ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان کے ٹورنامنٹ سے باہر ہو جانے پر سابق اولمپینز دکھ اور کرب سے چلا اٹھے
Hockey
بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستان کے عالمی کپ ہاکی ٹورنامنٹ سے باہرہو جانے پر سابق اولمپینز دکھ اور کرب سے چلا اٹھے، مایوس کن کارکردگی پر ناامیدی کا اظہار کر دیا۔
اپنے دور کے معروف دفاعی کھلاڑی اولمپین منظور الحسن نے جاری عالمی ہاکی کپ کے گروپ ڈی کے تیسرے اور آخری میچ میں پاکستان کی بھارت کے ہاتھوں 3-5 سے شکست کو انتہائی تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی کپ سے اخراج پر ہر پاکستانی کو افسوس اور دکھ ہے۔
پاکستان ہاکی ٹیم کے لیے اپنی اہلیت ثابت کرنے کا اچھا موقع ضائع کر دیا گیا، غلط فیصلوں کی وجہ سے ایسے نتائج کا سامنا رہے گا،ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جا رہا ہے۔
مونٹریال اولمپکس 1976کی برانز میڈلسٹ پاکستان ٹیم کے رکن اور پاکستان کے سابق کوچ اولمپین منظور الحسن نے کہا کہ بھارت کے خلاف پاکستان نے اچھا مقابلہ کیا لیکن دونوں ٹیموں کی جانب سے میچ میں مسنگ نظر آئی تاہم پاکستانی کھلاڑی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے،دوران مقابلہ ان کی ٹریننگ کہیں بھی نظر نہیں آئی۔
ایشین گیمز 1978 میں گولڈ میڈل جیتنے والی پاکستان ٹیم کے رکن اولمپین74 سالہ منظور الحسن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہاکی کا ٹیلنٹ ہنوز موجود ہے لیکن اس کو درست سمت میں استعمال نہیں کیا جا رہا، اگر ایمانداری سے ہونہار کھلاڑیوں کو مواقع دیے جائیں اور مربوط انداز میں منصوبہ بندی کرکے درست کوچنگ کا اہتمام کیا جائے تو پاکستان ہاکی کی بحالی ممکن ہے۔
دو مرتبہ اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے افتخار سید نے کہا کہ پاکستان میں ہاکی کے نظام کا نہ ہونا ناکامی کی اصل وجہ ہے،پی ایچ ایف میں کوئی اسٹرکچر موجود نہیں،کھلاڑیوں میں ٹیمپرامنٹ کی کمی ہے۔
1972 میں اولمپک مقابلوں میں سلور اور 1976 میں برانز میڈل میڈل جیتنے والی پاکستان ہاکی ٹیم کے رکن اولمپین افتخار سید کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان ہاکی کا مستقبل مایوس کن ہے،ہاکی کو زندہ رکھنے کے لیے کلب کی سطح پر ہاکی کو فروغ دینا ہوگا،نچلی سطح پر مقابلوں کا انعقاد ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈیپارٹمنٹل سطح پر ہاکی کو بحال کر کے کھلاڑیوں کو معاشی تحفظ دیا جائے، کھلاڑیوں کو ملنے والے اعمتماد سے ان کی کارکردگی پر مثبت اثرات کی بدولت قومی ہاکی کی بقا ممکن ہے۔