امریکی صدر پر جوتے پھینکنے والے عراقی صحافی کو 18 سال بعد بھی کوئی پچھتاوا نہیں؛ ویڈیو
سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش پر پریس کانفرنس کے دوران جوتے پھینک کر دنیا بھر میں شہرت حاصل کرنے والے عراقی صحافی منتظر الزیدی نے برسوں گزرنے کے باوجود اپنے اقدام پر افسوس نہ کرنے کا اظہار کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ 14 دسمبر 2008 کو بغداد میں پیش آیا تھا جب اُس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش اور عراقی وزیراعظم نوری المالکی مشترکہ پریس کانفرنس کر رہے تھے۔
اس دوران صحافی منتظر الزیدی نے اچانک اپنے دونوں جوتے یکے بعد دیگرے امریکی صدر بش کی جانب اچھال دیے تھے اور سابق امریکی صدر بش دونوں مرتبہ جھک کر بچ گئے تھے۔
الزیدی نے پہلا جوتا پھینکتے ہوئے بش کو عراق کے عوام کی جانب سے الوداعی پیغام قرار دیا جبکہ دوسرے جوتے کو عراقی جنگ میں ہلاک ہونے والوں، بیواؤں اور یتیموں کی جانب منسوب کیا تھا۔
یہ واقعہ چند ہی لمحوں میں عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا تھا اور بعد ازاں اسے عراق جنگ کے خلاف احتجاج کی ایک علامتی تصویر کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔
واقعے کے فوراً بعد عراقی سیکیورٹی اہلکاروں نے الزیدی کو حراست میں لے لیا۔ ان کے اہل خانہ نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ گرفتاری کے دوران انھیں مارا پیٹا گیا، سر پر رائفل کے بٹ سے ضرب لگی اور بازو بھی زخمی ہوا تھا۔
I am still fighting the corrupt officials brought in by George Bush to rule Iraq, and my daily life is still threatened because of my defense of my people's rights. https://t.co/MdYGC9z3fS
— Muntadhar al-Zaidi (@muntazer_zaidi) August 18, 2026
مارچ 2009 میں عراقی عدالت نے صحافی کو امریکی صدر پر جوتے سے حملے کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی تاہم بعد میں سزا کم کردی گئی اور وہ تقریباً نو ماہ قید میں رہنے کے بعد ستمبر 2009 میں رہا ہوگئے۔
رہائی کے بعد منتظر الزیدی عارضی طور پر لبنان منتقل ہوگئے تھے تاہم بعد میں عراق واپس آکر سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔ 2018 میں انھوں نے عراقی پارلیمنٹ کی نشست کے لیے انتخاب بھی لڑا لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔
حال ہی میں ریڈیولیب کی ایک تفصیلی رپورٹ نے بھی منتظر الزیدی کی زندگی اور اس واقعے کے اثرات کو دوبارہ موضوع بنایا۔