یوم آزادی کے بعد گندم کی درآمد
ہر سال 14 اگست کی صبح ملک بھر میں سبز ہلالی پرچم لہرائے جاتے ہیں، بچے جھنڈیاں لیے دوڑتے ہیں، گاڑیوں پر سبز پرچم لگے ہوتے ہیں اور لوگ بھی بخوبی سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ آزادی صرف سرحد پر کھینچی ہوئی ایک لکیر کا نام نہیں۔ آزادی ایک قوم کے اپنے فیصلے خود کرنے کا نام ہے، مگر اسی ملک کے معاشی دارالحکومت کراچی کی بندرگاہ پر ایک اور منظر نظر آتا ہے جہاں بڑی مقدار اور تعداد میں درآمدی اشیا کے کنٹینرز نظر آتے ہیں اور برآمدی اشیا کے کنٹینرز بہت ہی کم نظر آتے ہیں۔
اس کو معیشت کی زبان میں بیان کرتے ہوئے اگر اعداد و شمار میں تولا جائے تو وہ کچھ یوں کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹ اسٹکس کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی برآمدات تقریباً 30.14 ارب ڈالر رہیں جب کہ درآمدات 69.76 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ نتیجہ 39.62 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ اب ذرا اس فرق کو محسوس کیجیے، دنیا سے ہم نے 30 ارب ڈالر کمائے مگر دنیا سے خریدنے کے لیے تقریباً 70 ارب ڈالر خرچ کیے۔
ہماری معیشت کا یہ سوال محض یہ نہیں ہے کہ ہم غریب کیوں ہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ ہم دنیا کو زیادہ بیچتے کیوں نہیں۔ تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ 2025-2026 کی نسبت 2024-25 کی برآمدات 32.04 ارب ڈالر سے کم ہو کر 30.14 ارب ڈالر رہ گئیں یعنی 5.93 فی صد کمی۔ یہ 6 فی صد کی کمی آخر کیوں ہوئی، کارخانوں میں اگر 6 فی صد کام کم ہوا، پیداوار میں کمی آئی، برآمدی آرڈرز کم موصول ہوئے، آخر کیا ہوا؟ کیا پہلے ہی برآمدات اتنے زیادہ تھے کہ 6 فی صد کمی کو ٹالنا پڑا۔ نہ کوئی انکوائری بورڈ بنا، نہ کمیٹی قائم ہوئی، نہ تحقیقات کی زحمت، نہ وجوہات کا تذکرہ، نہ خامیوں کا پتا لگایا گیا، بس مالی سال کا اختتام ہو گیا، قصہ ماضی بن گیا۔ بات آئی گئی اور ختم ہو گئی، اگر اسی طرح لاپرواہی برتی گئی تو ہو سکتا ہے رواں مالی سال کا اختتام 28 ارب ڈالر کا ہو۔
اس کے برعکس درآمدات 64.51 ارب ڈالر سے بڑھ کر 59.76 ارب ڈالر ہو گئیں، یعنی 8.14 فی صد کا اضافہ نوٹ کیا گیا۔ یہ صرف درآمد اور برآمد کے دو اعداد نہیں ہیں یہ دو راستے ہیں ایک آمدنی کا ہے ایک سے کیا ہم نے کمایا، کتنے ڈالرز ملک میں آئے، دوسرا درآمدات کا مطلب کیا خرچ کیا، کتنے ارب ڈالر اشیا تعیشات لگژری گاڑیاں، قیمتی موبائل فونز اور اشیائے خوراک کی درآمد پر خرچ ہوگئے۔ رواں مالی سال دنیا کے بہترین نہری نظام والے زرعی ملک کو یہ اعزاز حاصل ہوگا کہ ابتدائی طور پر 10 لاکھ ٹن گندم کی درآمد کر لی جائے گی اور سال بھر میں معلوم نہیں مزید کتنے لاکھ ٹن گندم درآمد کی جائے۔ حکومت کم از کم آٹے کی قیمت ہی کنٹرول کر لے۔ اپریل تک آٹا 110 روپے فی کلو دستیاب تھا۔ پھر نئی فصل بھی آ گئی لیکن قیمت بڑھ گئی۔ آٹا فی کلو اب 160 سے 170 روپے میں مل رہا ہے۔
