فلم ’کالا ہرن‘ تنازع: سلمان خان سے متعلق ہائیکورٹ کا حکم سپریم کورٹ میں چیلنج
فلم ’کالا ہرن‘ کے پروڈیوسر امیت جانی نے دہلی ہائیکورٹ کے اس عبوری حکم کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا ہے، جس میں فلم کا ٹیزر اور دیگر تشہیری مواد ہٹانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ فلم پر الزام ہے کہ اس میں سلمان خان کی شخصیت اور زیرِ التوا کالے ہرن کے شکار کے مقدمے کو بنیاد بنا کر ان کے شخصی حقوق متاثر کیے گئے ہیں۔
دہلی ہائیکورٹ نے 27 جولائی کو عبوری حکم جاری کرتے ہوئے فلم سازوں کو ٹیزر سمیت متعلقہ تشہیری مواد فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے ابتدائی طور پر قرار دیا تھا کہ مواد میں سلمان خان کے شخصی حقوق کی خلاف ورزی کے شواہد نظر آتے ہیں اور اس سے اداکار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
اب پروڈیوسر امیت جانی نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹیزر پر پابندی لگاتے وقت عدالت نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس میں ایسا کون سا مخصوص مواد موجود ہے جو سلمان خان کی شخصیت کے غیر قانونی یا تجارتی استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔
پروڈیوسر کا مؤقف کیا ہے؟
امیت جانی کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ معاملہ محض ایک فلم کے ٹیزر تک محدود نہیں بلکہ اس میں آئینی اہمیت کا وسیع تر سوال بھی شامل ہے۔ پروڈیوسر کے مطابق اگر سلمان خان کے مؤقف کو قانونی طور پر ناقابلِ اعتراض تصور کرلیا گیا تو شخصی حقوق کو نجی سنسر شپ کے ذریعے تخلیقی اظہار روکنے کے لیے استعمال کیے جانے کا راستہ کھل سکتا ہے۔
درخواست میں مزید مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اگر فلم سازوں کو شخصی حقوق کی بنیاد پر ایسے واقعات کی فنکارانہ عکاسی سے روکا گیا جو پہلے ہی عوامی معلومات اور مفاد کا حصہ ہیں تو اس کے اثرات آزاد فلم سازی، صحافت اور واقعات کی تخلیقی منظرکشی پر پڑ سکتے ہیں۔
ٹیزر میں کیا دکھایا گیا تھا؟
’کالا ہرن‘ کا ٹیزر 17 جولائی کو جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد فلم تنازع کا شکار ہوگئی۔ سلمان خان کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست کے مطابق تقریباً دو منٹ کے ٹیزر میں ایان خان نامی ایک فرضی سپر اسٹار کردار دکھایا گیا ہے، جس کے بارے میں اداکار کا دعویٰ ہے کہ اسے واضح طور پر ان کی شخصیت سے مشابہ بنایا گیا ہے۔
ٹیزر کا آغاز عدالت کے ایک منظر سے ہوتا ہے جہاں ایک سپر اسٹار پر کالے ہرن کو مبینہ طور پر ہلاک کرنے کے الزام میں مقدمہ چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس کے بعد گواہوں کے بیانات، فرانزک شواہد اور گواہوں کو دھمکانے یا انہیں ترغیب دینے جیسے واقعات کو بھی ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
سلمان خان نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ فلم کی تشہیر میں ان کی شخصیت کو اجازت کے بغیر تجارتی مقصد کے لیے استعمال کیا گیا، جس سے ان کے شخصی حقوق اور ساکھ متاثر ہوسکتی ہے۔
سپریم کورٹ میں معاملہ کیوں اہم ہے؟
پروڈیوسر کی اپیل میں بنیادی سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ کسی معروف شخصیت کے شخصی حقوق اور فلم ساز کے تخلیقی و اظہارِ رائے کے حق کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ امیت جانی کا کہنا ہے کہ شخصی حقوق کو بنیاد بنا کر تخلیقی مواد پر ایسی پابندی نہیں لگنی چاہیے جو مستقبل میں فلم سازی اور صحافتی اظہار کے لیے مثال بن جائے۔
اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچنے کے بعد ’کالا ہرن‘ کے ٹیزر اور فلم کی تشہیری مہم کا مستقبل عدالت کے آئندہ فیصلے سے جڑا ہوا ہے۔