برطانیہ میں بجلی کے بلوں سے شہری پریشان؛ مہنگائی 2.9 فیصد تک پہنچ گئی

گزشتہ ماہ گھریلو توانائی کے نرخوں کی حد میں 13 فیصد اضافہ نافذ کیا گیا 

گزشتہ ماہ گھریلو توانائی کے نرخوں کی حد میں 13 فیصد اضافہ نافذ کیا گیا 

برطانیہ میں مہنگائی کی سالانہ شرح جولائی میں بڑھ کر 2.9 فیصد ہوگئی جس کی بڑی وجہ گھریلو توانائی کے بلوں میں نمایاں اضافہ ہے۔

برطانوی ادارہ برائے قومی شماریات (او این ایس) کے مطابق جون میں صارف قیمتوں کے اشاریے کے تحت مہنگائی 2.6 فیصد تھی جو جولائی میں بڑھ کر 2.9 فیصد ہوگئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ گھریلو توانائی کے نرخوں کی حد میں 13 فیصد اضافہ نافذ کیا گیا جس کے باعث گیس اور بجلی کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا۔

او این ایس نے گیس کی قیمتوں میں اس اضافے کو تقریباً چار سال کے دوران سب سے بڑا اضافہ قرار دیا ہے۔

برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور توانائی کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر برطانیہ میں بھی روزمرہ اخراجات پر پڑ رہا ہے۔

حکومت نے بڑھتے ہوئے مہنگائی کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے بجلی کے گھریلو نرخوں میں ٹیکس کمی اور بس کرایوں کی حد مقرر کرنے سمیت مختلف اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی وزیر خزانہ جان ہیلی نے کہا کہ ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والی مہنگائی کا اثر ملک میں قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

تاہم انھوں نے برطانوی معیشت کو مضبوط قرار دیتے ہوئے مزید اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ توانائی کے بلند اخراجات آنے والے مہینوں میں بھی مہنگائی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خصوصاً اس صورت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے کوئی واضح پیش رفت سامنے نہ آئے۔

Load Next Story