اس سے قبل بھی اس بات کا تذکرہ کر چکا ہوں۔ بات دراصل یہ ہے کہ بار بار تذکرہ کرنا پڑتا ہے کیوں کہ روٹی تو ہماری بنیادی غذا ہے، اگر ایک تندوری روٹی پہلے 20 روپے فی روٹی دستیاب تھی، اب 25 روپے کی ہو گئی ہے، برآمدات میں کمی آ رہی ہے، کارخانے بند ہو رہے ہیں، مزدور بے روزگار ہو رہے ہیں، میں تو غریب کی کہانی لکھتا ہوں، غریب کا مقدمہ کاغذوں پر لڑنا ہے، ایک غریب جو پہلے 100 روپے کی 5 روٹیاں خریدتا تھا، اب بھی اس کی جیب وہی ہے، معاش وہی ہے، کمائی اتنی ہی ہے، قوت خرید اتنی ہی ہے، روٹی خریدنے کے لیے اس کے پاس 100 روپے ہی ہیں۔
اب بھلا بتائیے 100 روپے کی اسے 4 روٹیاں ہی ملیں گی ناں۔ اب وہ خود کیا کھائے گا اس کے بچے کیا کھائیں گے، پھر کہتے ہیں بچے قلت خوراک کا شکار ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ڈھائی سے تین بھی ہو جائیں گے۔ اگر اسی طرح روٹی کی قیمت بڑھتی رہی۔ پھر والدین اپنے دس گیارہ سال کے بچے کو کہیں ہوٹل پر کہیں ورکشاپ کہیں گھروں میں ملازم، کہیں دکان پر بھیجیں گے تاکہ وہ ایک روٹی کی کمی کو پورا کر سکیں۔
اس طرح معاشرے میں کئی قباحتیں در آئی ہیں اسکول سے باہر رہنے والے بچوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا، بچے قلت خوراک کا شکار بنتے چلے جائیں گے۔ اس کے بعد اصل کہانی شروع ہوتی ہے، وہ ہے چائلڈ لیبر کا طعنہ۔ اس کے لیے اہل یورپ شرطیں لگاتے ہیں، آج سے کئی سال قبل جب ہمیں یورپ سے تجارتی مراعات حاصل ہوئی تھیں، اس کے لیے کتنی سخت ترین شرطیں عائد کی گئی تھیں جن میں چائلڈ لیبر کی شرط بھی وہ ملک لگا رہے ہیں جہاں خوراک سب سے زیادہ ضایع کی جاتی ہے اور قانون اس ملک پر لگایا جا رہا ہے جہاں لوگ قلت خوراک کا شکار ہیں۔ کوئی صبح خالی پیٹ مزدوری پر چلا جاتا ہے، اگر ملک میں گندم کی کمی ہو گئی ہے تو بات 10 لاکھ ٹن گندم کی درآمد سے نہیں بنے گی۔ دوران سال مزید گندم درآمد کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ اس لیے حکومت اپنے زرعی اعداد و شمار پر نظر ثانی کرے اور حقائق کے مطابق درآمد کا بندوبست کرے ورنہ آٹے کی قیمت میں مزید اضافہ ہو کر رہے گا۔
ادھر یہ بھی رپورٹ آ رہی ہے کہ ملک میں نئی شوگر ملوں کے قیام کے باعث ٹیکسٹائل، جننگ فیکٹریاں اور آئل ملیں کم ہو رہی ہیں۔ کہیں بند ہو رہی ہیں، کہیں ان میں کام کم ہو رہا ہے۔ یہاں پر زرعی منصوبہ بندی کا فقدان ہے، ملک کو کتنی چینی کی مقدار کی ضرورت ہے، اس سے زائد پیداوار حاصل کرکے برآمد کرنے سے زیادہ فائدہ ہوگا یا ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ترقی دینے سے زیادہ ڈالر سمیٹے جا سکتے ہیں۔ اصل بات تو یہی ہوتی ہے کہ کون سی پیداوار میں اضافہ ملک کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے، اگر یہی حال رہا تو رواں مالی سال برآمدات میں مزید کمی اور درآمدات میں مزید اضافہ ہو کر رہے گا، پھر تجارتی خسارے میں اضافہ ملکی معیشت کو مزید کمزور کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