کھٹملوں سے چھٹکارا کیسے پائیں؟ چند آسان گھریلو طریقے آزمائیں

گر گھر میں ایک یا دو کھٹمل بھی پہنچ جائیں تو مناسب تدارک نہ ہونے کی صورت میں ان کی تعداد تیزی سے بڑھ سکتی ہے

بستر، صوفوں اور کپڑوں میں چھپے کھٹمل نہ صرف نیند خراب کرتے ہیں بلکہ ان کے کاٹنے سے جلد پر سرخ نشان اور شدید خارش بھی ہوسکتی ہے۔ چند آسان گھریلو طریقوں سے ان کی موجودگی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

کھٹمل انتہائی چھوٹے کیڑے ہیں جو عموماً دن کے وقت روشنی سے بچنے کے لیے چھپے رہتے ہیں اور رات ہوتے ہی متحرک ہوکر انسانوں کو کاٹتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر گھر میں ایک یا دو کھٹمل بھی پہنچ جائیں تو مناسب تدارک نہ ہونے کی صورت میں ان کی تعداد تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔

کھٹملوں کے خاتمے کے لیے بازار میں مختلف اقسام کے اسپرے دستیاب ہیں، لیکن بہت سے لوگ گھریلو طریقوں کو بھی آزمانا پسند کرتے ہیں۔ چند ایسے ہی طریقے درج ذیل ہیں۔

ہیئر ڈرائر کی گرم ہوا سے مدد لیں

کھٹملوں کی موجودگی والی جگہوں پر ہیئر ڈرائر کی گرم ہوا پہنچانا ان سے نمٹنے کا ایک آسان طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ ہیئر ڈرائر کو ان جگہوں پر چلایا جاسکتا ہے جہاں کھٹمل یا ان کے انڈے چھپے ہونے کا امکان ہو۔

گرمی کھٹملوں اور ان کے انڈوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے، تاہم اس طریقے میں احتیاط ضروری ہے اور آتش گیر اشیا کے قریب ہیئر ڈرائر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

پودینے کی خوشبو بھی آزمائیں

پودینے کی تیز خوشبو کو کھٹملوں کے لیے ناپسندیدہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے تازہ پودینے کے پتے بستر، صوفے یا کپڑوں کے قریب رکھے جاسکتے ہیں۔

یہ طریقہ کھٹملوں کو لازماً ختم نہیں کرتا، تاہم دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پودینے کی خوشبو والی جگہوں سے یہ کیڑے دور رہتے ہیں۔

گرم پانی سے کپڑے اور بستر دھوئیں

چادروں، تکیوں کے غلاف اور دیگر ایسے کپڑے جن میں کھٹمل چھپ سکتے ہیں، انہیں گرم پانی سے دھونا بھی ان سے نمٹنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔ زیادہ درجہ حرارت کھٹملوں کو ختم کرنے میں مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔

اس لیے متاثرہ کپڑوں کو مناسب گرم پانی میں دھونے اور پھر اچھی طرح خشک کرنے سے کھٹملوں اور ان کے انڈوں کی تعداد کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

بیکنگ سوڈا کا استعمال

کھٹملوں کی موجودگی والی جگہوں پر بیکنگ سوڈا چھڑکنے کا گھریلو طریقہ بھی عام طور پر تجویز کیا جاتا ہے۔ اس طریقے کے تحت بیکنگ سوڈا متاثرہ مقامات پر ڈال کر باقاعدگی سے صفائی کی جاتی ہے۔

ایک تجویز کے مطابق یہ عمل روزانہ دہرایا جائے اور تقریباً ایک ہفتے بعد ان جگہوں کو ویکیوم کلینر سے اچھی طرح صاف کیا جائے تاکہ وہاں موجود کھٹمل یا دیگر ذرات نکالے جاسکیں۔

البتہ اگر کھٹمل بڑی تعداد میں پھیل چکے ہوں تو صرف گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار کرنے کے بجائے ماہر کیڑوں کے خاتمے کی سروس سے رجوع کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔

Load Next Story