سسکتا انصاف
کورٹ صرف ایک عمارت نہیں، بلکہ انصاف کی فراہمی کی علامت اور سائلین کی امیدوں کا مرکز بھی ہے۔ یہاں دور دراز علاقوں سے روزانہ ہزاروں شہری آتے ہیں۔ کوئی بچوں سے ملاقات کے لیے آتا ہے تو کوئی بچوں کے نان و نفقہ اور وراثت کے حصول کے لیے۔ کوئی جائیداد کے تنازع کا حل چاہتا ہے تو کوئی کسی بے گناہ کی رہائی کے لیے عدالت کی سیڑھیاں ناپتا نظر آتا ہے۔ جب یہی دروازے ہڑتال کے باعث بند ہو جائیں تو سب سے زیادہ نقصان بھی وکلا اور عام شہریوں ہی کا ہوتا ہے، جن کے لیے انصاف کا حصول پہلے ہی ایک طویل اورصبر آزما دینے والا مرحلہ ہے۔
عدالتوں اور وکلا کا جو وقار مجروح ہوتا ہے، اسے سمجھنے سے بھی ہم قاصر ہیں۔راقم 26 سال قبل جب وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوا تھا تو عدالتوں کا ماحول کافی بہتر تھا۔ پروفیشنل اور اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل وکلا سیاست میں حصہ لیتے تھے اور اپنی اہلیت کی بنیاد پر منتخب ہوا کرتے تھے۔ ان کے دمِ قدم سے بینچ اور بار کی حرمت قائم تھی۔ خاص طور پر کراچی بار، جو ایشیا کی سب سے بڑی بار ہے، نے دیگر بارز کی رہبری اور رہنمائی کا کردار بخوبی ادا کیا ہے۔ قانون کی سربلندی کے لیے بڑی بڑی جانی و مالی قربانیاں پیش کی گئیں۔ کسی طالع آزما ڈکٹیٹر کو کراچی بار سے خطاب کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ وکلا تنظیموں کے انتخابات ہر دور اور ہر قسم کے حالات میں بروقت ہوتے رہے ہیں، لیکن اس مرتبہ یہ پہلا موقع ہے کہ انتخابات کئی مرتبہ التوا کا شکار ہوئے ہیں۔
2000 کے بعد سے عدالتوں کا ماحول منظم طور پر تباہ و برباد کیا گیا۔ انتخابات میں رشتوں، رشوتوں اور پیسے کا استعمال لعنت بن چکا ہے۔ تجاوزات مافیا، جعلی وکیل، جعلی جسٹس آف پیس، جعلی اوتھ کمشنر، جعلی نوٹری پبلک، بلینک تصدیق شدہ طلاق نامے، کرایہ نامے، سیل ایگریمنٹس، جعلی ضمانتیں، جعلی گواہ، جعلی قاضی و نکاح خواں اور جعلی کورٹ میرج، سب کچھ کھلے عام میسر ہے۔ سائلین کو مارنا پیٹنا، ہراساں کرنا، اغوا کرنا اور مخالف فریقین پر حملہ کرنا وغیرہ روزمرہ کا معمول بنتا جا رہا ہے۔یہاں مختلف قسم کی پیشہ ورانہ، سماجی، سیاسی، مذہبی، لسانی، ثقافتی اور رفاہی تنظیمیں سرگرمِ عمل ہیں۔ ان کے کیمپ لگے ہوتے ہیںجس کی وجہ سے وکلا اور سائلین کا راستوں سے گزرنا بھی محال ہو جاتا ہے، بعض اوقات عدالتی کارروائیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔
غیر پیشہ ورانہ سرگرمیاں اور بات بات پر غیر ضروری اور طویل دورانیے کی ہڑتالیں، وکلا، ججز اور سائلین کے لیے درد سر بن چکی ہیں، جن کا وکلا، بار یا عدلیہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ کبھی کسی کی ایف آئی آر درج نہ ہونے پر، کبھی تھانے اور شاہراہوں پر لڑائی جھگڑوں پر، کبھی کسی پولیس افسر یا جج کے تبادلے کے لیے ہڑتال کی جاتی ہے اور حد تو یہ ہے کہ چند سال قبل وکلا اور کورٹ اسٹاف کے درمیان تنازع میں عدالتیں، وکلا اور کورٹ اسٹاف آمنے سامنے نبرد آزما رہے۔ اس طویل تنازع کے دوران کورٹ میں سنگ باری بھی کی گئی، کئی دن کام التوا کا شکار رہا اور سائلین کا کورٹ میں داخلہ ممنوع رہا۔ ایک مرتبہ کورٹ اسٹاف نے بھی اپنے مطالبات کے حق میں طویل ہڑتال کی۔
