کراچی: میر رضا کے قاتلوں کی گرفتاری اور انصاف کیلیے گلہبار میں تاجروں کا احتجاج
کراچی کے نوجوان میر رضا کے مبینہ قتل کے خلاف گلہبار تاجر اتحاد کے تحت بدھ کو گلبہار کی مرکزی شاہراہ پر سینٹری اینڈ ٹائلز مارکیٹ کے تاجروں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرے کے باعث میں ٹریفک جام ہوگیا جس سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اس احتجاج میں میر رضا کے والد نے شرکت کی۔ دکانداروں اور تاجروں نے انصاف کی فراہمی اور قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے میر رضا کے والد میر حسین علی نے کہا کہ ہمیں انصاف کی امید نہیں لگ رہی۔ وزیراعظم سے اپیل ہے کہ ہمیں انصاف دلائیں۔ آج 22 روز گزر چکے ہیں مگر انصاف نہیں ملا۔ انہوں نے حکومت کو 5 سے 6 دن کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا کہ اگر پانچ چھ روز میں کوئی واضح سمت نظر نہ آئی تو ہم فیصلہ کرنے والے ہیں۔
سوچا جائے کہ اگر طلبہ اور تاجر ایک ہوگئے تو احتجاج کہاں جائے گا۔میر حسین علی نے کہا کہ ہم نے نئی تفتیشی ٹیم کے سامنے سوالات رکھے ہیں۔ ہمیں بتایا جائے کہ میر رضا کیس میں رکشہ کا کیا کردار ہے۔ کیس کو صحیح کرنے کے بجائے کسی کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ پولیس کا اتنا بڑا سسٹم تباہ ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ تعزیت کے لیے تک نہیں آئے۔ اگر میر رضا کا کیس حل نہ ہوا تو احتجاج کے ذریعے پورے شہر اور ملک تک بٹھا دیں گے۔ صدر گلبہار تاجر اتحاد فرقان شیخ نے کہا کہ پوری تاجر برادری میر رضا کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے۔
میر حسین تنہا نہیں ہیں، ہم ان کے ساتھ شانہ بشانہ ہیں۔ جب تک میر رضا کے قاتل کیفر کردار تک نہیں پہنچتے تاجر برادری انکے ساتھ کھڑی رہے گی۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ کیس کی شفاف تحقیقات کر کے ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔احتجاج کے پرامن اختتام پر ٹریفک کی روانی بحال ہوگئی۔