وہ آوازیں جو خاموش ہونے سے پہلے محفوظ ہونی چاہئیں
کچھ سفر منزل پر پہنچ کر ختم نہیں ہوتے۔ مسافر ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچ جاتا ہے، مگر راستے میں چھوٹ جانے والے گھر، گلیاں، چہرے اور آوازیں عمر بھر اس کے ساتھ سفر کرتی رہتی ہیں۔ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان آنے والے لاکھوں لوگوں کا سفر بھی ایسا ہی تھا۔ کسی نے ٹرین پکڑی، کسی نے ٹرک پر جگہ بنائی، کوئی پیدل قافلے کے ساتھ چل پڑا، مگر ہر شخص اپنے ساتھ ایک ایسی داستان لے کر آیا جس کا ایک سرا ماضی میں اور دوسرا اس کی باقی ماندہ زندگی میں بندھا رہا۔
آج پاکستان کے قیام کو 79 برس گزر چکے ہیں۔ اس سفر کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے والی نسل تیزی سے رخصت ہو رہی ہے۔ لاہور میں مقیم 91 سالہ مقصوداں بیگم اور 90 سالہ رئیسہ بیگم اسی نسل کی دو زندہ کڑیاں ہیں۔ ایک کا تعلق امرتسر کے قریب ڈیرہ دون سے ہے اور دوسری دہلی سے پاکستان آئیں۔ عمر کی کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود 1947 ان کے لیے محض تاریخ کا ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایسا ماضی ہے جو یاد آنے پر آج بھی حال میں اتر آتا ہے۔
مقصوداں بیگم کو وہ وقت یاد ہے جب تقسیم کے اعلان کے بعد حالات تیزی سے بدلنے لگے۔ جو لوگ برسوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہ رہے تھے، ان کے درمیان خوف اور بے یقینی نے جگہ بنالی۔ رئیسہ بیگم کے حافظے میں ہجرت کے قافلوں، راستوں کے خطرات اور اپنے گھر بار چھوڑنے والے خاندانوں کی تصویریں محفوظ ہیں۔
ان خاندانوں کے لیے ہجرت کسی نقشے پر کھینچی گئی سرحد عبور کرنے کا نام نہیں تھا۔ یہ گھر چھوڑنے، رشتے بچھڑنے، سامان سمیٹنے اور نامعلوم مستقبل کی طرف روانہ ہونے کا فیصلہ تھا۔ ٹرک اور ٹرینیں سفر کا ذریعہ بنیں، مگر بہت سے لوگوں کے لیے یہ سفر خوف، بھوک، پیاس، جدائی اور موت کے مناظر سے گزرا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں 1947 کی تاریخ کتاب کے صفحات سے نکل کر انسانی چہروں میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
پاکستان میں تقسیم ہند اور تحریک پاکستان پر بہت کچھ لکھا گیا۔ سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور اہم شخصیات کی جدوجہد کتابوں، اخبارات اور دستاویزی پروگراموں کا حصہ بنی۔ مگر ایک سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے، ان لاکھوں عام لوگوں کی کہانیاں کہاں ہیں جو اس تاریخ کے براہ راست متاثرین یا عینی شاہد تھے؟
ایک بچہ جو اپنے والدین کے ساتھ ٹرین میں بیٹھا تھا، ایک خاتون جو اپنے گھر کی چابی ساتھ لے کر نکلی، ایک خاندان جو ٹرک میں اپنی مختصر جمع پونجی کے ساتھ پاکستان کی طرف روانہ ہوا یا وہ بزرگ جس نے اپنے آبائی شہر کو آخری مرتبہ دیکھا، یہ سب بھی 1947 کی تاریخ کے کردار تھے۔ان کے پاس کوئی سیاسی عہدہ نہیں تھا، مگر ان کی یادداشتوں میں اس دور کی وہ تفصیل موجود ہے جو سرکاری دستاویزات میں ہمیشہ نہیں مل سکتی۔
اسی کو دنیا میںاورل ہسٹری یعنی زبانی تاریخ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جو کسی مورخ کی کتاب سے نہیں بلکہ اس شخص کی زبان سے سامنے آتی ہے جس نے واقعہ خود دیکھا یا اس کے اثرات اپنی زندگی پر محسوس کیے۔