حیرت اور افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ اس دوران عدالتی مقدمات کی ڈائریوں میں یہ تحریر کیا جاتا ہے کہ ’’بار ہڑتال کی وجہ سے کیس ملتوی کیا جاتا ہے۔‘‘ لازمی اور اہمیت کے حامل اداروں میں ملازمین کی ہڑتالوں پر قانونی طور پر پابندی عائد ہوتی ہے، مگر پھر بھی پی آئی اے اور ڈاکٹرز و پیرا میڈیکل اسٹاف ہڑتال کرتے رہتے ہیں۔ تاہم، قانون دان طبقے کو ’’سپریمیسی آف لا اینڈ کانسٹیٹیوشن‘‘ کو خاص طور پر مدنظر رکھنا چاہیے، جو ماضی میں ہمارا وتیرہ رہا ہے، جب وکلا کو ’’کریم آف سوسائٹی‘‘ سمجھا جاتا تھا۔حالیہ ہڑتالوں کے حوالے سے کراچی بار کے سابق جنرل سیکریٹری اور ایڈمنسٹریٹر خالد ممتاز ایڈووکیٹ کا ویڈیو بیان بھی سامنے آیا، جس میں انھوں نے ہڑتال کلچر کے رویے کی مذمت کرتے ہوئے ہڑتالوں کے خلاف مزاحمت کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایسے رویہ اس پیشے کے وقار سے مطابقت نہیں رکھتے، وکیل کو دلیل، برداشت اور قانون کی حکمرانی کا علمبردار سمجھا جاتا ہے۔ خالد ممتاز نے اپنے دورِ انتظام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پانچ ماہ تک عدالتوں میں کوئی تصادم نہیں ہوا، نہ پولیس اسٹیشنوں میں جھگڑے ہوئے اور نہ ہی کسی نوعیت کی ایف آئی آر درج ہوئی۔ کسی بھی احتجاج میں پولیس اہلکاروں کو عدالتوں میں داخل نہ ہونے دینا کس حد تک قانونی اور آئینی عمل ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے، جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ تھانوں، سڑکوں اور دیگر عوامی مقامات پر وکلا کے جھگڑوں اور لڑائیوں کے واقعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ اس طرح کا کلچر اگر پروان چڑھتا رہا تو خدانخواستہ کسی بھی وقت مسلح تصادم یا دہشت گردی کا واقعہ رونما ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انتخابات میں پیسے کی ریل پیل اور فائرنگ جیسے واقعات اس پورے ماحول کے لیے خطرناک بنتے جا رہے ہیں۔اس پورے معاملے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس قسم کے تنازعات کی قیمت عام وکلا اور قانون پسند شہری اسی طرح ادا کرتے رہیں گے؟
راقم گزشتہ 25 سالوں سے روزنامہ ایکسپریس میں خاص طور پر قانون، صحت، تعلیم اور سماجی انصاف کے موضوعات پر ان گنت کالم تحریر کر چکا ہے۔ کئی مرتبہ دل برداشتہ و مایوس بھی ہو جاتا ہے، لیکن اپنا فرضِ کفایہ جانتے ہوئے اپنا فرض نبھانے میں لگا رہتا ہے۔ بہرحال، اب وقت آچکا ہے کہ بار، بینچ اور وکلا، خصوصاً سینئر وکلا، دل برداشتہ و مایوس ہونے کے بجائے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں، ورنہ وکلا کے متحارب گروپوں اور پولیس و انتظامیہ کے درمیان تصادم اور دہشت گردی کے واقعات بھی رونما ہو سکتے ہیں۔وکالت ایک معزز پیشہ ہے اس کا احترام سب وکلا پر لازم ہے۔