دھمکیاں، ہٹ دھرمی اور بے بس عوام
m_saeedarain@hotmail.com
گورنر سندھ کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں گڈز ٹرانسپورٹرز نے اپنی ہڑتال چالیس روز کے لیے موخر کر دی اور حکومت نے مذاکرات کو کامیاب قرار دیا۔ کچھ مطالبات فوری حل، کچھ بیس روز بعد حل کرانے کی حکومتی یقین دہانی پر ملک میں جاری گڈز ٹرانسپورٹرز کی 8 روزہ ہڑتال عارضی طور پر اس شرط پر ختم کی گئی اور دھمکی دی گئی کہ وعدے پورے نہ ہوئے تو پھر احتجاج ضرور ہوگا۔ ان مذاکرات کے ساتھ پٹرولیم ڈیلرز کے بعد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا بھی مطالبہ سامنے آ گیا کہ فی لیٹر پرافٹ مارجن 7.87 سے بڑھا کر دس روپے کیا جائے۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا کہ جائز مطالبات ضرور پورے کیے جائیں گے۔
جماعت اسلامی کے زیر اہتمام پٹرولیم لیوی جس کو وہ بھتہ ٹیکس قرار دیتی ہے کراچی، لاہور اور پشاور میں دھرنے اور احتجاجی مارچ کرکے قومی شاہرائیں بند کی گئیں اور پشاور میں 15 روزہ دھرنے کا شیڈول بھی جاری کیا گیا۔ جماعت اسلامی نے سرکاری بھتہ ٹیکس ختم کرنے کے لیے حکومت کو پیشگی دھمکی دی تھی مگر حکومت ان دھمکیوں میں نہیں آئی اور احتجاج و دھرنے جاری رہنے کا کہہ دیا گیا ہے جس پر حکومت ہی نہیں الٹی گنتی کا الاپ الاپنے والی پیپلز پارٹی، اپنے بانی کی رہائی کی کوشش میں مصروف پی ٹی آئی، حکومت میں شامل کسی پارٹی کو حکومت کا جبری طور لیوی وصول کرنا یاد نہیں اور پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی یہ ذمے داری یہ کہہ کر پہلے ہی پوری کر دی تھی کہ پٹرولیم لیوی عائد کرنے کا 2022 کا فیصلہ ملک میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے سبب کیا گیا تھا اور اس حکومتی فیصلے میں خود بلاول بھٹو بھی بطور وزیر خارجہ شامل تھے مگر مزید سیلاب نہ آنے پر بھی حکومت نہ صرف لیوی جبری طور وصول کرتی آ رہی ہے اور ختم کرنا تو دور کی بات کمی بھی نہیں کر رہی اور عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمت کم ہوتی ہے تو حکومت لیوی بڑھا دیتی ہے تاکہ عوام کو فائدہ نہ ہو سکے اور وہ بدستور مہنگا پٹرول خرید کر حکومتی آمدنی بڑھاتے رہیں کیونکہ بے بس عوام کچھ اور کر ہی نہیں سکتے۔
گڈز ٹرانسپورٹرز ہوں یا پبلک ٹرانسپورٹ کے مالکان پٹرولیم ڈیلرز ہوں یا آئل مارکیٹنگ کمپنیاں سب دھمکی دے کر اپنے مطالبات منوا ہی لیتے ہیں صرف عوام ہی مکمل طور بے بس ہیں جو نہ حکومت کو دھمکیاں دے سکتے ہیں اور نہ ہڑتال کر سکتے ہیں اور عوام میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس کے پاس پیسہ ہے اور وہ ہڑتال کے باعث اشیائے خوردنی کی عارضی قلت پیدا ہونے پر وافر مقدار میں یہ مہنگی اشیا خرید کر اپنے گھروں میں ان کا ذخیرہ کر لیتا ہے۔
