نئے سیاسی تقاضے
salmanabidpk@gmail.com
وزیر داخلہ محسن نقوی کو اسی حکومتی سیاسی بندوبست میں کلیدی حیثیت حاصل ہے اور بے شمار معاملات میں کئی اہم وزرا سے وہ زیادہ بااثر بھی ہیں اور زیادہ اختیارات بھی رکھتے ہیں۔ان کو اسٹیبلیشمنٹ کے قریب بھی سمجھا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر ان کو حکومتی امور میں نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔حالیہ امریکا ایران جنگ کے تناظر میں ہم نے ان کی عالمی سفارت کاری کے منظر بھی دیکھے ہیں جس میں انھوں نے ان معاملات میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہر ہ کیا اور بالخصوص ایران کے ساتھ بات چیت میں ان کی سفارت کاری کو داد دینی ہوگی۔کیونکہ یہ عالمی سطح پر ایک بڑا حساس معاملہ تھا اور پاکستان اس میں ایک بڑی سہولت کاری کے طور پرتھا تواس میں ہماری کامیابی نے عالمی سطح پر ہماری اپنی ساکھ کو بہتر بنایا۔
محسن نقوی کے مسلسل دورے ایران اور ایرانی قیادت سے مسلسل رابطے اور پاکستان ایران کے درمیان پیغام رسانی نے ہماری ان معاملات کے حل میں بڑی مدد کی۔ ان کا کمال یہ ہے کہ وہ خود بولتے کم ہیں اور پس پردہ کام کرنے کے عادی ہیں اور اسی بنیاد پر ان کو حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے اور انھوں نے واقعی سفارت کاری کے محاذ پر شاندار کام کرکے اپنی ذمے داری کو خوب اداکیا ہے۔سفارت کاری کا محاذ جذباتی نعروں پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ اس میں خاموش سفارت کاری اور مختلف فریقوں کو جوڑ کر رکھنا اور بات چیت کے عمل کو جاری رکھ کر تناؤ کی کیفیت کو کم کرنا اور اعتماد سازی کے عمل کو بحال کرکے تنازعات کا خاتمہ کرنا اہم ہوتا ہے۔حالیہ امریکا اور ایران تنازعہ معمولی نہیں تھا اور اس میں ایران نے جس طرح سے امریکا کے بارے میں سخت موقف اختیار کیا اور اس پر اسے امریکا سے دو طرفہ بات چیت پر لانا اور کسی متفقہ ایجنڈے پر پہنچنا کوئی آسان عمل نہیں تھا اور اس میں ہماری سیاسی اورعسکری قیادت سمیت محسن نقوی کا بھی کردار اہمیت رکھتا ہے۔
اسی طرح محسن نقوی کا ایک اور کردار داخلی سیاست کی بنیاد پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔جس طرح سے انھوں نے پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کے ساتھ بالخصوص خیبر پختونخوا میں وزیر اعلی سمیت پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور علی امین گنڈا پور کے ساتھ معاملات میں افہام و تفہیم کی سیاست پیدا کرنے اور تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کی، وہ بھی اس سیاسی تقسیم میں اہمیت رکھتی ہے اور اس سے کچھ کشیدگی میں بھی کمی آئی ہے اور کسی نہ کسی سطح پر بات چیت کے دروازے بھی کھلے ہیں اور پس پردہ بات چیت کا عمل بھی جاری ہے۔
پی ٹی آئی کی قیادت بھی مسلم لیگ ن کی قیادت کے مقابلے میں محسن نقوی سے بات چیت کے معاملات میں زیادہ آسانی محسوس کرتی ہے اور اس کی وجہ ان کی اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ قربت اورلچکدار رویہ ہے اور مسلم لیگ ن کی قیادت کو سیاسی حریف سمجھتی ہے۔ بالخصوص دہشت گردی جیسے سنگین مسائل کا علاج بھی تلاش کرنا ہے جس میں بلوچستان کے معاملات سرفہرست ہیں اور ہمیں افغانستان سے بھی جو خطرات ہیں یا بھارت اور افغانستان کا پاکستان مخالف باہمی گٹھ جوڑ ہے اس میں وزیر داخلہ محسن نقوی کو اب اپنا ایک بڑا کردار ادا کرنا چاہیے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک کمال یہ بھی کیا ہے کہ پچھلے دنوں ملک کے سیاسی اور بالخصوص انتظامی ڈھانچوں پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ان کی موجودگی میں ہمارا اچھی حکمرانی کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکے گا۔ان کے بقول اگلے چالیس برس بعد بھی ان ہی مسائل میں ہم موجود رہیں گے اور حل تلاش نہیں کرسکیں گے۔ ان کے بقول اچھی حکمرانی کے لیے ہمیں نئے صوبے، نئے انتظامی یونٹس اور مقامی حکومتوں پر توجہ دینی ہوگی۔اگرچہ یہ بحث پہلے بھی موجود تھی لیکن اس بحث کے بعد اس نے قومی سیاست میں نئی بحث یا حکمرانی کے نظام کی عملی درستگی کو جنم دیا ہے۔پچھلے کچھ عرصہ سے لاہور،کراچی اور اسلام آباد میں اس موضوع پر جتنی کانفرنسیں ہورہی ہیں یا ٹی وی مباحثہ اس میں عملاً حکمرانی کے نظام کی درستگی اور مختلف نقطہ نظر کا سامنے آنا اچھی بحث ہے۔کیونکہ ان مباحث میں ایک نقطہ یہ سامنے آرہا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومت نے اپنے اپنے صوبوں میں خود مختار مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط نہیں کیا جس سے مقامی سطح پر حکمرانی کا بحران سنگینی کا منظر پیش کررہا ہے اور اگر صوبائی حکومتیں اپنی ذمے داری ادا کرتیں تو عملاً نئے صوبوں کی بحث کو زیادہ شدت نہ ملتی۔اگرچہ نئے صوبوں کی تشکیل میں موجودہ آئین میں کافی مشکل راستے ہیں،اگرچہ آئین نئے صوبوں کی اجازت دیتا ہے لیکن یہ مشروط ہے پہلے صوبے کی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت اور پھر قومی اسمبلی اور سینیٹ کی منظوری سے مشروط ہے۔اس لیے اگر موجودہ حالات میں اسے منظور ہونا ہے تو اس میں پیپلز پارٹی،مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں۔اشارے یہ ہیں کہ اس عمل میں تینوں بڑی جماعتوں میں اتفاق رائے کو پیدا کرنے کے لیے وزیر داخلہ محسن نقوی خود بھی مفاہمت میں پس پردہ اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ ان کی صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف اور پی ٹی آئی کی قیادت سے ملاقاتوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔یہ اچھی بات ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل پر سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان کوئی راستہ نکل سکے ۔کیونکہ جو کام بھی مفاہمت کی بنیاد پر ہوگا، اس کی سیاسی ساکھ ہوگی۔اسی طرح اگر فوری طور پر نئے صوبے نہیں بنتے تو کیسے انتظامی یونٹس کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے اس پر بھی بحث ہونی چاہیے۔ نئے صوبوں کی بحث کا یہ اچھا نتیجہ سامنے آیا کہ صوبائی حکومتوں کی جانب سے کم ازکم مقامی حکومتوں کے نظام کی افادیت اور اہمیت پر بات ہو رہی ہے۔کیونکہ صوبائی حکومتیں سمجھتی ہیں کہ اگر ہم نے صوبوں کی تقسیم کو روکنا ہے توہمیں فوری طور مقامی حکومتوں کے نظام پر زور دے کر نئے صوبوں کی بحث کو کمزور کرنا ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہی ہے کہ ہماری بڑی سیاسی جماعتیں اور صوبائی حکومتیں اختیارات کی سیاسی، انتظامی اور مالی تقسیم کے خلاف ہیں۔وہ عدم مرکزیت کے مقابلے میں صوبائی مرکزیت کی حکومت چاہتی ہیں جہاں تمام تر اختیارات صوبائی حکومت اور وزیر اعلی کے پاس ہوں۔ یہ ہی وہ خرابی ہے جو ہمارے گورننس کے نظام اور سیاسی جماعتوںکے طرز عمل میں موجود ہے ۔ ہمیں اپنے گورننس کے نظام کے لیے ایک جامع تبدیلی یا سرجری کی ضرورت ہے۔ آپ محسن نقوی کی باتوں سے لاکھ اختلاف کریں لیکن گورننس کے نظام کی جن خرابیوں کی نشاندہی انھوں نے کی ہے ، ہم اسے نظر انداز نہیں کرسکتے،کیونکہ ہمیں غیر معمولی حالات میں غیر معمولی تبدیلیوں کی ضرورت ہے اور اس کے لیے قومی سطح پر ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ درکار ہے۔ ہمارا داخلی بحران بڑا ہے اور اس بحران سے نمٹنے کے لیے ہمیں ٹھوس حکمت عملی اور اتفاق رائے درکار ہے اور یہ عمل کسی بھی صورت میں سیاسی تقسیم اور سیاسی ٹکراؤ میں ممکن نہیں ہوگا۔ لیکن یہ سب کام قومی سطح پر ایک بڑے اتفاق رائے کی سیاست سے جڑا ہوا ہے اور مسائل کے حل کے لیے ہمیں روائتی حکمرانی کے فرسودہ طریقوں سے باہرنکلنا ہوگا۔