جا سکتا ہے ۔ اس اسکیم کے ذریعے پوائنٹ آف سیلز سے استثنیٰ دیا جائے گا ۔ چھوٹے تاجروں کو گرین پلیٹ جاری کی جائے گی ۔

انہوں نے بتایا کہ جس دکان پر گرین پلیٹ آویزاں ہوگی، وہاں ایف بی آر افسر داخل نہیں ہوگا ۔ چھوٹے دکانداروں کو 25 ہزار روپے کم از کم ادا کرنے ہوں گے ۔ گزشتہ 3 سالوں میں کسی بھی سال میں 20 کروڑ سے زیادہ کی سیل نہ ہو ۔

بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ ایپ اور اسکیم،  تاجروں سے مشاورت اور رہنمائی کےس اتھ بنائی گئی ہے۔ اسکیم کا اعلان بجٹ سے پہلے کیا گیا تھا اس وقت سے اب تک اسکیم پر کام کیا گیا ہے۔ ماضی کی اسکیموں کی ناکامی کو دیکھ کر یہ اسکیم بنائی گئی ہے۔ اس ایپ کو با آسانی ڈاؤنلوڈ کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 25 ہزار کم سے کم ہر دکاندار کو ادا کرنا ہوں گے۔ اس ایپ کے بعد پوائنٹ آف سیل کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ستمبر میں اردو کے علاوہ دیگر زبانوں میں بھی ایپ آجائے گی۔ ضلع اور بازار کو اس میں شامل کیا جائے گا۔ آئندہ مختلف چیمبرز کو بھی مشاورت میں شامل کیا جائے گا۔ ٹیکس جمع کرانے کے بعد ایک پلیٹ ہر دکاندار اپنی دکان پر لگا سکے گا۔

صدر پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ 2001ء سے کہتے آرہے ہیں کہ تاجروں کے لیے آسان اسکیمیں لائیں۔ بہت سے تاجر زیادہ پڑھے لکھے نہیں، ان کے لیے اس طرح کی اسکیم اہم ہے۔ ہماری سنی بات گئی ہے اور یہ اسکیم لائی گئی ہے۔ اس اسکیم کو اب بند نہیں کرنا چاہیے۔ ڈیڑھ کروڑ تاجر ملک میں موجود ہیں۔ ہر تاجر پیسے دینے کے لیے تیار ہے۔ 3 ماہ کی مشاورت کے بعد اسکیم آئی ہے۔ میں ہمیشہ ایف بی آر کے دروازے پر ہوتا ہوں، آج اسکیم کی بدولت اندر بیٹھا ہوا ہوں۔

چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ٹیکس جمع کرانے کے لیے 2 اہم مسائل تھے۔ ایک کہ تاجروں کو فارم فل کرنا نہیں آتے تھے اور دوسرا ڈر تھا کہ فارم فل کرنے کے بعد کیا سلوک روا رکھا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایپ صرف 8 یا 10 کلک میں ٹیکس فائل کردے گی۔ ایف بی آر کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جس دکان پر یہ ٹیکس فائل کرنے کی پلیٹ ہوگی وہاں ایف بی آر کے اہلکار نہیں جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے مختلف ڈسکوز سے کمرشل ڈیٹا لیا ہے۔ کتنا ٹیکس اکٹھا ہوسکے گا اس پر ابھی کہنا قبل از وقت ہے۔ ہمارے اندازے میں اربوں روپے ٹیکس نیٹ میں آجائیں گے۔ تاجروں کو اس اسکیم میں آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ پیسوں کو نہ دیکھیں ٹیکس نیٹ میں سب آرہے ہیں۔ تاجروں پر الزام تھا کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے وہ اب نہیں رہے گا۔

Load Next Story