نجی کالج کے پروفیسر، محقق اور آرکائیوز جریدے کے ایڈیٹر نعیم مرتضیٰ کے مطابق نوجوان نسل کی تاریخی واقعات میں دلچسپی ختم نہیں ہوئی، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان تک یہ کہانیاں پہنچانے کا نظام کمزور پڑ گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب خاندانی سطح، تعلیمی اداروں اور میڈیا پر ان واقعات کو منظم انداز میں پیش نہیں کیا جائے گا تو نئی نسل کے پاس ان تک رسائی کے ذرائع محدود ہوتے جائیں گے۔ یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ نوجوان تاریخ سننا چاہتے ہیں یا نہیں؛ سوال یہ بھی ہے کہ ہم انہیں تاریخ کس انداز میں سنا رہے ہیں۔
ریشنل ڈائیلاگ فورم کے سربراہ عمیر اکبر کے نزدیک جدید زندگی کی تیز رفتاری، سوشل میڈیا، معاشی مسائل اور بدلتی ترجیحات نے نوجوانوں کی توجہ کے کئی رخ تبدیل کیے ہیں۔ ان کے مطابق اگر نوجوان نسل کو یہ احساس نہ دلایا جائے کہ 1947 کی کہانی صرف ماضی کا ایک واقعہ نہیں بلکہ ان کی اپنی شناخت اور موجودہ زندگی سے بھی جڑی ہوئی ہے تو وہ اس سے فطری طور پر دور ہوتی جائے گی۔
گورنمنٹ کالج لاہور کے استاد سردار کلیان سنگھ کلیان اس معاملے کو نصاب سے جوڑتے ہیں۔ ان کے مطابق تحریک آزادی اور تقسیم کے واقعات کو زیادہ تر تاریخوں، واقعات اور خشک حقائق کے انداز میں پڑھایا جاتا ہے، جبکہ انسانی جذبات، ذاتی تجربات اور عینی شاہدین کی زبانی روایات کو خاطر خواہ جگہ نہیں ملتی۔ نتیجتاً تاریخ طلبہ کے لیے ایک ایسا مضمون بن جاتی ہے جسے امتحان کے لیے یاد کیا جاتا ہے، زندگی سے جوڑ کر سمجھنے کے لیے نہیں۔
اگر ایک طالب علم کو بتایا جائے کہ 14 اگست 1947 کو پاکستان وجود میں آیا تو وہ ایک تاریخی حقیقت جانتا ہے۔ لیکن جب اسی طالب علم کے سامنے ایک ایسی بزرگ خاتون بیٹھے جو بتائے کہ اس نے اپنا گھر چھوڑا، سفر کیا، خوف دیکھا اور ایک نئے ملک میں زندگی دوبارہ شروع کی تو وہی تاریخ انسانی تجربے میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ اعداد اور تاریخیں معلومات فراہم کرتی ہیں، مگر انسانی آوازیں احساس پیدا کرتی ہیں۔
پاکستان کے تاریخی ورثے میں عجائب گھروں اور آرکائیوز کی اہمیت اسی لیے بنیادی ہے کہ یہ ادارے ماضی کو موجودہ نسل کے سامنے محفوظ شکل میں رکھتے ہیں۔ لاہور کے تاریخی ورثے کے حوالے سے کام کرنے والے فقیرخانہ میوزیم کے سربراہ فقیر سیف الدین کہتے ہیں کہ تاریخی ورثے کی حفاظت صرف عمارتوں، اشیا اور دستاویزات تک محدود نہیں ہونی چاہیے، زندہ یادداشتیں بھی کسی معاشرے کا قیمتی تاریخی سرمایہ ہوتی ہیں۔
والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور محقق طلحہ شفیق کے مطابق یہ کہانیاں محض ماضی کے واقعات نہیں بلکہ قومی شناخت کی بنیاد کا حصہ ہیں۔ آزادی کیسے حاصل ہوئی، کن قربانیوں کے بعد ملک وجود میں آیا اور عام لوگوں نے اس عمل میں کیا کھویا اور کیا پایا، یہ سب جاننا نئی نسل کے لیے ضروری ہے۔
طلحہ شفیق کے مطابق زبانی تاریخ کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ بزرگ جب اپنی آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہیں تو وہ صرف واقعات نہیں بتاتے بلکہ خوف، امید، جدائی اور انسانی تجربے کی وہ تفصیل بھی سامنے آتی ہے جو کتابوں میں ہمیشہ موجود نہیں ہوتی۔ اسی لیے زبانی تاریخ کو تعلیمی عمل میں بھی جگہ ملنی چاہیے۔
ماہرین کے مطابق عینی شاہد کی یادداشت کو مکمل اور حتمی تاریخی حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ وقت کے ساتھ انسانی حافظہ بعض تفصیلات کو بدل سکتا ہے، واقعات کی ترتیب متاثر ہوسکتی ہے اور ایک فرد کا تجربہ پورے معاشرے کی نمائندگی نہیں کرتا۔ لیکن یہی بات ان یادوں کی اہمیت کم نہیں کرتی۔ مختلف افراد کی یادداشتوں کو سرکاری ریکارڈ، اخباری مواد، خطوط، تصاویر اور دیگر تاریخی دستاویزات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو ماضی کی کہیں زیادہ مکمل تصویر سامنے آسکتی ہے۔