قرضوں میں جکڑے اور مہنگائی میں پھنسے بے بس عوام کے پاس اتنی رقم بھی نہیں ہوتی کہ وہ اپنی روز کی ضرورت کی چیزیں خرید کر گزارا کر سکیں۔ بے بس عوام کے اختیار میں صرف اتنا ہے کہ وہ اپنی خریداری محدود کر لیں اور وہ یہی کچھ کر سکتے ہیں ہڑتال تو کیا وہ اپنی آواز بھی اجتماعی طور بلند نہیں کر سکتے۔
ٹرانسپورٹروں سمیت اجتماعی آواز اٹھانے والوں کی تو حکومت 8 روز کی ہڑتال ختم یا موخر کرانے کے لیے سن ہی لیتی ہے مگر انفرادی طور پر اپنے اہل خانہ یا جاننے والوں کے آگے مہنگائی کا رونا رونے والوں کی حکومت نے کبھی سنی نہ سنے گی، کیونکہ قیمتوں پر کنٹرول اب وفاقی نہیں صوبائی مسئلہ ہے اور صوبائی حکومتیں گیارہ ماہ سونے کے بعد صرف رمضان المبارک میں جاگتی ہیں۔ رمضان المبارک میں عوام کو عارضی فائدہ ہوتا ہے اور حکومتوں کو اربوں روپے کی فاضل آمدنی ہو جاتی ہے جو سرکاری افسران گراں فروشوں پر جرمانے وصول کرکے بڑھاتے ہیں اور یہ جرمانہ بھی بعد میں عوام سے ہی وصول ہوتا ہے۔
عوام تو بے بس، مجبور اور لاچار ہیں جو مہنگائی کم یا ختم کرانے کے لیے اپنی آواز بلند نہیں کر سکتے جو غیر سیاسی بھی زیادہ ہیں اور اپنے سیاسی کارکنوں کے ذریعے آواز بننے کی ضرورت کبھی مسلم لیگ (ن)، پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کی قیادت نے بھی محسوس نہیں کی اور یہ احتجاج صرف جماعت اسلامی اور مرکزی مسلم لیگ کر رہی ہیں جو مذہبی اور سیاسی بھی ہیں باقی جماعتیں عوام کی بے بسی سے لاتعلق رہ کر صرف اپنے اپنے مفاد کی سیاست کر رہی ہیں۔ پنجاب میں مقبولیت کی دعویدار مسلم لیگ (ن)، سندھ میں پیپلز پارٹی اور کے پی میں پی ٹی آئی کو اپنے صوبوں میں مہنگائی سے سروکار ہے نہ عوام کا احساس وہ بے بس عوام کو صرف انتخابات کے موقع پر یاد کرتی ہیں۔ بلوچستان میں تو سدا سرداروں اور جاگیرداروں کا اقتدار رہا ہے جو عوام کو صرف اپنی رعایا سمجھتے ہیں جو ان کی محکوم ہے۔
حکمرانوں کو صرف اپنے ارکان اسمبلی، بیورو کریٹس اور خاص کر ججز حضرات کا خصوصی طور پر خیال ہے جن پر حکومت نے دوبارہ مہربان ہو کر ان کی نہ صرف تنخواہ بڑھائی بلکہ اس کا اطلاق بھی ماضی سے کیا ہے۔ عوام کا کیا ہے وہ تو سرکار کے بقول ساڑھے آٹھ ہزار روپے ماہانہ پر گزارا کر ہی لیتے ہیں تو ان کی فکر حکومت کیوں کرے؟
حکومت کو بھی پتا ہے کہ برسوں سے بے بس عوام بے بس ہی رہیں گے اور مہنگائی پر احتجاج وہ کبھی کرنے کی سکت نہیں رکھتے، اس لیے جہاں حکومت کا مفاد ہے صرف انھی کا خیال حکومت کو ہے جو کبھی تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ بھی نہیں کرتے اور ارکان اسمبلی بھی مطالبے نہیں اپنی تنخواہیں اور مراعات بڑھانے کے فیصلے متحد ہو کر بلاامتیاز خود ہی کر لیتے ہیں۔ بے بس عوام کبھی اپنی مرضی سے ووٹ دینے کا فیصلہ کر لیا کرتے تھے ،اس میں بھی عوام کی دلچسپی برائے نام رہ گئی ہے۔ عوام کی دلچسپی دکھانے اور ووٹنگ کی شرح بڑھانے کا کام بھی الیکشن والے خود کر لیتے ہیں اور حکومتیں بن جاتی ہیں ویسے بھی اب پی پی عوامی حکومت کا دعویٰ بھول چکی ہے۔