تقسیم کے وقت جو بچے تھے، آج ان کی عمریں کم از کم 79 برس ہیں۔ جو اس وقت نوجوان یا بالغ تھے، ان میں سے بیشتر 90 برس سے تجاوز کرچکے ہیں۔ اس کا مطلب صاف ہے، وقت بہت کم ہے۔ ایک بزرگ کے انتقال کے ساتھ صرف ایک فرد دنیا سے رخصت نہیں ہوتا، اس کے حافظے میں محفوظ مقامی تاریخ کا ایک حصہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔ کون بتائے گا کہ کسی خاندان نے کس راستے سے ہجرت کی؟ کس اسٹیشن پر ٹرین رکی؟ کس جگہ لوگوں کا ہجوم تھا؟ گھر چھوڑتے وقت کون سی چیز ساتھ لی گئی اور کون سی ہمیشہ کے لیے پیچھے رہ گئی؟ پاکستان پہنچنے کے بعد پہلی رات کہاں گزری؟ نئے ملک میں زندگی دوبارہ شروع کرنے کا پہلا احساس کیا تھا؟
ان سوالات کے جوابات شاید سرکاری فائلوں میں نہ ہوں۔ یہ جواب ان بزرگوں کے پاس ہیں۔ عمیراکبرکہتے ہیں پاکستان میں 1947 کے عینی شاہدین کی ایک باقاعدہ قومی اورل ہسٹری آرکائیو قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ بزرگ شہریوں کے ویڈیو انٹرویوز ریکارڈ کیے جائیں، ان کے آبائی علاقوں، ہجرت کے راستوں، خاندانوں، سفر، پاکستان پہنچنے کے ابتدائی تجربات اور بعد کی زندگی کو دستاویزی شکل دی جائے۔
یہ کام صرف لاہور، کراچی یا اسلام آباد تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ چھوٹے شہروں اور دیہات میں رہنے والے بزرگوں تک بھی پہنچنا ہوگا۔ ان کی کہانیاں اردو کے ساتھ پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی اور دیگر مقامی زبانوں میں محفوظ کی جاسکتی ہیں اور بعد میں ان کے تراجم بھی کیے جاسکتے ہیں۔
ایک شخص کی کہانی شاید ایک خاندان کی کہانی ہو، مگر ہزاروں کہانیاں مل کر قومی تاریخ کا ایسا باب بن سکتی ہیں جو کتابوں سے کہیں زیادہ وسیع اور انسانی ہوگا۔ لاہور میں فقیرخانہ میوزیم کے سربراہ اورہسٹورین فقیرسیف الدین کہتے ہیں تقسیم کی یادداشتوں کو محفوظ کرنے کا مقصد ماضی کے زخم تازہ کرنا یا نئی نسل میں کسی قوم، مذہب یا گروہ کے خلاف نفرت پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے برعکس، تاریخ کو سمجھنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ معاشرے بڑے سیاسی فیصلوں کے انسانی اثرات کو سمجھ سکیں۔ 1947 ہمیں بتاتا ہے کہ سرحدیں صرف نقشے پر نہیں بنتیں، ان کے اثرات انسانوں کی زندگی، خاندانوں، گھروں اور یادوں تک پہنچتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ آزادی صرف ایک سیاسی اعلان نہیں تھی۔ اس کے ساتھ لوگوں کی امیدیں، خوف، قربانیاں، ہجرتیں اور نئے مستقبل کے خواب بھی جڑے تھے۔ پاکستان آنے والوں نے یہاں دوبارہ زندگی شروع کی۔ کسی نے دکان بنائی، کسی نے ملازمت اختیار کی، کسی نے زمین آباد کی اور کسی نے اپنے بچوں کی تعلیم کو اپنی ترجیح بنایا۔ یہ سب بھی پاکستان کے قیام کی تاریخ کا حصہ ہے۔
مقصوداں بیگم اور رئیسہ بیگم آج صرف دو بزرگ خواتین نہیں۔ وہ اس نسل کی نمائندہ آوازیں ہیں جس نے تقسیم کو کتاب میں نہیں پڑھا بلکہ اپنی زندگی میں دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں محفوظ ماضی ایک ایسے دور سے جڑتا ہے جو اب زندہ یادداشت سے زیادہ کتابوں اور دستاویزات میں باقی رہ گیا ہے۔ ان کے بعد کون بتائے گا کہ دہلی سے لاہور کا سفر کیسا تھا؟ کون بتائے گا کہ ٹرک میں بیٹھے خاندان کیا سوچ رہے تھے؟ کون بتائے گا کہ ریلوے اسٹیشن پر کھڑے ایک بچے کو اس ہجوم میں کیا دکھائی دیتا تھا؟ کون بتائے گا کہ گھر چھوڑتے ہوئے لوگوں نے اپنے ساتھ کیا رکھا اور کیا ہمیشہ کے لیے پیچھے چھوڑ دیا؟ یہ سوال صرف دو خواتین کے بارے میں نہیں۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں آج بھی ایسے بزرگ موجود ہوسکتے ہیں جن کے پاس 1947 کی اپنی ایک کہانی ہے۔ لیکن یہ کہانیاں ہمیشہ موجود نہیں رہیں گی۔ ہر سال کچھ عینی شاہدین دنیا سے رخصت ہورہے ہیں اور ان کے ساتھ ان کے حافظے میں محفوظ تاریخ کا ایک حصہ بھی خاموش ہوجاتا ہے۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ نئی نسل 1947 کی کہانیاں سننا چاہتی ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے وہ کہانیاں نئی نسل تک پہنچانے کی کوشش کی ہے؟ اگر آج مقصوداں بیگم اور رئیسہ بیگم جیسی بزرگوں کی آوازیں، چہرے، یادیں اور تجربات محفوظ کرلیے جائیں تو آنے والی نسلیں 1947 کو صرف کیلنڈر کی ایک تاریخ کے طور پر نہیں بلکہ انسانوں کی زندگیوں سے جڑے ایک بڑے تاریخی واقعے کے طور پر سمجھ سکیں گی۔
نعیم مرتضی کہتے ہیں اگر یہ کام نہ کیا گیا تو ممکن ہے چند برس بعد پاکستان کے قیام کی تاریخ تو ہمارے پاس موجود ہو، مگر اس تاریخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے والوں کی آوازیں نہ ہوں۔ تب ہمارے پاس کتابوں کے صفحات تو ہوں گے، مگر وہ آوازیں نہیں ہوں گی جو بتا سکتی تھیں کہ تاریخ لکھی کیسے گئی نہیں، جیتی کیسے گئی تھی۔
نعیم مرتضی نے بتایا پنجاب میں 1947 کی تقسیم ہند کے عینی شاہدین کی زبانی تاریخ محفوظ کرنے کے لیے مختلف اداروں اور تحقیقی تنظیموں کی جانب سے کام کیا گیا ہے، تاہم یہ کوششیں اب تک کسی ایک جامع سرکاری قومی آرکائیو کی شکل اختیار نہیں کرسکیں۔ دی 1947 پارٹیشن آرکائیو تقسیم کے عینی شاہدین کے ویڈیو انٹرویوز محفوظ کرنے کے حوالے سے نمایاں منصوبوں میں شامل ہے، جس کے مطابق ہزاروں افراد کی زبانی یادداشتیں مختلف شہروں اور دیہات سے ریکارڈ کی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے بھی دو اضلاع میں تقسیم سے متعلق کہانیوں اور زبانی تاریخ کو دستاویزی شکل دینے کا منصوبہ شروع کیا گیا، جس کا مقصد 1947 کے دوران لوگوں کے تجربات محفوظ کرنا تھا۔ اسی طرح سٹیزنز آرکائیو آف پاکستان نے بھی تقسیم اور پاکستان کی ابتدائی تاریخ سے متعلق زبانی تاریخ اور تاریخی مواد محفوظ کرنے پر کام کیا ہے، جبکہ نارووال سے متعلق اس کے منصوبے میں مقامی تاریخ، 1947 کی تقسیم اور پاکستان کے قیام سے جڑی یادداشتیں جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
نظریہ پاکستان ٹرسٹ نے بھی تحریک پاکستان اور قیام پاکستان سے متعلق تاریخی دستاویزات، تصاویر، شخصیات کے انٹرویوز اور دیگر مواد محفوظ اور شائع کرنے کا کام کیا ہے، تاہم دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ٹرسٹ نے 1947 کے عینی شاہدین کی زبانی تاریخ کے لیے الگ اور جامع اورل ہسٹری آرکائیو قائم کیا ہے۔ ٹرسٹ کے پاس تقسیم اور ہجرت سے متعلق تاریخی مواد ضرور موجود ہے، جس میں 1947 کے مہاجرین سے متعلق نایاب دستاویزات بھی شامل ہیں۔
عمیراکبر کہتے ہیں زبانی تاریخ اور روایتی آرکائیول مواد میں فرق ہے، سرکاری ریکارڈ، تصاویر، خطوط اور اخباری تراشے ایک طرف، جبکہ کسی عینی شاہد کی اپنی آواز میں ہجرت، گھر چھوڑنے، سفر اور پاکستان پہنچنے کے تجربات دوسری جانب ایک الگ نوعیت کا تاریخی سرمایہ ہیں۔